Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

لبنان میں سوگ، اسرائیلی حملوں نے امریکہ ایران جنگ بندی کو ہلا کے رکھ دیا

امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ لبنان جنگ بندی کے معاہدے میں شامل نہیں (فوٹو: اے ایف پی)
لبنان نے اسرائیلی حملوں میں 200 کے قریب کی ہلاکت کے بعد جمعرات کو یوم سوگ منانے کا اعلان کیا ہے جبکہ امریکہ و ایران کے درمیان جنگ بندی کے بعد ہونے والے اس حملے نے ڈیل پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ڈیل کے بعد واشنگٹن اور تہران دونوں نے فتح کے دعوے کیے تھے، جس میں دو ہفتے کی جنگ بندی کے علاوہ تنازع کے مکمل خاتمے کے لیے مذاکرات کے نکات بھی شامل تھے۔
اس جنگ کی وجہ سے جہاں خطے میں ہزاروں ہلاکتیں ہوئیں وہیں عالمی معیشت بھی ہل کر رہ گئی۔
ایران جنگ شروع ہونے کے بعد حزب اللہ مارچ کے اوائل اس وقت جنگ میں شامل ہوا جب اس نے ایران سے یکجہتی کے طور پر اسرائیل پر میزائل داغے، اس کے جواب میں اسرائیل نے لبنان پر مسلسل حملے کیے اور تازہ تباہ کن حملہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔
لبنان کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز کم سے کم 182 افراد ہلاک ہوئے جبکہ 900 کے قریب زخمی ہوئے تھے۔
امریکہ و ایران کے درمیان ہونے والے جنگ بندی میں لبنان کے شامل ہونے کے حوالے سے متضاد بیانات سامنے آئے ہیں، ایران کا کہنا ہے کہ اس کو ڈیل میں شامل کیا گیا جبکہ اسرائیل اور امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ اس ڈیل کا حصہ نہیں ہے۔
لبنان کے وزیراعظم آفس کی جانب سے جمعرات کو بتایا گیا کہ ’اسرائیلی حملوں میں سینکڑوں بے گناہوں اور نہتے شہریوں کو نشانہ بنایا گیا اور ان کی یاد میں یوم سوگ منایا جائے گا۔‘
بیان میں ایڈمنسٹریشنز کو قومی جھنڈوں کو سرنگوں رکھنے کی ہدایت بھی کی گئی۔

صدر ٹرمپ بھی لبنان کے جنگ بندی کا حصہ ہونے سے انکار کر چکے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

اس کے چند گھنٹے بعد حزب اللہ کی جانب سے بتایا گیا کہ پہلے اسرائیل نے جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کی جس کے جواب میں راکٹ داغے گئے۔
امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے اسرائیل کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ لبنان کو جنگ بندی سے خارج کر دیا گیا ہے جبکہ ایک دو روز میں وہ پاکستان میں ہونے والے مذاکرات کے سیشن میں تہران کے حکام کے ساتھ بات چیت بھی کرنے والے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر ایران لبنان کے معاملے پر جس کے بارے میں امریکہ نے کبھی نہیں کہا کہ وہ معاہدے کا حصہ ہے، مذاکرات کو ختم کرنا چاہتا ہے تو یہ اس کی اپنی مرضی ہے۔‘  
تاہم دوسری جانب ایران کی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ جن ’قابل بنیادوں پر بات چیت‘ ہونا تھی، ان کی پہلے ہی خلاف ورزی کر دی گئی ہے، جس سے آگے کی بات چیت ’نامناسب‘ ہو گئی ہے۔‘

لبنان کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ حملوں سے بدھ کو کم از کم 182 افراد ہلاک اور 900 زخمی ہوئے تھے (فوٹو: اے ایف پی)

انہوں نے جنگ بندی کی مبینہ امریکی خلاف ورزیوں کا تذکرہ کیا جن میں لبنان میں مسلسل حملے، ایرانی فضائی حدود میں ڈرون کا داخلہ اور یورینیم کی افزودگی کے حق کی مخالفت کے نکات شامل تھے۔
جنگ بندی کی نزاکت کو مزید بڑھاتے ہوئے ایک سینیئر امریکی اہلکار کا کہنا ہے کہ ایران کا 10 نکاتی منصوبہ امریکہ کی ان شرائط سے مکمل طور پر مطابقت نہیں رکھتا جو جنگ بندی کے لیے وائٹ ہاؤس نے دی تھیں۔
اقوام متحدہ کے شعبہ انسانی حقوق کے سربراہ والکر ٹرک نے لبنان میں بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کو ’ہولناک‘ قرار دیا ہے، جو دارالحکومت بیروت کے قریبی علاقوں میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ہوئیں۔

 

شیئر: