صدر ٹرمپ کی ایک مبہم پوسٹ میں ایران کو دی گئی ڈیڈلائن میں توسیع
صدر ٹرمپ کی ایک مبہم پوسٹ میں ایران کو دی گئی ڈیڈلائن میں توسیع
پیر 6 اپریل 2026 6:25
28 فروری کو ایران پر امریکہ و اسرائیل کے حملوں کے بعد سے لڑائی جاری ہے (فوٹو: اے ایف پی)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بظاہر ایران کو دی گئی اس ڈیڈلائن میں 24 گھنٹے کا اضافہ کر دیا ہے جس میں اسے آبنائے ہرمز کھولنے، معاہدہ کرنے یا پھر انفراسٹرکچر تباہ کن حملوں کا سامنا کرنے کے آپشنز شامل ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک اتوار کو ایک پوسٹ میں ’منگل رات آٹھ بجے، ایسٹرن ٹائم‘ لکھا۔
جس کا مطلب جی ایم ٹی کی مناسبت سے بدھ کو رات 12 بنتا ہے اس حساب سے ایران کو مزید 24 گھنٹے مل گئے ہیں جس میں وہ امریکی رہنما کو منانے کی کوشش کرے یا پھر اپنے پاور پلانٹس اور پلوں کو خطرے میں ڈالے۔
28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد سے جہاں جنگ کا آغاز ہوا وہیں ایران نے تیل کی عالمی تجارت کے حوالے سے انتہائی اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز کو مؤثر طور پر بند بھی کر رکھا ہے۔
صدر ٹرمپ جو بدھ کو قوم سے خطاب کے بعد کسی عوامی تقریب میں شرکت کرتے ہوئے نہیں دیکھے گئے، نے وال سٹریٹ جرنل سے گفتگو میں ایسے تاثر کی تصدیق کرتے نظر آئے جس میں ایران کے لیے نئی مہلت کی فراہم دکھائی دی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم ایک مضبوط پوزیشن میں ہیں اور اگر وہ خوش قسمت ہوئے اور ان کے پاس ملک باقی رہا تو اس کی تعمیر نو میں 20 برس لگیں گے۔‘
انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’اگر انہوں نے منگل کی رات تک کچھ نہیں کیا تو ان کے پاس بجلی گھر ہوں گے اور نہ ہی کوئی پل سلامت رہے گا۔‘
امریکی صدر نے ایران میں پھسنے والے ایئرمین کو ڈرامائی انداز میں بچانے کے بعد میڈیا کے مختلف اداروں کے ساتھ مختصر بات چیت کی اور ایران کو الٹی میٹم دیا کہ وہ آبنائے ہرمز کو کھولے یا پھر امریکہ کے تباہ کن حملوں کا خطرہ مول لے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دی تھی کہ اگر آبنائے ہرمز نہیں کھولی گئی تو ایران کے پاور پلانٹس اور پلوں پر حملے کیے جائیں گے (فوٹو: اے ایف پی)
صدر ٹرمپ نے فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ پیر کو ایران کے اس معاہدہ کرنے کا بہترین موقع ہے۔ ’میرے خیال میں کل ایک اچھا موقع ہے اور اب وہ بات چیت بھی کر رہے ہیں۔‘
ان کے مطابق ’اگر وہ جلد ہی کوئی معاہدہ نہیں کرتے تو میں سب کچھ اڑا کر تیل پر قبضہ کرنے پر غور کر رہا ہوں۔‘
اسی انٹرویو میں صدر ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہوں نے ایرانی مذاکرات کاروں کو ’موت سے استثنیٰ‘ دے رکھا ہے اور وہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ تہران جوہری ہتھیاروں کی تیاری کو آگے نہیں بڑھائے گا۔
امریکی صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’بڑی بات یہ ہے کہ ان کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہوں، وہ اس نکتے پر بات نہیں کر رہے ہیں حالانکہ یہ بہت آسان بات ہے۔‘
ان کے مطابق ’زیادہ تر نکات تسلیم کیے جا چکے ہیں۔‘
اسی طرح اے بی سی سے انٹرویوں میں انہوں نے کہا کہ ’جنگ ہفتوں نہیں دنوں میں‘ ختم ہونی چاہیے تاہم ساتھ ہی خبردار بھی کیا کہ تہران کے ساتھ کسی قسم کے معاہدے کے بغیر یہ امکان ’بہت ہی کم‘ ہو گا کہ جسے امریکی کارروائی پر نظرثانی سمجھا جائے۔