روس اور چین نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ سے متعلق سلامتی کونسل میں قرارداد ویٹو کر دی
خلیجی ممالک نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں مزید رکاوٹیں پیدا ہو سکتی ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
روس اور چین نے منگل کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بحرین کی جانب سے پیش کی گئی ایک قرارداد کو ویٹو کر دیا، جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو محفوظ بنانا تھا۔
عرب نیوز کے مطابق اس اقدام کو ایران کی جانب سے اس اہم آبی گزرگاہ میں رکاوٹوں سے متعلق بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں عالمی کوششوں کے لیے ایک دھچکہ قرار دیا جا رہا ہے۔
قرارداد کے حق میں 11 ووٹ آئے جبکہ روس اور چین نے مخالفت کی، اور دو ممالک نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ مستقل ارکان کے ویٹو کے باعث قرارداد منظور نہ ہو سکی۔
قرارداد کو اتفاق رائے حاصل کرنے کے لیے کئی بار نرم کیا گیا۔ ابتدائی مسودے میں ’ہر ضروری اقدام‘ بشمول ممکنہ فوجی کارروائی کی اجازت شامل تھی تاکہ جہاز رانی کی آزادی یقینی بنائی جا سکے۔
تاہم روس، چین اور فرانس سمیت ویٹو کے حامل ممالک کی مخالفت کے باعث اس میں مسلسل تبدیلیاں کی گئیں۔ پہلے جارحانہ طاقت کے استعمال کا ذکر نکالا گیا، پھر اسے صرف ’دفاعی اقدامات‘ تک محدود کیا گیا، اور آخرکار کسی بھی قسم کی کارروائی کی اجازت مکمل طور پر ختم کر دی گئی۔
حتمی متن میں صرف ان ممالک کو ’سختی سے ترغیب‘ دی گئی جو آبنائے ہرمز پر انحصار کرتے ہیں کہ وہ سمندری سلامتی کے لیے دفاعی تعاون کریں، جبکہ ایران سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ تجارتی جہازوں پر حملے اور جہاز رانی میں مداخلت بند کرے۔
ووٹنگ سے قبل بحرین کے وزیر خارجہ عبداللطیف الزیانی نے آبنائے ہرمز کی عالمی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ عالمی تجارت اور توانائی کی فراہمی کے لیے ایک اہم راستہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس راستے سے دنیا کی تقریباً 38 فیصد خام تیل کی تجارت، 29 فیصد ایل پی جی، 19 فیصد ایل این جی، اور 20 فیصد ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات گزرتی ہیں، جبکہ دنیا کی 30 فیصد ہیلیم سپلائی بھی اسی راستے سے منتقل ہوتی ہے، اس کے علاوہ خوراک اور ادویات بھی اسی کے ذریعے پہنچتی ہیں۔
الزیانی نے نتائج پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام رہی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اس طرح کی بے عملی سے کونسل کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے اور خلاف ورزیوں کی حوصلہ افزائی ہو سکتی ہے، جبکہ بین الاقوامی قوانین کے تحت عالمی آبی راستوں میں جہاز رانی کی آزادی کو روکا نہیں جا سکتا۔
مارچ میں سلامتی کونسل نے بحرین کی ایک اور قرارداد منظور کی تھی جس میں ایران کی جانب سے خلیجی ممالک پر حملوں کی مذمت کی گئی تھی۔ وہ قرارداد 13-0 سے منظور ہوئی تھی جبکہ روس اور چین نے اس میں ووٹ نہیں دیا تھا۔
الزیانی نے ایران پر کشیدگی بڑھانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے ہمسایہ ممالک کو نشانہ بنا رہا ہے اور آبنائے ہرمز کو اقتصادی دباؤ کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
امریکی سفیر مائیک والٹز نے بھی روس اور چین کے ویٹو پر شدید تنقید کی اور کہا کہ امریکہ بحرین اور خلیجی ممالک کے ساتھ کھڑا ہے۔
انہوں نے ایران پر الزام لگایا کہ وہ آبنائے ہرمز کو ’یرغمال‘ بنا رہا ہے اور عالمی معیشت کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔
خلیجی ممالک نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں مزید رکاوٹیں پیدا ہو سکتی ہیں۔
