’چُرا لیا ہے تم نے جو دل ۔۔۔‘، کئی نسلوں کو متاثر کرنے والی آشا جی
’چُرا لیا ہے تم نے جو دل ۔۔۔‘، کئی نسلوں کو متاثر کرنے والی آشا جی
اتوار 12 اپریل 2026 11:59
آشا بھوسلے 8 ستمبر 1933 کو شاہی ریاست سانگلی کے گاؤں گور میں پیدا ہوئیں (فوٹو: فلم فیئر)
’بریلی کے بازار میں جُھمکا گرنے‘ کا احوال بڑے مترنم انداز میں بتانے والی وہ آشا بھوسلے چل بسی ہیں، جن کی آواز آج بھی کئی نسلوں کو ماضی میں لے جاتے ہوئے رومانوی زندگی کے تار چھیڑ دیتی ہے۔
برصغیر پاک و ہند کی یہ عظیم گلوکارہ 8 ستمبر 1933 کو شاہی ریاست سانگلی کے گاؤں گور میں پیدا ہوئیں۔
ان کے والد پنڈت دینا ناتھ اپنے عہد کے مشہور اداکار اور گلوکار تھے، جنہوں نے کلاسیکی موسیقی کی تربیت گوالیار گھرانے سے حاصل کی تھی۔
دادا گوا کے تاریخی منگیشی مندر سے پنڈٹ کے طور پر منسلک تھے جب کہ دادی یسوبائی دیوداسی تھیں جن کے خون میں ہی فن کی خدمت کرنا شامل تھا۔ منگیشی شہر کی نسبت سے ہی برہمنوں کا یہ خاندان منگیشکر کے لاحقے سے مشہور ہوا۔
آشا جب نو برس کی تھیں تو والد چل بسے۔ اُس وقت فلموں کے لیے گیت گانا اُن کا شوق نہیں بلکہ مجبوری تھی۔ اُن کے لیے مگر موسیقی میں اپنا کریئر بنانا آسان ثابت نہیں ہوا۔
انہوں نے سال 1948 میں ہنس راج بہل کی فلم ’چنریا‘ کے لیے گیت گایا مگر کامیابی کے لیے اُن کو فی الحال کئی برس انتظار کرنا تھا۔ یہ وہ ہنس راج بہل ہی ہیں جنہوں نے غیرمنقسم ہندوستان کے شہر لاہور کے تاریخی انارکلی بازار میں موسیقی کا ایک سکول قائم کیا تھا اور ریکارڈ لیبل ’ایچ ایم وی‘ کے ذریعے کچھ غیر فلمی گیت بھی ریلیز کیے تھے۔
آشا کو بڑی بریک کا انتظار تھا، یہ وہ دور تھا جب لتا جی کو سال 1948 میں ریلیز ہونے والی فلم ’مجبور‘ کے ذریعے بالی وڈ میں بڑا بریک مل چکا تھا۔ وہ ان دنوں ہی اپنے سے دگنی عمر کے گنپت راؤ بھوسلے سے محبت کر بیٹھیں، جو اُن کی بہن کے سیکرٹری تھے۔ وہ اُس وقت صرف 16 برس کی تھیں۔
منگیشگر خاندان نے اس شادی کو قبول نہیں کیا اور آشا جی سے تمام رشتے ناتے توڑ لیے۔
بعدازاں آشا نے بیٹے ہیمنت کو جنم دیا تو اُن کا اپنے خاندان سے رشتہ بحال ہونا شروع ہوا۔ اُن کے شوہر یہ نہیں چاہتے تھے کہ وہ اپنے خاندان اور خاص طور پر لتا کے قریب ہوں۔
فلم ’رنگیلا‘ کے بعد اے آر رحمان اور آشا بھوسلے نے ایک ساتھ کئی یادگار گیت دیے (فائل فوٹو: رحمانیک ڈاٹ کام)
آشا جی ایک انٹرویو میں اس بارے میں کہا تھا کہ ’میں نے بہت چھوٹی عمر میں محبت کی شادی کر لی جس پر لتا مجھ سے ناراض ہو گئیں اور انہوں نے میری مدد کرنے سے انکار کر دیا۔‘
