Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران و امریکہ کے درمیان جنگ بندی کا وسیع پیمانے پر خیرمقدم

امریکہ و ایران کے درمیان دو ہفتے کی عارضی جنگ بندی کا متعدد ممالک نے خیرمقدم کیا ہے۔
عرب نیوز اور خبر رساں اداروں کے مطابق منگل کی شام صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ایران کو تباہ کرنے کے ارادے کو اس وقت روکنے کے لیے تیار ہیں جب تک کہ ایران جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے پر تیار ہو جائے۔
اس سے قبل دن کے وقت انہوں کہا تھا کہ ’آج رات ایک پوری تہذیب مر جائے گی۔‘
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ انہوں نے جمعے کو ایرانی اور امریکی وفود کو اسلام آباد میں ملاقات کی دعوت دی ہے۔

عراق کا ’پائیدار مذاکرات‘ کا مطالبہ

عراق کی وزارت خارجہ نے بدھ کو کہا کہ وہ امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتے کی جنگ بندی کا ’خیر مقدم‘ کرتا ہے اور ممالک کے درمیان ’سنجیدہ اور پائیدار مذاکرات‘ کا مطالبہ کیا۔
وزارت خارجہ کی جانب سے ایکس پر کی گئی پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ ’وزارت اس مثبت اقدام کے ذریعے پائیدار اور پائیدار مذاکرات کا مطالبہ کرتی ہے جو تنازعات کی بنیادی وجوہات کو تلاش کرے اور باہمی اعتماد کو مضبوط کرے۔‘

آسٹریلیا کی جانب سے ثالثوں کا شکریہ

اسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البانیز نے کہا ہے کہ ان کا ملک امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے خیرمقدم کرتا ہے اس سے بات چیت کے ذریعے تنازع کے حل میں مدد ملے گی۔
ایک بیان میں ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم کشیدگی میں کمی کے لیے ہونے والی کوششوں کو آگے بڑھانے پر پاکستان، مصر، ترکیہ اور سعودی عرب سمیت دوسرے مذاکرات کاروں کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور ان کی حمایت کرتے ہیں۔‘

اہم اقدام ہے، سلسلہ آگے بڑھایا جائے: مصر

مصر کی وزارت خارجہ نے بھی ایک بیان کے ذریعے جنگ بندی کے معاہدے کو سراہا ہے۔
بیان میں مصر کی وزارت خارجہ نے خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) ممالک اور اردن کی خودمختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کے احترام کی اہمیت پر زور دیا اور ان کی خودمختاری کے خلاف کسی بھی اقدام یا خطرے کو مسترد کیا اور خصوصی طور پر ان ممالک اور خود مصر کی سلامتی کے درمیان لنک کا تذکرہ بھی کیا۔

اقوام متحدہ کا فریقوں سے ذمہ داریاں نبھانے کا مطالبہ

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان سٹیفن دوجارک نے کہا ہے کہ سیکرٹری جنرل امریکہ اور ایران کی طرف سے دو ہفتے کی جنگ بندی کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہیں۔
بیان کے مطابق انتونیو گوٹیریس نے مشرق وسطیٰ کے موجودہ تنازع کے تمام فریقوں سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی تعمیل کریں اور خطے میں دیرپا اور جامع امن کی راہ ہموار کرنے کے لیے جنگ بندی کی شرائط کی پابندی کریں۔

شیئر: