سعودائزیشن پروگرام: نجی سیکٹر میں انتظامی معاونت کے مزید 69 پیشے شامل
سعودائزیشن کا فیصلہ 5 اپریل 2026 سے موثر کیا گیا ہے (فوٹو: عرب نیوز)
سعودی وزارتِ افرادی قوت نے سعودائزیشن پروگرام کو نجی سیکٹر میں انتظامی معاونت (ایڈمنسٹریٹو سپورٹ) کے شعبوں تک وسعت دی ہے، مزید 69 پیشوں کو سعودائزیشن کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
سعودی خبررساں ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق وزارت کے بیان میں کہا گیا کہ ’ان پیشوں میں سعودائزیشن کا فیصلہ 5 اپریل 2026 سے موثر کیا گیا ہے۔‘
جن 69 پیشوں کو سعودائزیشن کی فہرست میں اپ ڈیٹ کیا گیا،ان کے ملازمین بھی سو فیصد سعودی شہری ہوں گے۔ یہ تمام پیشے سعودی معیاری پیشہ ورانہ درجہ بندی (سعودی اسٹینڈرڈ کلاسیفکیشن) کی جانب سے منظور شدہ ہیں۔
سعودائزیشن کے حوالے سے کیے گئے اقدامات وزارت کی ان کوششوں کا حصہ ہے، جن کا مقصد قومی افرادی قوت کی لیبر مارکیٹ میں شمولیت کو فروغ دینا اور مملکت کے مختلف علاقوں میں سعودی مرد وخواتین کے لیے موثر اور پرکشش روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہے۔
نئی ترمیم کے تحت سیکرٹری، تحریر و کتابت، ترجمہ، ڈیٹا انٹری اور انتظامی امور میں معاونت کے شعبے شامل ہیں، یہ فیصلہ ان تمام اداروں پر لاگو ہو گا جہاں کم ازکم ایک ملازم کام کررہا ہو۔

افرادی قوت کی ویب سائٹ کے مطابق جن 69 پیشوں میں سو فیصد سعودائزیشن کا فیصلہ کیا گیا’ ان میں سائبرسکیورٹی ہیومن ریسورس مینیجر، ایڈمنسٹریٹو انویسٹی گیشن مینیجر، کمپنسیشن مینیجر، پروٹوکول مینیجر، لیبرکمیٹی کا رکن، لیبرتفتیشی اہلکار، پبلک ریلیشن آفیسر، پبلک ریلیشن سپیشلسٹ، کانفرنسز اور تقریبات کے آرگنائزر، مترجم کی مختلف کیٹگریز، نجی گارڈ، سکیورٹی گارڈ، سٹورکیپر، ہوٹل ریسپشنسٹ، ڈیٹا انٹری کلرک، شارٹ ہینڈ، ہسپتال ریسپشنسٹ، شکایات درج کرنے والے، کسٹم کلیئرنگ ایجنٹ، کیشیئر، ڈائریکٹر لیبرافیئرز وغیرہ شامل ہیں۔‘
وزارت کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا’ بعض پیشوں میں سو فیصد سعودائزیشن کے لیے 6 ماہ کی اضافی و رعایتی مہلت دی گئی ہے، جس کا آغاز قانون کے اجرا سے کیا گیا ہے۔‘
ان میں اشاروں کی زبان، سکیورٹی کیمرہ مانیٹرز، گودام انٹری کلرک، کارگو انٹری کلرک، ریشپسنسٹ، استقبالیہ کلرک، ادارتی امور کے معاون، پروف ریڈرز، ریکروٹنگ سپیشلسٹ، نگران افرادی قوت ودیگر شامل ہیں۔
وزارت نے اپنی ویب سائٹ پر تازہ ترین اپ ڈیٹ اور گائیڈ بک بھی جاری کی ہے، جس میں نئے پیشوں کی تفصیلات اور ان پرعمل درآمد کے طریقہ کار کی بھی وضاحت کی گئی ہے۔
وزارت نے نجی شعبے کو فیصلے پر سختی سے عمل درآمد کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ خلاف ورزی کی صورت میں عائد کی جانے والی قانونی سزاوں سے بچا جاسکے۔
