اسرائیل کے لبنان میں بیروت اور بقاع پر شدید حملے، 100 سے زائد افراد ہلاک
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے واضح کیا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی میں لبنان شامل نہیں ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
اسرائیل نے بدھ کے روز لبنان پر گزشتہ ماہ حزب اللہ کے ساتھ تنازع شروع ہونے کے بعد سے اب تک کے سب سے شدید حملے کیے، جن میں درجنوں افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو گئے۔
عرب نیوز کے مطابق لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق ان حملوں میں 112 افراد جان سے گئے اور 837 زخمی ہوئے۔
اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس نے ملک بھر میں شہری علاقوں میں موجود حزب اللہ کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا۔
لبنانی سرکاری میڈیا کے مطابق حملے ملک کے مختلف حصوں میں کیے گئے، جن میں دارالحکومت بیروت، اس کے جنوبی مضافات اور بقاع وادی شامل ہیں۔
اے ایف پی ٹی وی کی فوٹیج میں بیروت اور اس کے نواحی علاقوں سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھائی دیے، جبکہ صحافیوں نے سڑکوں پر خوف و ہراس کے مناظر بیان کیے۔
ایک لبنانی سکیورٹی ذریعے نے اس بمباری کو اسرائیل کے ساتھ تنازع شروع ہونے کے بعد کی سب سے شدید کارروائی قرار دیا۔
عینی شاہدین کے مطابق بیروت میں زخمی اور خون میں لت پت افراد ٹریفک میں اپنی گاڑیاں چھوڑ کر قریبی ہسپتالوں کی طرف دوڑ پڑے۔
ریسکیو اہلکاروں نے فورک لفٹس کی مدد سے جلی ہوئی گاڑیوں اور ملبے کو ہٹایا، جبکہ کئی گھنٹوں بعد بھی امدادی ٹیمیں ملبے میں زندہ بچ جانے والوں کی تلاش میں مصروف رہیں۔
لبنان کے وزیرِ اعظم نواف سلام نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ اسرائیلی حملے رکوانے میں مدد کرے۔
انہوں نے کہا کہ بیروت نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا خیر مقدم کیا ہے اور لبنان میں بھی جنگ بندی کے لیے کوششیں تیز کی ہیں، لیکن اسرائیل اپنے حملے بڑھا رہا ہے۔
لبنان کے صدر جوزف عون نے بھی امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ لبنان کو بھی اس علاقائی معاہدے میں شامل کیا جائے گا۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ حزب اللہ کے خلاف اپنی جنگ میں ’زمینی اور عسکری کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔‘
اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا کہ بدھ کے روز کیے گئے اچانک حملوں میں لبنان بھر میں حزب اللہ کے سینکڑوں ارکان کو نشانہ بنایا گیا، اور اسے 2024 کی پیجر بم کارروائی کے بعد سب سے بڑا حملہ قرار دیا۔
یہ حملہ امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود کیا گیا۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے واضح کیا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی میں لبنان شامل نہیں ہے۔
