آبنائے ہُرمز کی بندش اور توانائی کا شدید ہوتا بحران، انڈین وزرا کے خلیجی ممالک کے دورے
آبنائے ہُرمز کی بندش اور توانائی کا شدید ہوتا بحران، انڈین وزرا کے خلیجی ممالک کے دورے
ہفتہ 11 اپریل 2026 18:32
بھارت کو اپنی 1.4 ارب آبادی کو گھریلو استعمال کے لیے گیس فراہم کرنے کے لیے خلیجی ممالک پر انحصار کرنا پڑتا ہے (فوٹو: روئٹرز)
انڈیا کے اعلیٰ وزرا رواں ہفتے خلیجی ممالک کا دورہ کر رہے ہیں تاکہ توانائی کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے، کیونکہ ایران اور امریکہ و اسرائیل جنگ کے باعث گیس کی قلت بڑھتی جا رہی ہے۔
عرب نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق انڈیا اپنی ضرورت کی مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کا قریباً 60 فیصد درآمد کرتا ہے، جس کی وجہ سے وہ دنیا کا دوسرا بڑا ایل پی جی درآمد کنندہ ہے۔
جنوبی ایشیائی ملک انڈیا کو اپنی 1 ارب 40 کروڑ کی آبادی کو کھانا پکانے کے لیے گیس فراہم کرنے کے لیے خلیجی ممالک اور خاص طور پر قطر، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب پر بہت زیادہ انحصار کرنا پڑتا ہے۔
آبنائے ہُرمز کی بندش کے باعث انڈیا کو ایل پی جی کی ترسیل کم ہو گئی ہے، جس کے پیش نظر انڈین وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے سنیچر کو متحدہ عرب امارات کا دو روزہ دورہ شروع کیا تاکہ اماراتی حکام سے ملاقات کر سکیں، جبکہ وزیر پیٹرولیم و قدرتی گیس ہردیپ سنگھ پوری نے جمعے کو قطر کا دورہ مکمل کیا۔
انڈین وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ایک پریس بریفنگ میں کہا ہے کہ ’ہمارے وزرا توانائی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے خلیجی ممالک کا دورہ کر رہے ہیں۔‘
وزارتِ پیٹرولیم و گیس کے ایک بیان میں کہا گیا کہ حکومت آبنائے ہرمز سے متعلق جاری صورتِ حال کے پیشِ نظر ’پیٹرولیم مصنوعات اور ایل پی جی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔‘
ہردیپ سنگھ پوری نے دوحہ میں اپنی ملاقاتوں کے بعد کہا کہ قطر کے وزیر مملکت برائے توانائی امور سعد شریدہ الکعبی نے انڈیا کے لیے ’قابلِ اعتماد توانائی فراہم کنندہ رہنے کے عزم‘ کا اعادہ کیا ہے۔
انہوں نے 8 اپریل کو امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی دو ہفتوں کی جنگ بندی پر بھی تبادلہ خیال کیا اور ’عالمی توانائی کی فراہمی میں خلل کے جلد خاتمے اور معمولات کی بحالی کی اہمیت‘ پر زور دیا۔
انڈین وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے سنیچر کو متحدہ عرب امارات کا دو روزہ دورہ شروع کیا (فائل فوٹو: گلف نیوز)
انڈیا چونکہ اپنے خام تیل کی ضرورت کا قریباً 85 فیصد درآمد کرتا ہے، جس میں سے قریباً 30 فیصد آبنائے ہرمز کے ذریعے آتا ہے، اس لیے بھارتی حکومت متحدہ عرب امارات سمیت دیگر ممالک کے ساتھ اپنی وسیع توانائی ضروریات پر بھی بات چیت کر رہی ہے۔
جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے سکول آف انٹرنیشنل سٹڈیز کے ایسوسی ایٹ پروفیسر مدثر قمر نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’آبنائے ہرمز کی بندش نے انڈیا میں تشویش پیدا کر دی ہے اور وہ اپنے جی سی سی شراکت داروں اور دیگر متعلقہ فریقین کے ساتھ بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کے مطابق ایک قابلِ قبول حل تلاش کرنا چاہتا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’توانائی کی تجارت انڈیا اور متحدہ عرب امارات کے دوطرفہ تعلقات کا ایک اہم حصہ ہے، اور اے ڈی نوک (ابوظبی نیشنل آئل کمپنی) کا انڈیا کے سٹریٹجک ذخائر میں اہم کردار ہے۔‘
مدثر قمر نے مزید کہا کہ ایس جے شنکر کا متحدہ عرب امارات کا دورہ ’خطے کے ساتھ بھارت کے وسیع تر روابط کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔‘ انہوں نے جمعہ کو انڈیا کے وزیر صنعت و تجارت پیوش گوئل اور ان کے بحرینی ہم منصب عبداللہ بن عادل فخرو کے درمیان ہونے والی ورچوئل ملاقات کا حوالہ بھی دیا۔
تکشاشیلا انسٹیٹیوشن سے منسلک ریسرچ فیلو ادیتیہ راماناتھن نے عرب نیوز کو بتایا کہ ایس جے شنکر کا دورہ متحدہ عرب متحدہ اور خطے کے دیگر ممالک کے لیے ’ایک سفارتی پیغام‘ بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’یہ دونوں فریقوں کو جنگ کے حوالے سے کھل کر براہِ راست گفتگو کرنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔‘
’ایس جے شنکر اور ان کے ہم منصب بلاشبہ صورتِ حال کا نہایت دیانت دارانہ جائزہ پیش کریں گے اور آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کریں گے۔‘