Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران پر مزید مذاکرات کی تیاری، مشرقِ وسطیٰ میں امن کی امیدیں

امریکی صدر نے کہا کہ پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی بات چیت ’مؤثر اور جاری‘ ہے (فوٹو: اے ایف پی)
مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کی امیدیں اس وقت بڑھ گئیں جب فیلڈ مارشل عاصم منیر بدھ کو تہران پہنچے تاکہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تنازع کو مزید شدت اختیار کرنے سے روکا جا سکے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے بھی اس پیش رفت کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی بات چیت ’مؤثر اور جاری‘ ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی اور ایرانی حکام اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آئندہ ہفتے کے اختتام پر دوبارہ پاکستان میں مذاکرات کیے جائیں۔ گزشتہ اتوار کو ہونے والے مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے تھے۔ پاکستانی وزارتِ خارجہ نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ دونوں فریق بات چیت کے لیے تیار ہیں، تاہم تاریخ اور مقام کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جنرل منیر کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ تہران خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔ تاہم ایک سینیئر ایرانی عہدیدار نے اعتراف کیا کہ ’ایٹمی معاملات پر بنیادی اختلافات اب بھی موجود ہیں۔‘
گزشتہ مذاکرات میں امریکہ نے ایران کی ایٹمی سرگرمیوں کو 20 سال کے لیے معطل کرنے کی تجویز دی تھی، جبکہ ایران نے صرف تین سے پانچ سال کے لیے عارضی روک کی پیشکش کی۔ واشنگٹن چاہتا ہے کہ ایران میں موجود افزودہ جوہری مواد کو باہر منتقل کیا جائے، جبکہ تہران عالمی پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
جنگ کے آغاز کے بعد سے ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر ایران اور لبنان کے شہری شامل ہیں۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے، تاہم حالیہ دنوں میں امن کی امیدوں کے باعث سٹاک مارکیٹوں میں تیزی دیکھنے کو ملی ہے۔

امریکی فوج کے مطابق ایران کی بندرگاہوں سے کسی بھی جہاز کو ناکہ بندی کے دوران اجازت نہیں دی گئی (فائل فوٹو: اے ایف پی) 

امریکی محکمہ خزانہ نے چین کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ ایران سے تیل خریدتا رہا تو اس پر ثانوی پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں۔ وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ امریکی ناکہ بندی کے بعد چین کی خریداری ’عارضی طور پر رک سکتی ہے۔‘
امریکی فوج کے مطابق ایران کی بندرگاہوں میں داخل ہونے یا نکلنے کی کوشش کرنے والے کسی بھی جہاز کو ناکہ بندی کے دوران اجازت نہیں دی گئی۔ تاہم ایرانی خبر رساں ادارے فارس نے دعویٰ کیا کہ ایک ایرانی سپر ٹینکر ناکہ بندی کے باوجود امام خمینی پورٹ تک پہنچ گیا۔

 

شیئر: