Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بچھو سے ملتا جلتا سایہ: چاند کی روشنی میں ’الھبکہ غار‘ کا حیرت انگیز منظر

عرب اس غار کو’عقرب الاسود‘ کہتے ہیں (فوٹو: ایس پی اے)
رفحاء کے مغرب میں ’الھبکہ غار‘ کے داخلے پر ایک حیرت انگیز قدرتی منظر نے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کر رکھا ہے۔ جب اس غار کے دہانے پر چودھویں کے چاند کی روشنی پڑتی ہے تو صحرا کی زمین پر سیاہ بچھو سے مِلتا جُلتا ایک سایہ نظر آنے لگتا ہے۔
اس منظر میں فلکی اور ارضی دونوں عناصر ایک خاص ترکیب اور صورت میں یکجا ہو جاتے ہیں جس سے مملکت کے شمال میں واقع صحرا میں دیکھنے والوں کو فطرت کے فنی کمال کا ایک غیر معمولی مظاہرہ نظر آتا ہے۔
یہ ہیئت اس وقت نمودار ہوتی ہے جب بدرِ کامل کی روشنی غار کے منہ پر ایک مخصوص زاویے سے پڑتی ہے۔ غار کے دہانے کی بناوٹ اور ساخت اور روشنی کا خاص زاویے سے وہاں پر پڑنا اس مخصوص شکل کے سائے کو جنم دیتا ہے جسے سیاہ بچھو سے مشابہت ہے۔
عرب اسے ’عقرب الاسود‘ کا نام دیتے ہیں۔ بچھو کو عربی میں عقرب کہتے ہیں اور اسود کے معانی ہیں سیاہ۔
قدرتی مناظر کے شوقین اور فلکی مناظر کی فوٹی گرافی کرنے والے اس سائٹ کی طرف کھِچے چلے آ رہے ہیں۔ وہ حیران ہیں کہ کس طرح آسمان سے اترنے والی روشنی، زمین کی اونچی نیچی بناوٹ کے ساتھ مل کر ایک منفرد منظر کو تخلیق کرتی ہے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ مملکت، قدرتی خزانوں اور ایسے مقامات کی بیش بہا دولت سے مالا مال ہے جو کرۂ فلک اور قدرتی منظروں کے دلدادہ افراد کو اپنی طرف متوجہ کرتی رہتی ہے۔
برجس الفلیح کا تعلق ایسٹرونومی کی (اے ایف اے کیو) سوسائٹی سے ہے۔ انھوں نے سعودی پریس ایجنسی کو بتایا کہ غار کے دہانے پر بدرِ کامل کی روشنی پڑنے سے بننے والا منظر حقیقی ہے جسے ایک خاص مقام سے اور ایک خاص وقت پر جب چاند کا نور ایک خاص زاویے سے غار کے دہانے کو منور کر رہا ہو، دیکھا جا سکتا ہے۔
انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جب چاند کی روشنی افقی ہو کر پہاڑ کی طرف سے ابھرتے ہوئے غار کے دہانے پر پڑتی ہے تو ایسے لگتا کہ یہ عقرب الاسود ہو۔

الفلیح کا کہنا تھا کہ انھیں اِس بناوٹ کا علم سردیوں میں اس وقت ہوا جب وہ غار کے اندر جانے کے لیے صبح ہونے کا انتظار کر رہے تھے۔ انھوں نے دیکھا کہ جب شام آٹھ بجے چاند طلوع ہوتا ہے پہاڑی کی بنیاد کے قریب تو سیاہ بچھو جیسی شکل بننا شروع ہو جاتی ہے۔ اِس شکل کی وجہ سے اس غار کو ’العقرب الاسود‘ بھی کہتے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ یہ منظر اور یہ شکل اس وقت بھی نظر آتی ہے جب سورج کی پہلی کرنیں غار کے دہانے پر پڑتی ہیں۔
حدودِ الشمالیہ کے علاقے میں یہ غار خود بھی ایک قابلِ ذکر فطری پہلو کا درجہ رکھتا ہے۔ اس کی سطحِ ارضی کے 500 میٹر نیچے راستوں کا سراغ ملا ہے۔ اس کی تین بڑی راہداریاں ہیں جن کی چوڑائی اور اونچائی مختلف ہے۔

علاوہ ازیں، اس غار سے کئی دوسرے غاروں اور گڑھوں کی طرف بھی راستے جاتے ہیں۔ الھبکہ غار جنگلی حیات کے لیے بھی ایک قدرتی مسکن کا کام دیتا ہے جس میں بھیڑیے، لگڑ بھگے اور لومڑیاں شامل ہیں۔
جنگلی حیات کے قومی مرکز نے بتایا تھا کہ دو سال قبل یہاں سے چیتوں کی باقیات بھی ملی تھیں۔
یہ غار رفحاء سے 160 کلومیٹر کے فاصلے پر الھبکہ گاؤں کے قریب واقع ہے جہاں اس علاقے کے قدیم ترین آبی وسائل پائے جاتے ہیں۔

شیئر: