Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکہ ایران مذاکرات، دوسرا دور بھی پاکستان میں ہوسکتا ہے: صدر ٹرمپ

امریکی لڑاکا طیارہ ایران کے خلاف جنگ کے دوران فضا میں ری فیولنگ کرا رہا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو نیو یارک پوسٹ کو بتایا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا دوسرا دور ’اگلے دو دنوں میں‘ پاکستان میں ہو سکتا ہے، کیونکہ پہلا دور ہفتے کے آخر میں بغیر کسی معاہدے کے ختم ہو گیا تھا۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق صدر ٹرمپ نے اسلام آباد میں موجود نیو یارک پوسٹ کے ایک رپورٹر سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ کو وہیں رہنا چاہیے، واقعی، کیونکہ اگلے دو دنوں میں کچھ ہو سکتا ہے، اور ہم وہاں جانے کی طرف زیادہ مائل ہیں۔‘
ابتدائی گفتگو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ مذاکرات کے دوبارہ پاکستان آنے کا امکان کم ہے، تاہم پوسٹ کے مطابق انہوں نے چند منٹ بعد دوبارہ فون کر کے کہا کہ اب یہ ’زیادہ ممکن‘ ہے کہ مذاکرات دوبارہ اسلام آباد میں ہوں، کیونکہ پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر ’بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔‘
صدر ٹرمپ پاکستان کے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کا حوالہ دے رہے تھے، جن کے ساتھ انہوں نے گذشتہ سال اس وقت تعلق قائم کیا جب پاکستان انڈیا کے ساتھ اپنی جنگ کے بحران میں مبتلا تھا، جو صرف چار دن بعد ایک امن معاہدے کے ذریعے ختم ہوئی، جس میں امریکہ نے ثالثی کا کردار ادا کیا تھا۔
انہوں نے کہا، کہ ’وہ شاندار ہیں، اور اسی لیے زیادہ امکان ہے کہ ہم دوبارہ وہاں جائیں گے۔ ہم کسی ایسے ملک میں کیوں جائیں جس کا اس سے کوئی تعلق ہی نہ ہو؟‘
صدر ٹرمپ نے مزید کہا  کہ ’میں سمجھتا ہوں وہ ایک عظیم انسان ہیں۔ وہی شخص۔ فیلڈ مارشل۔ آپ جانتے ہیں کہ انہوں نے انڈیا کے ساتھ جنگ ختم کی اور 30 ملین لوگوں کو بچایا۔‘
ٹرمپ نے یہ نہیں بتایا کہ ممکنہ دوسرے مرحلے کے مذاکرات میں امریکہ کی نمائندگی کون کرے گا، لیکن انہوں نے تصدیق کی کہ وہ خود اس میں حصہ نہیں لیں گے۔

صدر ٹرمپ نے کہا مذاکرات دوبارہ اسلام آباد میں ہوں گے، کیونکہ پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر ’بہت اچھا کام کر رہے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

صدر نے یہ بھی اشارہ دیا کہ وہ ان خبروں سے خوش نہیں ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ امریکہ نے ایران سے کہا ہے کہ وہ کم از کم دو دہائیوں کے لیے اپنے یورینیم افزودگی پروگرام کو معطل کرے، جو اس گزشتہ ہفتے کے ناکام مذاکرات کے دوران زیرِ بحث آیا تھا۔
انہوں نے کہا، ’میں کہتا آیا ہوں کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتے، اس لیے مجھے 20 سال والی بات پسند نہیں ہے۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ عارضی پابندی ایران کو معاہدہ کرنے پر آمادہ کر سکتی ہے، تو ٹرمپ نے جواب دیا کہ ’میں نہیں چاہتا کہ انہیں (ایران کو) ایسا محسوس ہو کہ وہ جیت گئے ہیں۔‘
پیر کو ہی امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ ’امریکہ نے ایران کے ساتھ مذاکرات میں جنگ کے خاتمے کے حوالے سے اپنی ریڈلائنز واضح کر دی ہیں اور اب یہ تہران پر منحصر ہے کہ وہ قدم اٹھائے۔‘

ایران نے 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد آبنائے ہُرمز کو بند کردیا (فائل فوٹو: اے ایف پی)

فاکس نیوز کو ایک انٹرویو میں امریکی نائب صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’میرا خیال ہے کہ گیند اب ایران کی کورٹ میں ہے کیونکہ ہم نے بہت کچھ میز پر رکھ دیا ہے، درحقیقت ہم نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ہماری ریڈلائنز کیا ہیں۔‘
یاد رہے کہ 11 اپریل کو اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان قریباً 21 گھنٹے تک جاری رہنے والے مذاکرات بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گئے تھے جس کے بعد امریکی نائب صدر ڈی جے وینس نے واپس روانہ ہونے کا اعلان کیا تھا۔
امریکی وفد کی روانگی کے بعد ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں ایران کا مذاکرات وفد بھی اپنے وطن روانہ ہو گیا تھا۔
واضح رہے کہ پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کا مقصد تنازعے کو مستقل طور پر ختم کرنا تھا جس کا آغاز 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے ہوا تھا۔
امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں معاہدہ نہ ہونے پر پاکستان نے آنے والے دنوں میں دوسرے دور کی میزبانی کی تجویزبھی پیش کی۔
اس سے قبل دو پاکستانی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ’مذاکرات کا پہلا دور یک طرفہ کوشش کے بجائے جاری سفارتی عمل کا حصہ تھی۔‘

شیئر: