Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اسلام آباد مذاکرات: جے ڈی وینس کی ایران کو ’حتمی آفر‘، فیصلہ امریکہ پر منحصر: قالیباف

اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے میں ناکام رہے اور امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس واپس امریکہ روانہ ہو گئے ہیں۔
سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب رات گئے مذاکرات کے سیشن کے بعد اسلام آباد میں پریس بریفنگ کے دوران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ’ایک اچھی اور ایک بری خبر‘ کا تذکرہ کیا۔
ان کے مطابق ’ہم نے ایرانیوں کے ساتھ کافی ٹھوس بات چیت کی ہے، یہ اچھی ہے اور بری خبر یہ ہے کہ ہم کسی معاہدے تک نہیں پہنچے۔‘
انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’میرے خیال میں یہ خبر امریکہ کے لیے جتنی بری ہے، اس سے کہیں زیادہ ایران کے لیے ہے۔‘
امریکہ کے نائب صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’مذاکرات میں نیک نیتی کے ساتھ شرکت کی اور اپنی شرائط واضح طور پر پیش کی ہیں جو کہ ایران نے تسلیم نہیں کیں۔‘
ان کے مطابق ایرانی وفد کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے کوئی واضح عزم سامنے نہیں آیا۔

بات چیت کے دوران جے ڈی وینس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ رابطے میں رہے اور نصف درجن سے زائد بار ان سے بات کی (فوٹو: اے ایف پی)

ان کے مطابق ’ہمیں واضح اور مثبت تصدیق درکار ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔‘
بات چیت کے دوران جے ڈی وینس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ رابطے میں رہے اور نصف درجن سے زائد بار ان سے بات کی۔
جے ڈی وینس نے کہا کہ ’ہم ایک بہت سادہ تجویز چھوڑ کر جا رہے ہیں جو ہماری حتمی اور بہترین آفر ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آیا ایران اسے مانتا ہے۔‘
نائب صدر جے ڈی  وینس نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بھی شکریہ ادا کیا۔
امریکہ ایرانی وفد کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہا: باقر قالیباف
اتوار کی دوپہر ایران کے پارلیمانی سپیکر محمد باقر قالیباف نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’مذاکرات سے قبل میں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ ہمارے پاس ضروری حسنِ نیت اور ارادہ موجود ہے لیکن پچھلی دو جنگوں کے تجربات کی بنیاد پر ہمیں دوسرے فریق پر قطعاً بھروسہ نہیں۔‘

محمد باقر قالیباف مذاکرات کے لیے سہولت کاری پر پاکستان کا شکریہ بھی ادا کیا (فوٹو: ای پی اے

ان کے مطابق ’ایرانی وفد نے مستقبل کے حوالے سے کئی اقدامات اور تجاویز پیش کیں لیکن دوسرا فریق بالآخر مذاکرات کے اس دور میں ایرانی وفد کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔‘
ان کے مطابق ’امریکہ نے ہماری منطق اور اصولوں کو سمجھ لیا ہے اور اب یہ ان پر منحصر ہے کہ وہ فیصلہ کریں کہ آیا وہ ہمارا اعتماد جیتنے کی صلاحیت رکھتے ہیں یا نہیں۔‘
محمد قالیباف نے مزید کہا کہ ہم ’باوقار سفارت کاری‘ کو ایرانی قوم کے حقوق کے حصول کے لیے عسکری جدوجہد کے ساتھ ساتھ ایک متبادل طریقہ کار سمجھتے ہیں اور ایرانیوں کے 40 روزہ 'قومی دفاع' کے ثمرات کو مستحکم کرنے کی کوششوں سے ایک لمحے کے لیے بھی دستبردار نہیں ہوں گے۔
انہوں نے مذاکرات میں سہولت کاری پر پاکستان کا شکریہ بھی ادا کیا۔
’ضرورت سے زیادہ‘ مطالبات معاہدے تک پہنچنے میں رکاوٹ بنے: ایرانی حکومت
ایران کی نیم سرکاری نیو ایجنسی تسنیم کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ’ضرورت سے زیادہ‘ مطالبات معاہدے تک پہنچنے میں رکاوٹ بنے اور ختم ہو گئے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ کسی کو سیشن میں معاہدے تک پہنچنے کی توقع نہیں تھی۔

امریکی نائب صدر ڈی جے وینس نے وزیراعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات بھی کی تھی (فوٹو: اے ایف پی)

ان کے مطابق ’تہران کو یقین ہے کہ پاکستان اور خطے میں دوسرے دوستوں کے درمیان رابطے جاری رہیں گے۔‘

 

شیئر: