ہر برس لاکھوں سیاح جزائر فرسان کا رخ کیوں کرتے ہیں؟
سعودی عرب کا جنوب مغربی خطہ، جازان ملکی سیاحت کے نقشے پر ایک منفرد قدرتی منظر کے طور پر نمایاں ہے جہاں بحیرۂ احمر کی نیلگوں لہریں، سرسبز پہاڑ اور وسیع میدان سحر انگیز مناظر پیش کرتے ہیں۔
ایس پی اے کے مطابق جازان آنے والے سیاح صرف ایک مقام تک محدود نہیں رہتے بلکہ یہاں کے ساحل، غیرآباد جزیرے اور قدرتی مناظر انہیں ایک مکمل اور بھرپور تجربے سے آشنا کراتے ہیں جو فطرت اور انسانی ہم آہنگی کی مثالی عکاسی کرتے ہیں۔
اس خطے کی نمایاں پہچان جزائر فرسان ہیں جو جازان شہر سے تقریبا 50 کلومیٹر دوری پرواقع ہیں۔
84 سے زیادہ مونگے کی جزیروں پر مشتمل یہ سلسلہ تقریباً 1050 مربع کلومیٹر پرپھیلا ہوا ہے اور پائیدار سیاحت کی ایک کامیاب مثال پیش کرتا ہے۔
فرسان جزیروں کے سفید ریتیلے ساحل اور شفاف فیروزی پانی دنیا بھر کے غوطہ خوروں اور ماہی گیری کے شوقین افراد کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں جبکہ مینگرووز کے جنگلات اس علاقے کی حیاتیاتی تنوع کو مزید تقویت دیتے ہیں۔

یہ ماحولیاتی اعتبار سے بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے جہاں 180 سے زیادہ پودوں اور 200 سے زائد پرندوں کی اقسام پائی جاتی ہیں۔
ان میں عقاب، بگلے اور دیگر آبی و نقل مکانی کرکے آنے والے پرندے شامل ہیں۔ اسی طرح یہاں پائی جانے والی آبی مخلوقات جن میں سبز کچھوے، ڈولفن اور بعض اقسام کی وہیل اور شارک شامل ہیں۔
تاریخی اعتبار سے بھی یہ جزیرے اہمیت کے حامل ہیں۔ یہاں واقع القصار قصبے میں پتھر سے بنے قدیم مکانات موجود ہیں جو حمیری دور سے تعلق رکھتے ہیں۔
1347 ہجری میں تعمیر ہونے والی مسجد النجدی سمیت دیگر تاریخی مقامات اس خطے کے ثقافتی ورثے کو اجاگر کرتے ہیں۔ ماضی میں موتیوں کی تلاش بھی یہاں کی معیشت کا اہم حصہ رہی ہے۔

ہر برس لاکھوں سیاح جزائر فرسان کا رخ کرتے ہیں جس کی بڑی وجہ یہاں کی قدرتی خوبصورتی اور سیاحتی سرگرمیاں ہیں۔
ان جزائر میں سیاحتی سرگرمیوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ خاص طور پر سالانہ فیسٹیول ’لیلی الحرید‘ (حرید نائٹس) ہزاروں افراد کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے۔
یہ پیشرفت مملکت کے وژن 2030 اور گرین سعودی انیشیٹیو کے اہداف سے ہم آہنگ ہے جس کا مقصد قدرتی وسائل کا تحفظ اور حیاتیاتی تنوع کو فروغ دینا ہے۔
