Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

لبنانی صدر جوزف عون کا ایران کو دوٹوک پیغام، ’لبنان میں مداخلت آپ کا کام نہیں‘

صدر جوزف عون کے مطابق ’اس مسئلے کو حل کرنے اور ملک کو مزید نقصان سے بچانے کا واحد طریقہ مذاکرات اور سفارت کاری ہے۔‘ (فوٹو: سی این این)
لبنان کے صدر جوزف عون نے ایران کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ لبنان کے داخلی معاملات میں مداخلت کرنا ایران کا کام نہیں اور تہران کو لبنان کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرنا بند کرنا چاہیے۔
اے ایف پی کے مطابق امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیے گئے ایک ویڈیو انٹرویو میں صدر جوزف عون نے کہا کہ ’یہ آپ کا ملک نہیں، ہمارا ملک ہے۔ ہمارے ملک میں مداخلت کرنا آپ کا کام نہیں ہے۔‘
انہوں نے ایران پر الزام عائد کیا کہ وہ لبنان کو امریکہ کے ساتھ اپنے مذاکرات میں ایک سودے بازی کے آلے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
صدر عون نے کہا کہ ’وہ امریکہ کے ساتھ اپنی بات چیت میں لبنان کو ایک سودے بازی کے مہرے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں، اور یہ ناقابل قبول ہے۔‘
لبنانی صدر نے ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ کو بھی مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ تنازع کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کے سوا کوئی راستہ موجود نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’حزب اللہ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اس مسئلے کے حل اور جو کچھ باقی بچا ہے اسے بچانے کے لیے بیٹھ کر بات چیت کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔‘
صدر جوزف عون کے مطابق ’اس مسئلے کو حل کرنے اور ملک کو مزید نقصان سے بچانے کا واحد طریقہ مذاکرات اور سفارت کاری ہے۔‘
لبنانی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور لبنان میں حزب اللہ کے کردار، ایران کے اثر و رسوخ اور اسرائیل کے ساتھ جاری تناؤ پر سیاسی بحث شدت اختیار کر چکی ہے۔ جوزف عون کے حالیہ ریمارکس کو لبنان کی خودمختاری اور داخلی معاملات میں بیرونی مداخلت کے خلاف ایک واضح اور غیر معمولی مؤقف قرار دیا جا رہا ہے۔

شیئر: