مجتبیٰ خامنہ کے زخم نہیں بھرے، چہرہ اور ٹانگ بری طرح متاثر ہیں: ذرائع
مجتبیٰ خامنہ ای کے والد آیت اللہ خامنہ ای 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے حملے میں ہلاک ہوئے تھے (فوٹو: اے ایف پی)
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے وہ زخم ابھی تک ٹھیک نہیں ہوئے ہیں جو فضائی حملے دوران ان کے چہرے اور پاؤں پر لگے۔
رپورٹ کے مطابق ان کے قریبی حلقے کے تین سورسز نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ اس حملے میں مجتبیٰ خامنہ ای کا چہرہ اور ایک یا دونوں ٹانگیں متاثر ہوئیں، جس میں ان کے والد آیت اللہ خامنہ ای ہلاک ہوئے تھے۔
نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر بات کرنے والوں کے مطابق 56 سالہ رہنما صحت یاب ہو رہے ہیں اور ذہنی طور پر بہت تیز ہیں اور ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے سینیئر حکام سے ملاقاتیں بھی کر رہے ہیں جبکہ واشنگٹن کے ساتھ جنگ اور مذاکرات سمیت اہم مسائل پر فیصلہ سازی میں مصروف ہیں۔
اس سوال کہ آیا ان کی صحت ملک کی اس نازک صورت حال کے وقت میں ریاستی امور چلانے کی اجازت دیتی ہے، کے حوالے سے ان کے قریبی لوگوں کے اکاؤنٹس ان کی صحت کے بارے میں تفصیلات فراہم کرتے رہے ہیں تاہم روئٹرز آزادانہ ذرائع سے ان کی تصدیق نہیں کرا سکا۔
مجبتیٰ خامنہ ای کے ٹھکانے، حالت اور حکمرانی کی صلاحیت کے حوالے سے معلومات اب بھی بڑی حد تک عوام کے لیے بنی ہوئی ہیں۔
فضائی حملے اور آٹھ مارچ کو انہیں والد کی جگہ سپریم لیڈر بنائے جانے کے بعد ان کی کوئی تصویر، ویڈیو یا آڈیو ریکارڈنگ سامنے نہیں آئی ہے۔
خبر رساں ادارے کا یہ بھی کہنا ہے کہ اقوام متحدہ میں ایران مشن نے ان کی صحت اور ان کے منظرعام پر نہ آنے کی وجہ سے متعلق سوالات کا جواب نہیں دیا۔
مجتبیٰ خامنہ 28 فروری کو امریکہ و اسرائیل کے ابتدائی حملوں میں زخمی ہوئے تھے اور اس میں ان کے والد آیت اللہ خامنہ ای جو 1989 سے حکومت کر رہے تھے، ہلاک ہو گئے تھے۔
اسی حملے میں مارنے جانے والے خاندان کے دوسرے افراد میں مجتبیٰ خامنہ ای کی اہلیہ، بہنوئی دوسرے افراد میں ان کے خاندان کے دیگر افراد
خامنہ ای 28 فروری کو، امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے شروع کی گئی جنگ کے پہلے دن، اس حملے میں زخمی ہوئے تھے جس میں ان کے والد اور پیش رو آیت اللہ علی خامنہ ای، جو 1989 سے حکومت کر رہے تھے، ہلاک ہو گئے تھے۔ اس حملے میں مجتبیٰ خامنہ ای کی اہلیہ کے علاوہ دوسرے رشتہ دار بھی مارے گئے تھے۔
مجتبیٰ خامنہ کے زخموں کی نوعیت کے حوالے سے ایرانی حکومت کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا تاہم ٹیلی ویژن پر ایک نیوز کاسٹر نے ان کے لیے ’جانباز‘ کا الفاظ استعمال کیا جو جنگ میں زخمی ہونے والوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
13 مارچ کو امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے ان کے زخموں کا ذکر ایک بیان میں کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’وہ زخمی ہوئے اور ممکنہ طور پر ان کا چہرہ بھی متاثر ہوا ہے۔‘
امریکی انٹیلی جنس کی اسسمنٹس سے واقفیت رکھنے والے ایک سورس نے روئٹرز کو بتایا کہ ’خامنہ ای کے بارے میں یہ خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ وہ ایک ٹانگ کھو چکے ہیں۔‘