انہوں نے اس انٹرویو میں ہی اپنے سسرال کے متعلق بات کرتے ہوئے کہا تھا ’میرا سسرال بہت تنگ ذہن تھا جس کے لیے گلوکارہ بہو کو برداشت کرنا مشکل ہو گیا۔ انہوں نے میرے ساتھ ناروا سلوک روا رکھا اور مجھے بالآخر اس وقت گھر چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔‘
آشا اس شادی کے بعد ’بھوسلے‘ ہوئیں تو انہوں نے کبھی ’منگیشکر‘ کا لاحقہ استعمال نہیں کیا بلکہ ایک مشکل شادی اور بچوں کے ساتھ کامیابی کے در وا کرنے میں کامیاب رہیں۔ یہ سفر مگر آسان نہیں تھا۔
انہوں نے 50 کی دہائی میں کسی بھی دوسری پلے بیک گلوکارہ کی نسبت زیادہ گیت گائے، یہ وہ زمانہ تھا جب لتا، گیتا دَت اور شمشاد بیگم کامیابی کی ضمانت سمجھی جاتی تھیں۔ ایسے میں ان گلوکاراؤں کی جانب سے کوئی پیشکش رَد کی جاتی تو وہ آشا قبول کر لیتیں چنانچہ انہوں نے اس زمانے میں بہت سی دوسرے اور تیسرے درجے کی فلموں کے لیے گیت گائے۔
انہوں نے اس دوران اگرچہ بے مثل ہدایت کار بمل رائے کی فلم ‘پرینیتا‘ اور راج کپور کی فلم ’بوٹ پالش‘ کے لیے گیت گائے مگر سال 1956 میں ریلیز ہوئی فلم ’سی آئی ڈی‘ اُن کے کریئر میں اہم موڑ ثابت ہوئی۔ اس فلم کی موسیقی او پی نیّر نے دی تھی جس کے بعد دونوں میں ایسا تخلیقی رشتہ قائم ہوا جس نے بالی وُڈ کو بہت سے یادگار گیت دیے۔
سنہ 1957 میں ریلیز ہونے والی فلم ’نیا دور‘ کے ذریعے گلوکارہ کو وہ بریک ملا جس کے لیے انہوں نے طویل عرصہ انتظار کیا تھا۔ اس فلم کے موسیقار بھی او پی نیّر ہی تھے جب کہ ہدایت کار اور پروڈیوسر بی آر چوپڑہ تھے جو غیرمنقسم ہندوستان کے شہر لاہور کے معروف فلمی جریدے ’سائن ورلڈ‘ کے لیے کسی زمانے میں فلم ریویو لکھتے رہے تھے۔ معروف ہدایت کار اور فلم ساز یش چوپڑہ ان کے چھوٹے بھائی تھے۔
انہوں نے آنے والے برسوں میں بی آر چوپڑا کی کئی فلموں کے لیے گیت گائے جن میں ’گمراہ‘، ’وقت۔‘ ،’ہمراز‘، ’آدمی اور انسان‘ اور ’دھند‘ شامل ہیں جب کہ او پی نیّر اور اُن کا تخلیقی رشتہ بہت سے کامیاب گیت دینے کے بعد کچھ ذاتی اور پیشہ ورانہ وجوہات کے باعث ٹوٹ گیا۔
ان ہی برسوں سال 1966 میں فلم ’تیسری منزل‘ ریلیز ہوئی۔ ڈانسنگ ہیرو شمی کپور اور آشا پاریکھ کی یہ فلم باکس آفس پر کامیاب تو رہی ہی بلکہ اس کے گیت بھی ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے جن کے ذریعے آر ڈی برمن کو وہ بریک مل گیا تھا جس کے وہ منتظر تھے۔
آشا نے اس فلم کے لیے ایک بار پھر محمد رفیع کے ساتھ دو گانے گائے تھے جو آج دہائیاں گزر جانے کے بعد بھی سماعتوں میں رَس گھولتے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ آر ڈی برمن نے جب گیت ’آ جا آ جا‘ کے لیے آشا بھوسلے سے رابطہ کیا تو انہوں نے یہ گیت گانے سے انکار کر دیا کیوں کہ اُن کا یہ خیال تھا کہ وہ یہ مغربی دھن نہیں گا پائیں گے جس پر آر ڈی برمن نے موسیقی تبدیلی کرنے کا سوچا تو آشا نے انہیں ایسا کرنے سے روک دیا اور یہ گیت ایک چیلنج سمجھ کر گایا۔ انہوں نے اس گیت کے لیے 10 روز تک ریہرسل کی اور جب یہ ریکارڈ ہوا تو فلم بین ایک مختلف طرز کی موسیقی سے متعارف ہوئے۔
شمی کپور نے اسی گانے کے لیے کہا تھا ’محمد رفیع اگر مجھے اپنی آواز مستعار نہ دیتے تو آشا بھوسلے یہ ذمہ داری ادا کرتیں‘۔
اس فلم کے بعد آشا اور آر ڈی برمن میں ایسا تخلیقی رشتہ استوار ہوا جس نے بالی وڈ میں سنگیت کی روایت کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
یہ فلم ’ہرے رام ہرے کرشنا‘ کا گیت، ’دم مارو دم‘ ہو یا فلم ’یادوں کی بارات‘ کا گیت، ’چرا لیا ہے تم نے‘ ، دونوں نے ایک ساتھ کئی یادگار گیت تخلیق کیے۔
ان دونوں کا یہ تخلیقی رشتہ محبت کی ایک ایسی یادگار داستان میں تبدیل ہو گیا جو ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔
آشا نے سال 1948 میں ہنس راج بہل کی فلم ’چنریا‘ کے لیے پہلا گیت گایا (فائل فوٹو: آئی ایم ڈی بی)
محبت کی اس کہانی کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب نوجوان آر ڈی برمن نے فی الحال فلمی دنیا میں قدم نہیں رکھا تھا۔ وہ اکثر اپنے والد ایس ڈی برمن کے ساتھ فلمی سٹوڈیوز آجایا کرتے اور انہوں نے انہی دنوں پہلی بار آشا کو دیکھا، وہ اُن کی گائیکی کے مداح تھے، تو انہوں نے گلوکارہ سے آٹو گراف لینے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔ آنے والے برسوں میں نوجوان برمن کی شادی تو ہوئی مگر یہ کامیاب نہ ہو سکی۔ یہ وہ وقت تھا جب وہ آشا کے قریب آئے جس کی ایک وجہ ان دونوں کی موسیقی سے وابستگی تھی اور دونوں ہی رجحان ساز تھے۔ چنانچہ آشا سے عمر میں چھ برس چھوٹے آر ڈی برمن نے گلوکارہ کو شادی کی پیشکش کر ڈالی۔ گلوکارہ کے لیے اُس وقت تک اُن کی سابق شادی کا دردناک انجام اُن کے سامنے تازہ تھا مگر موسیقار کے بارہا اصرار پر وہ یہ شادی کرنے پر تیار ہو گئیں اور یوں دونوں ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے کے ہو گئے۔
سال 1995 میں ہدایت کار رام گوپال ورما کی فلم ’رنگیلا ‘ ریلیز ہوئی۔ یہ بطور موسیقار اے آر رحمان کی پہلی ہندی فلم تھی۔ اس وقت آشا بھوسلے کی عمر 62 برس تھی مگر انہوں نے جب اُرمیلا کے لیے اپنی آواز مستعار دی تو فلم بین بے اختیار اَش آش کر اٹھے۔
آشا جی کو ان کے طویل کریئر کے دوران سب سے زیادہ سات بار بہترین خاتون پلے بیک گلوکارہ کے فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا گیا، اسی طرح بالی وڈ کا اہم ترین دادا صاحب پھالکے ایوارڈ بھی انہیں ملا جبکہ موسیقی کی تاریخ میں سب سے زیادہ گیت گانے کا ریکارڈ بھی انہی کے نام ہے۔