وزڈن کی عالمی کرکٹ کی انتظامیہ میں انڈیا کی سیاسی مداخلت پر سخت تنقید
لارنس بوتھ نے یہ بھی بتایا کہ 2025 ایشیا کپ میں سیاست کس طرح شامل ہوئی۔(فوٹو: اے ایف پی)
وزڈن نے عالمی کرکٹ کی انتظامیہ میں انڈیا کی سیاسی مداخلت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صورتحال بتدریج ’آرویلیئن کنٹرول‘ کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔
برطانیہ میں شائع ہونے والی ’وزڈن کرکٹرز المانک‘، جو کہ 1864 سے چھپتا ہے، دنیا بھر کی بڑی کرکٹ سرگرمیوں کا سالانہ ریکارڈ ہے اور اسے اس کھیل کی ’بائبل‘ سمجھا جاتا ہے۔
اپنے 163ویں سالانہ ایڈیشن میں، جو جمعرات کو شائع ہوگا، ایڈیٹر لارنس بوتھ نے عالمی کھیل پر انڈیا کے غیر صحت مند اور سیاسی غلبے پر تشویش کا اظہار کیا۔
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے چیف ایگزیکٹو سنجوگ گپتا ہیں جبکہ چیئرمین جے شاہ ہیں، جو انڈیا کے وزیر داخلہ امت شاہ کے بیٹے اور وزیر اعظم نریندر مودی کے قریبی ساتھی ہیں۔
وزڈن نے بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (بی سی سی آئی)، جس کی قیادت جے شاہ نے آئی سی سی میں آنے سے پہلے کی، کو ’انڈیا کی حکمران جماعت بی جے پی
کا کھیلوں سے متعلق ذیلی ادارہ قرار دیا ہے۔
لارنس بوتھ نے یہ بھی بتایا کہ 2025 ایشیا کپ میں سیاست کس طرح شامل ہوئی، جو انڈیا اور پاکستان کے درمیان مختصر فوجی کشیدگی کے پس منظر میں کھیلا گیا، جس کے باعث دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں نے ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے سے انکار کر دیا۔
بوتھ نے لکھا کہ ’کیا 2025 میں کھیل کی حکمرانی پر اس سے واضح تنقید کوئی اور ہو سکتی تھی کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی نے کہا کہ 'سیاست اور کھیل اکٹھے نہیں چل سکتے'؟ غالباً وہ بھول گئے تھے کہ وہ اپنے ملک کے وزیر داخلہ بھی ہیں۔‘
بوتھ نے مزید کہا کہ ’یہ بات اس تازہ بیان بازی سے بہت پہلے ہی واضح ہو چکی تھی کہ بی سی سی آئی انڈیا کی حکمران جماعت بی جے پی کا کھیلوں سے متعلق حصہ ہے۔‘
’لیکن یہ تعلق اس وقت واضح ہو گیا جب انڈین کپتان سوریہ کمار یادو نے ایشیا کپ میں پاکستان کے خلاف پہلی جیت کو مسلح افواج کے نام کیا۔‘
’اور یہ خیال کہ کرکٹ اب زیادہ خطرناک سرگرمیوں کا ایک جائز متبادل بن چکی ہے، اس وقت مزید مضبوط ہوا جب انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے فائنل میں پاکستان کو شکست دینے کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا: ’میدان میں آپریشن سندور۔ نتیجہ وہی، انڈیا کی جیت‘ حقیقی دنیا کے آپریشن سندور میں سرحد کے دونوں جانب درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔‘
بوتھ نے بنگلہ دیش کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمٰن کا حوالہ بھی دیا، جنہیں انڈین پریمیئر لیگ کی ٹیم کولکتہ نائٹ رائیڈرز سے اس وقت نکالا گیا جب دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی تھی، جس کی وجہ بنگلہ دیش میں ہندو افراد کے قتل کا واقعہ تھا۔
مستفیض کے آئی پی ایل سے نکلنے کے بعد واقعات کا ایک سلسلہ شروع ہوا، جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش کو اس سال کے مینز ٹی 20 ورلڈ کپ سے باہر ہونا پڑا، کیونکہ ان کی حکومت نے ٹیم کو انڈیا جانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔
’کھیل کی حکمرانی دن بہ دن زیادہ اورویلیئن ہوتی جا رہی ہے، جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ بھارتی استثنائیت کے کوئی نتائج نہیں ہوتے، اور اس کے بجائے نچلی سطح کے افراد کو موردِ الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔‘عثمان طارق کے ایکشن پر تنازع: مچل کے کریز سے ہٹنے پر اشون کی حمایت، پاکستانی سپنر کا جواب