Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

تعمیراتی شعبے کے کارکنوں پر عائد فیس ختم کرنے کی تجویز

شوری کونسل کے اجلاس میں مختلف امور کا جائزہ لیا گیا ( فوٹو: ایس پی اے)
سعودی شوری کونسل کے ہفتہ وار اجلاس میں مختلف معاشی و تجارتی امور پر اہم سفارشات اور تجاویز پیش کی گئی ہیں۔
کونسل نے تعمیراتی شعبے کے کارکنوں پرعائد فیس ختم کرنے کی تجویز بھی پیش کی ہے۔
ایس پی اے کے مطابق شوری کونسل نے پیر کو اجلاس میں مختلف امور کا جائزہ لیا اور تجاویز پیش کیں، جن کا مقصد قومی معیشت کو مستحکم  اور سرمایہ کاری کے مواقع کو فروغ دینا ہے۔
 رکن شوری کونسل رائدہ ابونیان نے وزارت تجارت کو متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر تعمیرات کے شعبے میں کام کرنے والے غیرملکی کارکنوں پرعائد فیس کے خاتمے  کا مطالعہ کرنے کی سفارش کی ہے۔
ان کے مطابق اس اقدام سے رہائشی لاگت میں کمی سے شہریوں کو ریلیف اور رئیل سٹیٹ کے شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا۔
 رکن شوری انجینئرخالد البریک نے وزارت تجارت پر زور دیا کہ وہ گاڑیوں کے ڈیلرز کو سپیئرپارٹس کی مستقل بنیادوں پر دستیابی کو یقینی بنانے کا پابند بنائے۔

علاوہ ازیں گاڑیوں کی اصلاح و مرمت کے دورانیے کو بھی کم کیا جائے تاکہ صارفین کو معیاری خدمات کی فراہم کو یقینی بنایا جاسکے۔
 رکن شوری عاصم مدخلی نے وزارت تجارت کو  متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر زرعی پیداوار اور مارکیٹنگ کے لیے خصوصی تجارتی کمپنیوں کے قیام کو فروغ دینے کی تجویز دی۔
ان کا کہنا تھا ’ان کمپنیوں کو چھوٹے کاشتکاروں، زرعی زمین کے مالکان اور کاروباری افراد کے درمیان شراکت داری کے تحت ایک مشترکہ قانونی ڈھانچہ قائم کیا جائے تاکہ معاشری پائیداری اور غذائی تحفظ کو تقویت ملے۔‘

ڈاکٹر ترکی العنزی نے وزارت تجارت کو تجویز پیش کی کہ’ وہ متعلقہ اداروں کے ساتھ چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کے لیے ایک قومی سمارٹ پلیٹ فارم کے قیام کا جائزہ لے جو تجارتی معاہدوں کی تیاری اور انتظام میں معاون ثابت ہو۔‘
شوری کونسل نے متعدد مفاہمتی یادداشتوں کے مسودوں کی بھی منظوری دی، جن میں سعودی جنرل اتھارٹی برائے سمال اینڈ میڈیم انڈسٹریز اور سلطنت عمان کی متعلقہ اتھارٹی کے درمیان تعاون کا معاہدہ شامل ہے۔

 

شیئر: