امریکی صدر ٹرمپ نے دو ہفتے کے لیے جنگ بندی کی تجویز پر مشروط رضا مندی ظاہر کردی۔
ٹروتھ سوشل پر پوسٹ میں ٹرمپ نے لکھا فوری جنگ بندی باہمی ہو گی۔ ہمیں ایران کی طرف سے 10 نکاتی تجویز موصول ہوئی ہے جو ہمارے خیال میں مذاکرات کی عملی بنیاد ہے۔
ان کا کہنا تھا فوری جنگ بندی کا معاہدہ ایران کے آبنائے ہرمز کو مکمل اور فوری کھولنے کے معاہدے پر منحصر ہے۔
یاد رہے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے درخواست کی تھی کہ وہ ’ایران کو دی گئی ڈیڈلائن میں دو ہفتے کی توسیع کردیں۔‘
وزیراعظم شہباز شریف نے صدر ٹرمپ سے یہ درخواست منگل اور بدھ کی درمیانی شب سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کے ذریعے کی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے پرامن تصفیے کے لیے سفارتی کوششیں تسلسل کے ساتھ، مضبوطی اور بھرپور انداز میں آگے بڑھ رہی ہیں اور قوی امکان ہے کہ یہ مستقبل قریب میں ٹھوس نتائج تک پہنچیں گی۔‘
وزیراعظم شہباز شریف کی پوسٹ پر ردِعمل دیتے ہوئے وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا تھا کہ ’صدر ٹرمپ درخواست سے آگاہ ہیں اور اس پر رِدعمل جلد دیا جائے گا۔‘
اس سے پہلے دو پاکستانی ذرائع نے برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کو منگل کو بتایا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کرانے کی کوششیں تاحال جاری ہیں۔ جبکہ ایران پر امریکی حملوں میں شدت آگئی ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ’قیامت ٹوٹ پڑنے‘ کی ڈیڈ لائن قریب آرہی ہے۔
ذرائع میں سے ایک، جو ایک سینیئر سکیورٹی اہلکار ہیں، نے کہا کہ سعودی عرب پر ایرانی حملوں کے خطرے نے مذاکرات کو پٹری سے اُتارنے کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ’اگر تنازع بڑھتا ہے تو پاکستان دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہو گا۔‘
یاد رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران پر زور دیا ہے کہ وہ منگل تک دی گئی مہلت کے اندر معاہدہ کر لے، ورنہ اگر تنازعے کے خاتمے کے لیے کوئی سمجھوتہ نہ ہوا تو ’ایک پوری تہذیب آج رات مِٹ جائے گی۔‘
صدر ٹرمپ نے منگل کو ٹروتھ سوشل پر ایک بیان میں کہا تھا کہ ’ایک پوری تہذیب آج رات ختم ہو جائے گی اور پھر کبھی اُبھر نہیں ہو سکے گی۔ میں ایسا نہیں چاہتا، لیکن غالب امکان یہی ہے کہ ایسا ہو گا۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہمیں آج رات ہی معلوم ہو جائے گا۔ یہ دنیا کی طویل اور پیچیدہ تاریخ کے نہایت اہم ترین لمحات میں سے ایک ہو گا۔‘








