Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جدہ میں عفت فلم فیسٹیول، نوجوان فلم سازوں کی بھرپور شرکت

فیسٹیول میں 10 یونیورسٹیوں سے 371 سعودی فلمیں بھی موصول ہوئیں (فوٹو: عفت یونیورسٹی فیس بک)
عفت یونیورسٹی 7 سے 9 اپریل تک اپنے جدہ کیمپس میں 13واں انٹرنیشنل سٹوڈنٹ فلم فیسٹیول ’شو ریل‘ منعقد کر رہی ہے جس کا موضوع ہے ’وین سٹوریز کم ٹو لائف‘ ہے۔
عرب نیوز کے مطابق اس ایونٹ میں مصری اداکار احمد حلمی اور سعودی اداکار عبدالمحسن النمر بطور مہمان خصوصی شرکت کریں گے۔
عفت یونیورسٹی کی صدر ہیفا جمال اللیل کے مطابق فیسٹیول نے ٹیلنٹ کو نکھارنے کے لیے اہم کردار ادا کیا اور انہوں نے اسے تعلیم اور فلمی صنعت کے درمیان ایک پُل قرار دیا۔
ہیفا جمال اللیل کہتی ہیں کہ ’ہمارا مقصد سٹوڈنٹس کی فلمیں دکھانے سے بڑا ہے۔ ہمارا مقصد ایسی نسل تیار کرنا ہے جو مستقبل میں مملکت میں میڈیا اور انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کو چلائے جو وژن 2030 سے ہم آہنگ ہے۔‘
اس سال کے ایڈیشن میں 95 سے زائد ممالک سے 2783 فلمیں موصول ہوئیں۔ گزشتہ سال ان فلموں کی تعداد 2217 تھی۔ 10 یونیورسٹیوں سے 371 سعودی فلمیں بھی جمع کرائی گئیں جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ مملکت کی فلم انڈسٹری میں نئے فلم میکرز آ رہے ہیں اور تیزی سے ترقی ہو رہی ہے۔
عفت یونیورسٹی کے سکول آف سینیمیٹک آرٹس کی چیئر محمد غزالہ کہتی ہیں کہ ہمارا ہدف طلبہ کو روایتی تعلیم سے عملی میدان میں لانا ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’اس سال جدید لائٹننگ اور کیمرہ ٹیکنالوجی کی ذریعے سونی ہمارے طلبہ کے لیے نئے سینیمیٹک تجربات متعارف کروا رہا ہے۔ اسے ہماری ٹیچنگ پریکٹس میں بھی شامل کیا گیا ہے جس سے اس بات کو یقینی بنایا جا سکتا ہے کہ طلبہ اور فیکلٹی دونوں انڈسٹری کی تازہ ڈیویلپمنٹ سے ہم آہنگ رہیں۔‘

ہیفا جمال اللیل کے مطابق فیسٹیول نے ٹیلنٹ کو نکھارنے کے لیے اہم کردار ادا کیا (فوٹو: عفت یونیورسٹی فیس بک)

جرمن ڈاکومینٹری میکر سٹیفنی بروکاؤس جو اس ایونٹ میں جیوری اور ورک شاپ فیسیلی ٹیٹر ہیں، کہتی ہیں کہ ’ہم دو فلمیں سعودی عرب میں بنا رہے ہیں۔ میں نے پچھلے دس برسوں میں فلمی صنعت اور نوجوان سعودی ٹیلنٹ کو ابھرتے ہوئے دیکھا ہے۔ یہ شاندار نتائج عفت یونیورسٹی اور شو رِیل فیسٹیول میں دیکھے جا سکتے ہیں۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’ایسی ورکشاپس کے ذریعے ہم اپنے تجربات سے نوجوان سعودی فلم میکرز کو سپورٹ کر سکتے ہیں۔ ہمارا مقصد مستند سینیمیٹک زبان میں ترقی کرنا ہے اور ایسی کہانیاں سامنے لانا ہے جنہیں بتایا جا سکے۔‘
اس فیسٹیول میں کئی پروگرام پیش کیے جا رہے ہیں جن میں فلم سکریننگ، ورک شاپس، پینل ڈسکشن، جدہ کے تاریخی ڈسٹرکٹ البلد سے متاثر فوٹوگرافی نمائش اور لائیو میوزیکل پرفامنس شامل ہیں۔
انڈسٹری کے بڑے نام جیسے سونی، مانجا پروڈکشنز اور ایم بی سی اکیڈمی کی ورکشاپس کا مقصد سٹوڈنٹس کی سکلز کو نکھارنا اور انہیں مقامی اور بین الاقوامی فلم انڈسٹری سے جوڑنا ہے۔
ایم بی سی اکیڈمی مینیجر آف پارٹنرشپس علا العلوان کہتے ہیں کہ ’ایم بی ایس اکیڈمی کی عفت انٹرنیشنل سٹوڈنٹ فلم فیسٹیول میں شمولیت سعودی وژن 2030 کے اہداف کی عکاسی کرتا ہے جس میں قومی ٹیلنٹ کو نکھارنا اور تخلیقی معیشت کو ترقی دینا ہے۔‘

اس سال کے ایڈیشن میں 95 سے زائد ممالک سے 2783 فلمیں موصول ہوئیں (فوٹو: عفت یونیورسٹی فیس بک)

عفت یونیورسٹی کی گریجویٹ اور فلم ’سکریم آف این آنٹ‘ کی ڈائریکٹر لجین سلام کہتی ہیں کہ ’شو رِیل میں اپنی فلم کی سکریننگ کرنا میرے لیے بہت بڑی بات ہے۔ وہاں سے پڑھائی کرنے سے بطور رائٹر مجھے فائدہ ہوا۔ اس نے مجھے ایماندار اور بے خوف ہو کر ذاتی کہانیاں بتانا سکھایا ہے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’یہاں فلم کی نمائش کرنا ایسے محسوس ہو رہا ہے جیسے میری ذاتی ترقی ہو رہی ہے اور مجھے اس پر بہت فخر ہے۔ ریڈ سی فلم فیسٹیول میں سکریننگ کرنا عفت شو رِیل کے مقابلے میں کافی مختلف جذباتی کام تھا۔ یہ کافی ذاتی کامیابی محسوس ہوتی ہے۔‘
مصری اداکار حلمی، میڈیا پرسنیلیٹی یاسر السقاف کے ساتھ ہونے والے سیشن میں فیسٹیول کو چار چاند لگائیں گے جہاں وہ طلبہ سے اپنی فلمی سفر کے بارے میں معلومات شیئر کریں گے۔

 

شیئر: