Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کانز فلم فیسٹیول میں ہائی ہیلز کا غیر اعلانیہ قانون، ستارے بغاوت پر آمادہ

تقریباً 80 برس سے کانز فلم فیسٹیول خود کو سنیما کی دنیا کی سب سے باوقار تقریب کے طور پر پیش کرتا آیا ہے (فوٹو: گیٹی)
دنیا میں شاید ہی کوئی ایسی جگہ ہو جہاں سیڑھیوں کو اتنی سنجیدگی سے لیا جاتا ہو جتنی کانز فلم فیسٹیول میں لیا جاتا ہے۔
فرانس کے شہر کانز میں واقع پالے دے فیسٹیول کی مشہور سرخ قالین والی سیڑھیاں محض ایک داخلی راستہ نہیں بلکہ ایک مکمل تماشہ سمجھی جاتی ہیں جہاں فلم، فیشن اور شہرت ایک دوسرے میں گھل مل جاتے ہیں۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق تقریباً 80 برس سے کانز فلم فیسٹیول خود کو سنیما کی دنیا کی سب سے باوقار تقریب کے طور پر پیش کرتا آیا ہے۔ یہاں لگنے والا ریڈ کارپٹ اکثر فلموں سے زیادہ توجہ حاصل کر لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کانز میں لباس اور انداز کو ہمیشہ غیرمعمولی اہمیت دی گئی، شاید ضرورت سے کچھ زیادہ۔
تاہم اس سال ایک بار پھر جوتوں ایک جوڑے نے سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی۔
اداکارہ اور فلم ساز کرسٹن سٹیورٹ جب 79ویں کانز فلم فیسٹیول میں فلم ’فل فل‘ کے پریمیئر پر پہنچیں تو انہوں نے روایتی ہائی ہیلز پہننے کے بجائے سیاہ رنگ کے کینوس سنیکرز اور سفید موزے پہن رکھے تھے۔ انہوں نے سرخ اور سیاہ رنگ کے شینیل گاؤن کے ساتھ اس غیر روایتی انتخاب سے ایک بار پھر کانز کے سخت ڈریس کوڈ کو خاموش انداز میں چیلنج کیا۔
یہ پہلا موقع نہیں تھا جب کرسٹن سٹیورٹ نے کانز کی ہائی ہیل روایت کو نظرانداز کیا ہو۔ سنہ 2018 میں جب وہ جیوری ممبر تھیں، انہوں نے فلم ’بلیک کلینز مین‘ کے پریمیئر کے دوران پالے کی سیڑھیوں پر چڑھتے ہوئے اپنی کرسچین لوبوٹن ہیلز اتار دی تھیں۔ اس عمل کو خواتین پر ہائی ہیل پہننے کے غیر اعلانیہ دباؤ کے خلاف احتجاج سمجھا گیا تھا۔
اگرچہ کانز فلم فیسٹیول اب باضابطہ طور پر فلیٹ جوتوں پر پابندی نہیں لگاتا تاہم سنیکرز اب بھی ریڈ کارپٹ پر ممنوع ہیں۔ موجودہ قواعد کے مطابق خواتین ’خوبصورت فلیٹ جوتے یا سینڈلز‘ پہن سکتی ہیں لیکن ٹرینرز یا سپورٹس شوز کو اب بھی غیر رسمی لباس تصور کیا جاتا ہے۔
فیسٹیول انتظامیہ کے مطابق کانز ایک ’بلیک ٹائی‘ روایت کا حصہ ہے جہاں پرانی طرز کی شان و شوکت کو برقرار رکھنا ضروری سمجھا جاتا ہے جبکہ سنیکرز آرام، روزمرہ زندگی اور سٹریٹ فیشن کی علامت مانے جاتے ہیں۔ منتظمین کے خیال میں اگر ریڈ کارپٹ پر سپورٹس شوز کی اجازت دے دی جائے تو وہ مخصوص ’خوابناک منظر‘ متاثر ہو سکتا ہے جو کانز ہر سال پیش کرتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ آج کل کئی لگژری سنیکرز کی قیمتیں مہنگی ہائی ہیلز سے بھی زیادہ ہوتی ہیں مگر پھر بھی انہیں غیر رسمی تصور کیا جاتا ہے۔

ساشا لین بھی ایک موقع پر بغیر سینڈل کے فوٹو کال میں شریک ہوئیں (فوٹو: گیٹی)

کانز فلم فیسٹیول 1946 میں شروع ہوا تھا اور وقت کے ساتھ یہ دنیا کا سب سے بڑا فلمی میلہ بن گیا، جہاں فلم، فیشن اور سیلیبریٹی کلچر ایک دوسرے کا حصہ بن گئے۔
سنہ 1950 اور 1960 کی دہائیوں میں کانز ’ریویرا گلیمر‘ کی علامت بن چکا تھا جہاں ستارے ٹکسیڈو، ساٹن گاؤن، اوپیرا گلوز اور ہیرے پہن کر ریڈ کارپٹ پر آتے تھے۔
اسی ماحول میں ہائی ہیلز کو نسوانیت، نفاست اور رسمی پن کی علامت سمجھا جانے لگا جبکہ سنیکرز کو ’سڑک کا فیشن‘ قرار دیا گیا۔
سنہ 2015 میں کانز کے جوتوں سے متعلق قوانین پر اس وقت شدید تنازع کھڑا ہوا جب کئی خواتین نے دعویٰ کیا کہ انہیں فلم ’کیرول‘ کی سکریننگ میں صرف اس لیے داخلے سے روک دیا گیا کیونکہ انہوں نے ہائی ہیلز کے بجائے فلیٹ جوتے پہن رکھے تھے۔ اس واقعے کو سوشل میڈیا پر ’فلیٹ گیٹ‘ کا نام دیا گیا اور فیسٹیول پر صنفی امتیاز کے الزامات لگائے گئے۔
بعد ازاں انتظامیہ نے وضاحت دی کہ ہائی ہیلز کبھی باضابطہ طور پر لازمی نہیں تھیں، تاہم تب تک معاملہ عالمی بحث بن چکا تھا۔
اس کے بعد کئی مشہور شخصیات نے کانز کے اس غیر تحریری اصول کے خلاف احتجاج کیا۔ جولیا رابرٹس سنہ 2016 میں فلم ’منی مونسٹر‘ کے پریمیئر پر بغیر سینڈل کے پہنچیں، جبکہ جینیفر لارنس نے 2023 میں اپنے ڈائر گاؤن کے نیچے فلپ فلاپس پہن کر سب کو حیران کر دیا۔ اسی طرح ساشا لین بھی ایک موقع پر بغیر سینڈل کے فوٹو کال میں شریک ہوئیں۔

سنہ 2015 میں کانز کے جوتوں سے متعلق قوانین پر شدید تنازع کھڑا ہوا (فوٹو: گیٹی)

اگرچہ کانز نے وقت کے ساتھ کچھ نرمی ضرور دکھائی ہے لیکن اس کے قوانین آج بھی سخت سمجھے جاتے ہیں۔ 2025-2026 کے نئے ضوابط میں نہ صرف ’نیکڈ ڈریسنگ‘ بلکہ حد سے زیادہ بڑے گاؤنز اور لمبی ٹرین والے لباس پر بھی قدغن لگائی گئی ہے جبکہ مردوں کے لیے اب بھی بلیک ٹائی لباس لازمی قرار دیا جاتا ہے۔
کرسٹن سٹیورٹ کے سنیکرز دراصل صرف جوتوں کا معاملہ نہیں بلکہ بدلتی ہوئی ثقافتی سوچ کی علامت ہیں۔ ایک طرف پرانی دنیا کا وہ تصور ہے جہاں خوبصورتی کے لیے تکلیف برداشت کرنا ضروری سمجھا جاتا تھا جبکہ دوسری طرف آج کی سیلیبریٹی کلچر ہے جہاں آرام، انفرادیت اور ذاتی اظہار کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔

شیئر: