چاچا کرکٹ نے کھیل سے میدان سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیوں کر دیا؟
پاکستان کرکٹ کے سب سے معروف اور جذباتی سپورٹر ’چاچا کرکٹ‘ نے رواں برس ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا ہے۔
آسٹریلیا کے خلاف لاہور میں ہونے والا تیسرا اور آخری ون ڈے ان کے لیے پاکستان میں قومی ٹیم کو سٹیڈیم میں سپورٹ کرنے کا آخری موقع ہوگا البتہ وہ اس موسم گرما میں انگلینڈ میں پاکستان کی تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے دوران بھی گرین شرٹس کی حوصلہ افزائی کے خواہش مند ہیں۔
کرکٹ ویب سائٹ کرک انفو کے مطابق 77 سالہ عبدالجلیل دنیا بھر میں “چاچا کرکٹ” کے نام سے مشہور ہیں۔ انہوں نے پہلی بار 1968-69 میں لاہور میں انگلینڈ کے دورۂ پاکستان کے دوران سٹیڈیم میں بیٹھ کر کرکٹ میچ دیکھا تھا۔ بعد ازاں 1980 اور 1990 کی دہائی میں شارجہ کرکٹ سٹیڈیم میں پاکستان ٹیم کے مستقل سپورٹر کے طور پر ان کی شناخت بنی جہاں ان کا سبز کرتا اور سبز ٹوپی والا منفرد انداز شائقین کرکٹ کی توجہ کا مرکز بن گیا۔
عبدالجلیل نے متحدہ عرب امارات میں اپنی ملازمت چھوڑ کر خود کو مکمل طور پر پاکستان کرکٹ کی سپورٹ کے لیے وقف کر دیا تھا۔ 1999 کے ورلڈ کپ میں بھی وہ انگلینڈ پہنچے اور وسیم اکرم کی قیادت میں کھیلنے والی قومی ٹیم کی بھرپور حمایت کی جس کے بعد وہ عالمی کرکٹ حلقوں میں ایک پہچانی جانے والی شخصیت بن گئے۔
چاچا کرکٹ کا کہنا ہے کہ اب ان کی خواہش ہے کہ وہ اپنے آبائی شہر سیالکوٹ کے قریب ایک ریسٹورنٹ اور کرکٹ میوزیم قائم کریں جہاں وہ گزشتہ کئی دہائیوں میں جمع کی گئی یادگار اشیا نمائش کے لیے رکھیں گے۔
انہوں نے کرک انفو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’میرا ہدف تھا کہ پاکستان کے 500 میچز میں ٹیم کو سپورٹ کروں اور الحمدللہ میں یہ ہدف حاصل کر چکا ہوں۔‘
پاکستان میں چاچا کرکٹ کو ایک سیلیبرٹی کا درجہ حاصل ہے۔ مقامی ٹیپ بال ٹورنامنٹس سے لے کر شادی بیاہ کی تقریبات تک مختلف ایونٹس میں ان کی شرکت کو خاص اہمیت دی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’میں نے ہمیشہ صرف کھیل اور اپنے ملک کی محبت میں یہ سب کیا۔ میری کوشش رہی کہ پاکستان کا مثبت چہرہ دنیا کے سامنے پیش کروں اور شائقین کو خوشیاں دوں۔ اب ریٹائرمنٹ کے بعد فلاحی کام کرنے کا ارادہ ہے۔‘
چاچا کرکٹ نے ماضی کی یادیں تازہ کرتے ہوئے بتایا کہ وہ 1986 میں شارجہ کے تاریخی مقابلے میں بھی موجود تھے، جب جاوید میانداد نے آخری گیند پر چیتن شرما کو چھکا لگا کر پاکستان کو تاریخی فتح دلائی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ’مجھے آج بھی وہ لمحہ یاد ہے جب میانداد نے ڈیپ مڈوکٹ کے اوپر سے چھکا مارا۔‘
انہوں نے 2017 چیمپئنز ٹرافی فائنل میں انڈیا کے خلاف پاکستان کی فتح کو بھی اپنے یادگار ترین لمحات میں شامل قرار دیا۔
تاہم کچھ شکستیں آج بھی انہیں تکلیف دیتی ہیں۔ خاص طور پر 2024 ٹی20 ورلڈ کپ میں نیویارک میں انڈیا کے خلاف 120 رنز کا ہدف حاصل نہ کر پانا۔
چاچا کرکٹ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’میں ٹیم کی سپورٹ کے لیے بہت دور کا سفر کر کے گیا تھا لیکن وہ میچ آج بھی دل دکھاتا ہے۔‘
اسی طرح 2011 ورلڈ کپ سیمی فائنل میں موہالی میں انڈیا کے ہاتھوں شکست بھی ان کے لیے ایک تلخ یاد ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’میں سری لنکا سے کراچی، پھر سیالکوٹ اور وہاں سے سرحد عبور کر کے انڈیا پہنچا تھا۔ ہم وہ میچ جیت سکتے تھے، لیکن غلطیاں کھیل کا حصہ ہوتی ہیں۔‘
پاکستان کرکٹ ٹیم اس وقت اپنی تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزر رہی ہے۔ قومی ٹیم 2023 کے بعد سے بیرون ملک کوئی ٹیسٹ میچ نہیں جیت سکی جبکہ حال ہی میں بنگلہ دیش کے ہاتھوں دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں شکست کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
اس کے باوجود چاچا کرکٹ پرامید ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ پاکستان ٹیم جلد دوبارہ عروج حاصل کرے گی۔
انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں کہا کہ ’ہوتا ہے بھائی ہوتا ہے، کھیل میں ایسا ہوتا ہے۔ کبھی آگے کبھی پیچھے، کبھی خوشی کبھی غم، کبھی تم کبھی ہم۔‘