لڑکیاں عالمی سطح پر فٹبال میں آگے بڑھنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہیں: نائب کپتان ویمنز نیشنل فٹبال ٹیم
اپنے پہلے میچ سے پہلے، کوچ عدیل رضکی اور نائب کپتان سوہا ہیرانی نے مقامی اور بین الاقوامی میڈیا سے ملاقات کی۔ (فوٹو: پاکستان فٹبال فیڈریشن)
پاکستان ویمنز نیشنل فٹبال ٹیم کی نائب کپتان نے کہا ہے کہ پاکستان کی خواتین اور لڑکیاں عالمی سطح پر فٹبال میں آگے بڑھنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہیں۔
پاکستان فٹبال فیڈیشن کی جانب سے بدھ کو جاری ہونے والے بیان کے مطابق آئیوری کوسٹ میں جاری فیفا سیریز میں اپنے پہلے میچ سے پہلے، کوچ عدیل رضکی اور نائب کپتان سوہا ہیرانی نے مقامی اور بین الاقوامی میڈیا سے ملاقات کی۔
سوہا ہیرانی سے جب ڈریسنگ روم میں ٹیم کی حوصلہ افزائی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ’ہماری سب سے بڑی تحریک یہ ہے کہ پاکستان کی ویمنز فٹبال دنیا میں آگے بڑھے۔ ہمیں کھیلنے کے زیادہ مواقع نہیں ملتے، اس لیے جب بھی پاکستان کی نمائندگی کا موقع ملے، ہم یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ پاکستان کی خواتین اور لڑکیاں عالمی سطح پر فٹبال میں آگے بڑھنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہیں۔‘
انہوں نے میزبان ٹیم کی تعریف کرتے ہوئے واضح کیا کہ ٹیم پوری تیاری اور جیت کے ارادے کے ساتھ آئی ہے۔
سیریز میں ٹیم کے امکانات کے بارے میں پوچھے جانے پر نائب کپتان نے کہا کہ ’ہمارا مقصد پوری سیریز جیتنا ہے اور ہم یہ کر کے دکھانا چاہتے ہیں۔‘
سوہا ہیرانی نے مزید کہا کہ یہ حالیہ برسوں میں پاکستان کی سب سے مضبوط ٹیم ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان ویمنز نیشنل ٹیم اپنے پہلے فیفا ایونٹ میں حصہ لینے کی تیاری کر رہی ہے، اور یہ ایک ایسا موقع ہے جسے کوچنگ سٹاف اور کھلاڑیوں نے ملک کی فٹبال کی طویل مدتی ترقی میں ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔
کوچ عدیل رضکی نے کہا کہ ’یہ پہلی بار ہے کہ ہم کسی فیفا ایونٹ میں کھیل رہے ہیں، جو ہمارے کھلاڑیوں، ہمارے ملک اور ہمارے فیڈریشن کے لیے ایک بہت بڑا موقع ہے۔ جب آپ کو اس سطح پر کھیلنے کا موقع ملے تو گھبرانا نہیں چاہیے، جھجھکنا نہیں چاہیے، بلکہ پوری مثبت سوچ کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔‘
پاکستان اپنا پہلا میچ 9 اپریل کو ترکس اینڈ کیکوس آئی لینڈز کے خلاف کھیلے گا، اس کے بعد 12 اپریل کو موریطانیہ سے اور 16 اپریل کو میزبان آئیوری کوسٹ سے مقابلہ ہوگا۔ فیفا سیریز کا مقصد مختلف کنفیڈریشنز کی ٹیموں کو ایک دوسرے کے خلاف کھیلنے کے زیادہ مواقع دینا ہے، اور اس برس پہلی بار خواتین ٹیموں کو بھی اس میں شامل کیا گیا ہے۔
