افغانستان سے تعلق رکھنے والی خاتون کوہ پیما ذکیہ احمد نے دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ سر کر کے تاریخ رقم کر دی اور وہ ایورسٹ سر کرنے والی پہلی افغان خاتون بن گئی ہیں۔
ذکیہ احمد، جنہیں ’ریور‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، نے جمعرات کی صبح نیپالی گائیڈز دوا تینزنگ شیرپا اور پھربا گیالجین شیرپا کے ہمراہ 8 ہزار 848 میٹر بلند چوٹی سر کی۔
مزید پڑھیں
-
برطانوی کوہ پیما نے ماؤنٹ ایورسٹ ریکارڈ 20 ویں مرتبہ سر کر لیNode ID: 904561
الپائن کلب آف پاکستان نے اپنے بیان میں بتایا کہ ذکیہ احمد کا تعلق افغانستان سے ہے اور طالبان کی واپسی کے بعد وہ ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئیں، بعد ازاں انہیں آسٹریلیا میں پناہ ملی۔
بیان کے مطابق ذکیہ احمد انسانی حقوق کی کارکن بھی ہیں اور ان کی یہ کامیابی نہ صرف افغانستان بلکہ جنگ اور تنازعات سے متاثرہ ممالک کی خواتین کوہ پیماؤں کے لیے بھی ایک اہم سنگ میل سمجھی جا رہی ہے۔
اس کامیابی کو خواتین، مہاجرین اور بے گھر افراد کے لیے حوصلے، عزم اور ثابت قدمی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
ماؤنٹ ایورسٹ دنیا کی بلند ترین چوٹی ہے، جو نیپال اور چین کے تبت کے سرحدی علاقے میں واقع ہے اور ہر سال دنیا بھر سے کوہ پیماؤں کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہے۔
Zakia "River" Ahmad, an Afghan refugee in Australia, made history today as the first Afghan woman to summit Mount Everest (8,848m) at 7:20 a.m. Once aspiring to be a journalist in Afghanistan, she now inspires the world with her courage, resilience, and determination. pic.twitter.com/BFkAxoMh8i
— Faizan Lakhani (@faizanlakhani) May 21, 2026
دوسری جانب پاکستانی کوہ پیما سلمان عتیق نے بھی جمعرات کو ماؤنٹ ایورسٹ سر کر لیا۔
الپائن کلب آف پاکستان کے مطابق سلمان عتیق کی یہ کامیابی پاکستان کی کوہ پیما برادری کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے۔
انہوں نے گزشتہ برس دنیا کی آٹھویں بلند ترین چوٹی ماؤنٹ مناسلو بھی سر کی تھی۔












