مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کی گئی حالیہ کوششیں اس وقت شدید خطرے میں پڑ گئیں جب اسرائیل نے جمعرات کو لبنان پر اپنی اب تک کی سب سے زیادہ ہولناک بمباری کی۔
عرب نیوز نے بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ لبنان پر کیے گئے حملوں میں 250 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جس کے بعد ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے خبردار کیا ہے کہ لبنان پر اسرائیلی جارحیت نے جنگ بندی کے مذاکرات کو ’بے معنی‘ کر دیا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ وہ حزب اللہ کو نشانہ بناتے رہیں گے۔
مزید پڑھیں
انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا ’ہم حزب اللہ پر پوری قوت، درستی اور عزم کے ساتھ حملے جاری رکھیں گے۔ ہمارا پیغام واضح ہے جو بھی اسرائیلی شہریوں کے خلاف کارروائی کرے گا، ہم اسے نہیں چھوڑیں گے۔‘
دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ جنوبی لبنان میں اپنی زمینی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے جہاں مارچ کے آغاز سے ہی اس کی فوجیں حزب اللہ کے ساتھ برسرِ پیکار ہیں۔
اسرائیلی حکام کے مطابق رات گئے ہونے والے حملوں میں لیطانی دریا کے قریب حزب اللہ کے ہتھیاروں کے گوداموں اور ان گزرگاہوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جنہیں اسلحے کی نقل و حمل کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

اس وقت سب سے بڑا سفارتی تنازع جنگ بندی کے دائرہ کار پر ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ لبنان اس معاہدے کا حصہ نہیں ہے جبکہ ایران اور ثالث کا کردار ادا کرنے والے ملک پاکستان کا موقف اس کے برعکس ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی واضح کیا ہے کہ مجوزہ جنگ بندی میں لبنان اور تمام ’مزاحمتی بلاک‘ شامل تھے۔
اسی کشیدگی کے سائے میں ایرانی مذاکرات کار سنیچر کو پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات کرنے والے ہیں تاہم تہران نے واضح کر دیا ہے کہ جب تک اسرائیل لبنان پر حملے بند نہیں کرتا، کسی بھی حتمی معاہدے تک پہنچنا ممکن نہیں ہو گا۔
لبنانی حکومت کا سخت اقدام
بیروت میں ہونی والی تباہی کے بعد لبنانی کابینہ نے ایک ہنگامی اجلاس میں سکیورٹی فورسز کو حکم دیا ہے کہ دارالحکومت بیروت میں ہتھیاروں پر صرف ریاست کا کنٹرول ہونا چاہیے۔
وزیراعظم نواف سلام نے کہا کہ فوج فوری طور پر ریاست کی عملداری قائم کرے تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ ماضی میں ایسے احکامات کے باوجود حزب اللہ کی فوجی سرگرمیاں نہیں روکی جا سکیں۔













