امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو دی گئی اس ڈیڈلائن میں اضافے کا اشارہ دیا ہے جس میں اسے آبنائے ہرمز کھولنے، معاہدہ کرنے یا پھر تباہ کن حملوں کا سامنا کرنے کے آپشنز شامل ہیں جبکہ ایران نے دھمکیوں کو غیرذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک اتوار کو ایک پوسٹ میں ’منگل رات آٹھ بجے، ایسٹرن ٹائم‘ لکھا۔
جس کا مطلب جی ایم ٹی کی مناسبت سے بدھ کو رات 12 بنتا ہے اس حساب سے ایران کو مزید 24 گھنٹے مل گئے ہیں جس میں وہ امریکی رہنما کو منانے کی کوشش کرے یا پھر اپنے پاور پلانٹس اور پلوں کو خطرے میں ڈالے۔
مزید پڑھیں
-
صدر ٹرمپ کی ڈیڈلائن کے بعد ایران کے اسرائیل اور کویت پر حملےNode ID: 902630
28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد سے جہاں جنگ کا آغاز ہوا وہیں ایران نے تیل کی عالمی تجارت کے حوالے سے انتہائی اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز کو مؤثر طور پر بند بھی کر رکھا ہے۔
صدر ٹرمپ جو بدھ کو قوم سے خطاب کے بعد کسی عوامی تقریب میں شرکت کرتے ہوئے نہیں دیکھے گئے، نے وال سٹریٹ جرنل سے گفتگو میں ایسے تاثر کی تصدیق کرتے نظر آئے جس میں ایران کے لیے نئی مہلت کی فراہم دکھائی دی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم ایک مضبوط پوزیشن میں ہیں اور اگر وہ خوش قسمت ہوئے اور ان کے پاس ملک باقی رہا تو اس کی تعمیر نو میں 20 برس لگیں گے۔‘
انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’اگر انہوں نے منگل کی رات تک کچھ نہیں کیا تو ان کے پاس بجلی گھر ہوں گے اور نہ ہی کوئی پل سلامت رہے گا۔‘
امریکی صدر نے ایران میں پھسنے والے ایئرمین کو ڈرامائی انداز میں بچانے کے بعد میڈیا کے مختلف اداروں کے ساتھ مختصر بات چیت کی اور ایران کو الٹی میٹم دیا کہ وہ آبنائے ہرمز کو کھولے یا پھر امریکہ کے تباہ کن حملوں کا خطرہ مول لے۔

صدر ٹرمپ نے فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ پیر کو ایران کے اس معاہدہ کرنے کا بہترین موقع ہے۔ ’میرے خیال میں کل ایک اچھا موقع ہے اور اب وہ بات چیت بھی کر رہے ہیں۔‘
ان کے مطابق ’اگر وہ جلد ہی کوئی معاہدہ نہیں کرتے تو میں سب کچھ اڑا کر تیل پر قبضہ کرنے پر غور کر رہا ہوں۔‘
اسی انٹرویو میں صدر ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہوں نے ایرانی مذاکرات کاروں کو ’موت سے استثنیٰ‘ دے رکھا ہے اور وہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ تہران جوہری ہتھیاروں کی تیاری کو آگے نہیں بڑھائے گا۔
امریکی صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’بڑی بات یہ ہے کہ ان کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہوں، وہ اس نکتے پر بات نہیں کر رہے ہیں حالانکہ یہ بہت آسان بات ہے۔‘
ان کے مطابق ’زیادہ تر نکات تسلیم کیے جا چکے ہیں۔‘
اسی طرح اے بی سی سے انٹرویوں میں انہوں نے کہا کہ ’جنگ ہفتوں نہیں دنوں میں‘ ختم ہونی چاہیے تاہم ساتھ ہی خبردار بھی کیا کہ تہران کے ساتھ کسی قسم کے معاہدے کے بغیر یہ امکان ’بہت ہی کم‘ ہو گا کہ جسے امریکی کارروائی پر نظرثانی سمجھا جائے۔
1/ Your reckless moves are dragging the United States into a living HELL for every single family, and our whole region is going to burn because you insist on following Netanyahu’s commands.
Make no mistake: You won’t gain anything through war crimes.
— محمدباقر قالیباف | MB Ghalibaf (@mb_ghalibaf) April 5, 2026











