Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان کی درخواست پر صدر ٹرمپ اور ایران دو ہفتے کے لیے جنگ بندی پر رضامند

امریکی صدر ٹرمپ نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب ایران پر تباہ کن حملے شروع کرنے کی دھمکیوں کی ڈیڈ لائن سے تقریبا دو گھنٹے  پہلے جنگ بندی پر مشروط آمادگی ظاہر کردی۔
امریکہ اور ایران دونوں دو ہفتے کے لیے جنگ بندی کی پاکستانی تجویز پر رضامند ہو گئے جبکہ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے امریکہ اور ایران  کے وفود کو مذاکرات کے لیے جمعہ 10 اپریل کو اسلام آباد آنے کی دعوت دی ہے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا ’فوری جنگ بندی باہمی ہو گی۔ ہمیں ایران کی طرف سے 10 نکاتی تجویز موصول ہوئی ہے جو ہمارے خیال میں مذاکرات کی عملی بنیاد ہے۔‘
انہوں  نے مزید کہا ’ فوری جنگ بندی کا معاہدہ ایران کے آبنائے ہرمز کو مکمل اور فوری کھولنے کے معاہدے پر منحصر ہے۔‘
عرب نیوز کے مطابق امریکی رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا کہ اسرائیل نے بھی ایسا کرنے پر رضا مندی ظاہر کی ہے۔
دوسری طرف ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ’ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کی طرف سے یہ اعلان کرتا ہوں کہ اگر ایران پر حملے  روک دیے جائیں تو ہماری مسلح افواج بھی اپنی دفاعی کارروئیاں روک دیں گی۔‘
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر صدر ٹرمپ نے لکھا’ پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ ہونے والی گفتگو کی بنیاد پر، جہاں انہوں نے مجھ سے درخواست کی کہ میں آج رات ایران کے خلاف بھیجی جانے والی تباہ کن طاقت کو روک دوں۔‘
’اس شرط پر کہ ایران، آبنائے ہرمز کو مکمل، فوری اور محفوظ طریقے سے کھولنے پر رضامند ہو، میں ایران پر بمباری اور حملوں کو دو ہفتوں کے لیے معطل کرنے پر متفق ہوں۔ یہ ایک دو طرفہ جنگ بندی ہوگی۔‘
امریکی صدر نے لکھا’ اس کی وجہ یہ ہے کہ  پہلے ہی تمام فوجی مقاصد حاصل کر چکے  ہیں بلکہ ان سے بھی آگے بڑھ چکے ہیں۔ ایران کے ساتھ طویل مدتی امن اور مشرقِ وسطیٰ میں امن سے متعلق ایک حتمی معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔‘

’ہمیں ایران کی جانب سے دس نکات پر مشتمل ایک تجویز موصول ہوئی ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ یہ مذاکرات کے لیے ایک قابلِ عمل بنیاد فراہم کرتی ہے۔‘
صدر ٹرمپ نے مزید کہا ’امریکہ اور ایران کے درمیان ماضی کے تقریبا تمام متنازع نکات پر اتفاق ہو چکا ہے۔ دو ہفتوں کی مدت اس معاہدے کو حتمی شکل دینے اور مکمل کرنے کے لیے درکار ہوگی۔‘
پوسٹ کے آخر میں لکھا’ امریکی صدر کی حیثیت سے اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کی نمائندگی کرتے ہوئے میرے لیے یہ باعثِ اعزاز ہے کہ یہ ایک عرصے سے حل طلب مسئلہ حل کے قریب ہے۔‘
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے آفیشل ایکس اکاونٹ پر پوسٹ میں لکھا’ ایران کی جانب سے میں اپنے برادر ملک پاکستان کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی خطے میں جنگ کے حاتمے کے لیے انتھک کوششوں پر دلی تشکر اور ستائش کا اظہار کرتا ہوں۔‘
’وزیراعظم شہباز شریف کی برادرانہ درخواست اور امریکہ کی جانب سے پندرہ نکاتی تجویزپر مذاکرات کی خواہش اور جنرل فریم ورک کو مد نظر رکھتے ہوئے ایران کی سپریم کونسل کی جانب سے یہ اعلان کرتا ہوں کہ اگر ایران پر حملے روک دیے جائیں تو ہماری مسلح افواج بھی اپنی دفاعی کارروائیاں معطل کردے گی۔‘
ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا’ آئندہ دو ہفتے کے لیے آبنائے ہرمز محفوظ  گزر گاہ  ممکن ہوگی۔‘
یاد رہے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے درخواست کی تھی کہ وہ ’ایران کو دی گئی ڈیڈلائن میں دو ہفتے کی توسیع کردیں۔‘
وزیراعظم شہباز شریف نے صدر ٹرمپ سے یہ درخواست منگل اور بدھ کی درمیانی شب سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کے ذریعے کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے پرامن تصفیے کے لیے سفارتی کوششیں تسلسل کے ساتھ، مضبوطی اور بھرپور انداز میں آگے بڑھ رہی ہیں اور قوی امکان ہے کہ یہ مستقبل قریب میں ٹھوس نتائج تک پہنچیں گی۔‘
 اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ ایران منگل تک دی گئی مہلت کے اندر معاہدہ کر لے، ورنہ اگر تنازعے کے خاتمے کے لیے کوئی سمجھوتہ نہ ہوا تو ’ایک پوری تہذیب آج رات مِٹ جائے گی۔‘
صدر ٹرمپ نے منگل کو ٹروتھ سوشل پر ایک بیان میں کہا تھا کہ ’ایک پوری تہذیب آج رات ختم ہو جائے گی اور پھر کبھی اُبھر نہیں ہو سکے گی۔ میں ایسا نہیں چاہتا، لیکن غالب امکان یہی ہے کہ ایسا ہو گا۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہمیں آج رات ہی معلوم ہو جائے گا۔ یہ دنیا کی طویل اور پیچیدہ تاریخ کے نہایت اہم ترین لمحات میں سے ایک ہو گا۔‘

شیئر: