ایران کا دعویٰ: خلیجِ عمان میں امریکی جنگی جہازوں پر انتباہی میزائل داغے، واشنگٹن کی تردید
مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ امریکہ نے ایران کی باقی ماندہ فضائی صلاحیت کو تباہ کر دیا ہے۔ (فوٹو: عرب نیوز)
ایران کی فوج نے جمعہ کو دعویٰ کیا ہے کہ اس نے خلیجِ عمان میں موجود امریکی بحریہ کے دو ڈسٹرائر جنگی جہازوں پر ’انتباہی میزائل‘ فائر کیے، جس کے نتیجے میں دونوں جہازوں کو علاقہ چھوڑنا پڑا۔ تاہم امریکی فوج نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔
خبر رساں ادارے روئٹر نے ایرانی کی سرکاری نیوز ایجنسی کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایرانی فوج کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی بحریہ کے دو ڈسٹرائر خلیجِ عمان میں موجود تھے جنہیں ایرانی افواج کی جانب سے انتباہی میزائل فائر کیے جانے کے بعد علاقہ چھوڑنا پڑا۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی امریکہ کی جانب سے سمندری حدود میں مبینہ بدسلوکی، ہراسانی اور تجارتی جہازوں و تیل بردار ٹینکروں کو روکنے اور قبضے میں لینے کے اقدامات کے ردعمل میں کی گئی۔
دوسری جانب امریکی فوج کے سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے فوری طور پر ایرانی دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی افواج نے امریکی بحریہ کے کسی جنگی جہاز پر نہ حملہ کیا اور نہ ہی کوئی میزائل فائر کیا۔
سینٹکام کے مطابق اگر ایسا کیا جاتا تو یہ دونوں ممالک کے درمیان جاری جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی ہوتی۔ امریکی فوج نے مزید کہا کہ اس کی بحری افواج خطے کے پانیوں میں معمول کے مطابق سرگرم ہیں اور ایرانی بندرگاہوں کے خلاف عائد امریکی جوابی بحری ناکہ بندی پر عمل درآمد جاری رکھے ہوئے ہیں۔
یہ واقعہ 8 اپریل کو اعلان کردہ جنگ بندی کے بعد سامنے آنے والی تازہ کشیدگی ہے۔ مذکورہ جنگ بندی نے 28 فروری سے جاری ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان لڑائی کو بڑی حد تک روک دیا ہے۔ جنگ کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب اتحادی افواج نے ایران کو نشانہ بنایا تھا۔
اگرچہ براہِ راست اور ثالثی کے ذریعے مذاکرات کے کئی دور ہو چکے ہیں، تاہم جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے اب تک کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہو سکا۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بدھ کے روز کہا تھا کہ واشنگٹن اب ایران کے خلاف مسلسل فضائی حملے نہیں کر رہا کیونکہ امریکی فوجی کارروائی آپریشن ایپک فیوری اختتام پذیر ہو چکی ہے۔
مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ امریکہ نے ایران کی باقی ماندہ فضائی صلاحیت کو تباہ کر دیا ہے اور اس کی روایتی بحری قوت کو بھی مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔
جنگ شروع ہونے کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری ناکہ بندی نافذ کر دی تھی۔ آبنائے ہرمز خلیج کو بحرِ ہند سے ملانے والی دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس کے جواب میں امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کے خلاف اپنی علیحدہ بحری ناکہ بندی قائم کر دی۔
