عفت یونیورسٹی 7 سے 9 اپریل تک اپنے جدہ کیمپس میں 13واں انٹرنیشنل سٹوڈنٹ فلم فیسٹیول ’شو ریل‘ منعقد کر رہی ہے جس کا موضوع ہے ’وین سٹوریز کم ٹو لائف‘ ہے۔
عرب نیوز کے مطابق اس ایونٹ میں مصری اداکار احمد حلمی اور سعودی اداکار عبدالمحسن النمر بطور مہمان خصوصی شرکت کریں گے۔
مزید پڑھیں
-
سعودی فلم فیسٹیول کا اپریل میں انعقاد، کورین سنیما پر توجہ ہوگیNode ID: 900745
عفت یونیورسٹی کی صدر ہیفا جمال اللیل کے مطابق فیسٹیول نے ٹیلنٹ کو نکھارنے کے لیے اہم کردار ادا کیا اور انہوں نے اسے تعلیم اور فلمی صنعت کے درمیان ایک پُل قرار دیا۔
ہیفا جمال اللیل کہتی ہیں کہ ’ہمارا مقصد سٹوڈنٹس کی فلمیں دکھانے سے بڑا ہے۔ ہمارا مقصد ایسی نسل تیار کرنا ہے جو مستقبل میں مملکت میں میڈیا اور انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کو چلائے جو وژن 2030 سے ہم آہنگ ہے۔‘
اس سال کے ایڈیشن میں 95 سے زائد ممالک سے 2783 فلمیں موصول ہوئیں۔ گزشتہ سال ان فلموں کی تعداد 2217 تھی۔ 10 یونیورسٹیوں سے 371 سعودی فلمیں بھی جمع کرائی گئیں جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ مملکت کی فلم انڈسٹری میں نئے فلم میکرز آ رہے ہیں اور تیزی سے ترقی ہو رہی ہے۔
عفت یونیورسٹی کے سکول آف سینیمیٹک آرٹس کی چیئر محمد غزالہ کہتی ہیں کہ ہمارا ہدف طلبہ کو روایتی تعلیم سے عملی میدان میں لانا ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’اس سال جدید لائٹننگ اور کیمرہ ٹیکنالوجی کی ذریعے سونی ہمارے طلبہ کے لیے نئے سینیمیٹک تجربات متعارف کروا رہا ہے۔ اسے ہماری ٹیچنگ پریکٹس میں بھی شامل کیا گیا ہے جس سے اس بات کو یقینی بنایا جا سکتا ہے کہ طلبہ اور فیکلٹی دونوں انڈسٹری کی تازہ ڈیویلپمنٹ سے ہم آہنگ رہیں۔‘

جرمن ڈاکومینٹری میکر سٹیفنی بروکاؤس جو اس ایونٹ میں جیوری اور ورک شاپ فیسیلی ٹیٹر ہیں، کہتی ہیں کہ ’ہم دو فلمیں سعودی عرب میں بنا رہے ہیں۔ میں نے پچھلے دس برسوں میں فلمی صنعت اور نوجوان سعودی ٹیلنٹ کو ابھرتے ہوئے دیکھا ہے۔ یہ شاندار نتائج عفت یونیورسٹی اور شو رِیل فیسٹیول میں دیکھے جا سکتے ہیں۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’ایسی ورکشاپس کے ذریعے ہم اپنے تجربات سے نوجوان سعودی فلم میکرز کو سپورٹ کر سکتے ہیں۔ ہمارا مقصد مستند سینیمیٹک زبان میں ترقی کرنا ہے اور ایسی کہانیاں سامنے لانا ہے جنہیں بتایا جا سکے۔‘
اس فیسٹیول میں کئی پروگرام پیش کیے جا رہے ہیں جن میں فلم سکریننگ، ورک شاپس، پینل ڈسکشن، جدہ کے تاریخی ڈسٹرکٹ البلد سے متاثر فوٹوگرافی نمائش اور لائیو میوزیکل پرفامنس شامل ہیں۔
انڈسٹری کے بڑے نام جیسے سونی، مانجا پروڈکشنز اور ایم بی سی اکیڈمی کی ورکشاپس کا مقصد سٹوڈنٹس کی سکلز کو نکھارنا اور انہیں مقامی اور بین الاقوامی فلم انڈسٹری سے جوڑنا ہے۔
ایم بی سی اکیڈمی مینیجر آف پارٹنرشپس علا العلوان کہتے ہیں کہ ’ایم بی ایس اکیڈمی کی عفت انٹرنیشنل سٹوڈنٹ فلم فیسٹیول میں شمولیت سعودی وژن 2030 کے اہداف کی عکاسی کرتا ہے جس میں قومی ٹیلنٹ کو نکھارنا اور تخلیقی معیشت کو ترقی دینا ہے۔‘












