Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اسلام آباد میں امریکہ ایران مذاکرات کا تیسرا دور بھی اختتام پذیر

ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے وفود کے درمیان مذاکرات کے دو ادوار اسلام آباد میں مکمل ہو چکے ہیں، جبکہ تیسرا دور سنیچر کو رات گئے شروع ہوا جو اتوار کی صبح اختتام پذیر ہوا۔
اس سے قبل ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے نمائندے کو ایران کی مذاکراتی ٹیم کے ایک قریبی شخص نے بتایا تھا کہ ’مذاکرات کا اگلا دور سنیچر کی رات یا اتوار کو ہونے کا امکان ہے۔‘
اس سے قبل وائٹ ہاؤس کے ایک سینیئر عہدے دار نے بتایا تھا کہ ’پاکستان کی میزبانی میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات براہِ راست ہو رہے ہیں۔‘
مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں جبکہ ان کے ہمراہ امریکی صدر کے خصوصی ایلچی برائے مشرق وسطیٰ سٹیو وِٹکوف اور ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کُشنر بھے شریک ہیں۔
بات چیت میں ایرانی وفد کی قیادت پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف کر رہے ہیں، جبکہ وزیر خارجہ عباس عراقچی اور دیگر اعلٰی حکام بھی وفد کا حصہ ہیں۔
واضح رہے کہ یہ ماضی میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات سے مختلف ہیں، جب دونوں ممالک ایک ثالث کے ذریعے بات چیت کرتے رہے ہیں، جبکہ اُن کے وفود دو الگ الگ کمروں میں موجود ہوتے تھے۔
ایک ایرانی ٹیم کے نمائندے کے مطابق پاکستان کی کوششوں سے مشرق وسطیٰ میں جنگ ختم کرنے کے لیے جاری اِن مذاکرات کا ایک اور دور بھی ہو سکتا ہے۔
ایرانی سرکاری ٹی وی کے ایک نمائندے نے بتایا کہ ’ہم انتظار کر رہے ہیں کہ یہ (مذاکرات کا تیسرا دور) ہو گا یا نہیں۔‘
ایران کی نیوز ایجنسی ’تسنیم‘ نے رپورٹ کیا کہ زمانۂ امن میں دنیا بھر میں خام تیل اور ایل این جی کی ترسیل کے لیے استعمال ہونے والی سٹریٹجک گزرگاہ آبنائے ہُرمز دونوں وفود کے درمیان بات چیت کا ایک اہم اختلافی نکتہ ہے۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ پاکستان کی میزبانی میں امریکہ اور ایران کے اعلٰی سطح کے وفود میں سنیچر کی رات مذاکرات ’جاری‘ ہیں۔

مذاکرات سے قبل وزیراعظم شہباز شریف اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے درمیان ملاقات ہوئی (فوٹو: اے ایف پی)

وائٹ ہاؤس کے ایک سینیئر عہدے دار نے سنیچر کو تحریری طور پر اپنا ردِعمل دیتے ہوئے عرب نیوز کو بتایا کہ ’امریکہ، پاکستان اور ایران براہِ راست مذاکرات کر رہے ہیں۔‘ 
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایرانی حکومت کے اکاؤنٹ کے مطابق ’مذاکرات ماہرین کی سطح کے دور میں داخل ہو گئے ہیں، جن میں اقصادی، فوجی، قانونی اور جوہری کمیٹیاں شامل ہیں۔‘
ایرانی حکومت کے اسی اکاؤنٹ پر مزید بتایا گیا ہے کہ ’اسلام آباد کے سرینا ہوٹل میں تکنیکی تفصیلات کو حتمی شکل دینے کے لیے مذاکرات کا عمل جاری ہے۔‘
مذاکرات سے قبل وزیراعظم شہباز شریف کی امریکی اور ایرانی وفود سے ملاقاتیں
سنیچر کو مذاکرات کے آغاز سے پہلے امریکی اور ایرانی وفود نے وزیراعظم ہاؤس میں پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔
وزیراعظم شہباز شریف اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے درمیان ملاقات کے بعد وزیراعظم آفس سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ ملاقات میں شہباز شریف نے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ ’یہ بات چیت خطے میں پائیدار امن کی جانب سنگ میل ثابت ہو گی۔‘

سپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں ایرانی وفد نے بھی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی (فوٹو: پی ایم آفس)

وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کرنے والے ایران کے وفد کی قیادت ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے تھے۔ ملاقات میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور دیگر دونوں ممالک کے دیگر اعلٰی حکام بھی موجود تھے۔
ملاقات میں پاکستان کے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی شریک تھے۔
مذاکرات میں دونوں وفود کے مثبت اور تعمیری رویے کی تعریف کرتے ہوئے وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ پاکستان خطے میں دیرپا امن کے حصول کے لیے دونوں فریقین کے درمیان اپنا سہولت کاری کا کردار جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔
شہر میں سکیورٹی کے سخت اقدامات
امریکہ اور ایران کے مذاکرات کے پیشِ نظر اسلام آباد میں سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔
وفاقی دارالحکومت میں جمعرات اور جمعے کو عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے شہر میں تمام تعلیمی ادارے اور سرکاری دفاتر بند رہے۔
پولیس، ایف سی اور فوج کے پانچ ہزار سے زائد اہلکاروں کو شہر کے اہم مقامات پر تعینات کیا گیا ہے جبکہ شہر کا ریڈزون مکمل طور پر سیل ہے جہاں غیر متعلقہ افراد اور نجی گاڑیوں کا داخلہ بند کر کے صرف سرکاری گاڑیوں کو نقل و حرکت کی اجازت دی گئی ہے۔
اسلام آباد ٹریفک پولیس نے ایک جامع ڈائیورژن پلان کے ذریعے ٹریفک کو متبادل فراہم کیا اور شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔

 

شیئر: