کون کب پہنچا، بیٹھک کہاں ہو گی؟ اسلام آباد مذاکرات کا ’نیا نکتہ‘ جو معمول سے ہٹ ہے
اسلام آباد میں آج سے مذاکرات کا سلسلہ شروع ہونے کا امکان ہے (فوٹو: اے ایف پی)
اسلام آباد میں امریکہ و ایران کے درمیان مذاکرات کا غلغلہ تو پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے ساتھ ہی شروع ہو گیا تھا تاہم اس بار کچھ ایسا نیا بھی ہو رہا ہے جو عموماً ایسے مواقع پر ہوتا نہیں۔
پاکستان سمیت پوری دنیا میں مذاکرات ہوں یا اور کوئی اور ایونٹ، جب وفود ملک میں پہنچتے ہیں تو سرکاری میڈیا ان کو براہ راست یا کم سے کم جلد از جلد دکھا دیتا ہے اور خبر بھی جاری ہو جاتی ہے۔
تاہم اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات کس قدر اہم یا حساس ہیں اس کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وفود کے لینڈ کر جانے کے بعد بھی کسی کو معلوم نہیں ہوا کیونکہ سرکاری میڈیا نے رپورٹ جاری کی نہ مناظر دکھائے جبکہ نجی میڈیا تو ایک خاص حد سے آگے کی رسائی نہیں رکھتا۔
کل رات ایران کے پارلیمانی سپیکر محمد باقر قالیباف کے اسلام آباد اترنے اور مقررہ مقام تک پہنچائے جانے کے بعد سرکاری ٹی وی پر اس کی فوٹیج اور خبر نشر ہوئی۔
اسی طرح اگر آج کی بات کی جائے تو امریکی وفد بھی نائب صدر ڈی جے وینس کی سربراہی میں صبح اسلام آباد میں پہنچ چکا تھا تاہم اس کی خبر اور رپورٹ بھی کافی دیر بعد جاری ہوئی۔
ایک اور اہم بات یہ بھی ہے کہ عموماً کسی بھی حوالے سے مذاکرات یا اجلاس کے مقام کا اعلان پہلے سے کر دیا جاتا ہے مگر اس بار ایک منفرد امر یہ بھی ہے کہ قائدین کے بمع وفود کے پہنچ جانے کے بعد بھی یہ بات غیرواضح ہے بات چیت کہاں پر ہو گی اور اس کے لیے کیا طریقہ کار اختیار کیا جائے گا۔
آیا فریقین آمنے سامنے بیٹھ کر بات کریں گے یا پھر الگ الگ کمروں میں بیٹھ ثالثوں کی مدد سے پیغامات کا تبادلہ کریں گے۔
اسی طرح دنیا بھر سے آنے والے صحافیوں کے لیے کنونشن سینٹر کو میڈیا سینٹر میں ڈھال دیا گیا ہے تاہم وہاں موجود غیرملکی میڈیا کے نمائندوں کی جانب سے بھی ایسی معلومات جاری نہیں ہو رہیں۔
پاکستان میں ایسی صورت حال پہلی بار دیکھی گئی ہے اور ماضی میں جھانکا جائے تو ہمیشہ یہی دکھائی دیتا رہا ہے کہ کسی بھی اہم بین الاقوامی ایونٹ کی خبروں کے علاوہ تفصیلات اور مقام کا اعلان بھی بہت پہلے کر دیا جاتا ہے۔
بظاہر دکھائی یہی دیتا ہے کہ مذاکرات کے حوالے سے اہم ترین امور کو پس پردہ رکھنے کا اقدام سکیورٹی پروٹوکولز کا حصہ ہو سکتا ہے تاہم اس کو ملک میں ایک نئی چیز کے طور ضرور محسوس کیا جا رہا ہے۔
