Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اسرائیل اور لبنان 10 روزہ جنگ بندی پر رضامند ہو گئے: ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسرائیل اور لبنان 10 روزہ جنگ بندی پر رضامند ہو گئے ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق امریکی صدر نے جمعرات کو سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں اعلان کیا کہ اس جنگ بندی کا اطلاق جمعرات کی رات 9 بجے سے ہو گا۔
یہ معاہدہ ڈونلڈ ٹرمپ کی لبنانی صدر جوزف عون اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ ’بہترین گفتگو‘ کے بعد طے پایا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا نیٹ ورک ’ٹروتھ سوشل‘ پر کہا کہ ’ (لبنان اور اسرائیل کے) ان دو رہنماؤں نے اتفاق کیا ہے کہ اپنے ممالک کے درمیان امن کے حصول کے لیے وہ باضابطہ طور پر شام 5 بجے سے 10 روزہ جنگ بندی کا آغاز کریں گے۔‘
انہوں نے اپنی پوسٹ میں لبنان کی حزب اللہ تحریک کا ذکر نہیں کیا۔
سرکاری نیشنل نیوز ایجنسی (این این اے) کے مطابق مذاکرات سے قبل اسرائیلی فوج نے جمعرات کو جنوبی لبنان کے ایک اہم پل پر دو حملے کیے جس سے وہ تباہ ہو گیا۔
این این اے نے بتایا کہ ’دشمن کے طیاروں نے قاسمیہ پل پر دو لگاتار حملے کیے جو صور اور صیدا کے علاقوں کے درمیان آخری پل تھا، اسے مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔‘
لبنانی ایوانِ صدر کے ایکس (ٹویٹر) اکاؤنٹ پر جاری ایک پوسٹ کے مطابق صدر جنرل جوزف عون کو امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی جانب سے فون کال موصول ہوئی۔
پوسٹ میں مزید کہا گیا کہ جوزف عون نے ’جنگ بندی کے لیے واشنگٹن کی کوششوں اور ہر سطح پر اس کی حمایت کا شکریہ ادا کیا۔‘
پوسٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ’مارکو روبیو نے اپنی جانب سے لبنان میں امن، سلامتی اور استحکام کے قیام کے پیش خیمہ کے طور پر جنگ بندی کے حصول کے لیے جاری کوششیں جاری رکھنے کی تصدیق کی، اور صدر عون کے موقف کی حمایت اور تعریف کی۔‘

واشنگٹن کا کہنا ہے کہ اس کی توجہ لبنانی اور اسرائیلی حکومتوں کے درمیان اعتماد سازی پر ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

امریکی انتظامیہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے قبل ازیں کہا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل اور لبنان میں حزب اللہ کے درمیان دشمنی کے خاتمے کا ’خیرمقدم‘ کریں گے لیکن انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایسا کوئی بھی نتیجہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کا حصہ نہیں ہے۔
روئٹرز کے مطابق نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر مذکورہ عہدیدار نے بتایا کہ ’صدر، اسرائیل اور لبنان کے درمیان امن معاہدے کے حصے کے طور پر دشمنی کے خاتمے کا خیر مقدم کریں گے۔‘
عہدیدار کے مطابق ’امریکہ ایک پائیدار امن دیکھنا چاہتا ہے لیکن اس نے فوری جنگ بندی کا مطالبہ نہیں کیا‘ اور ’امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات، اسرائیل اور لبنان کے درمیان جاری امن مذاکرات سے منسلک نہیں ہیں۔‘

یہ معاہدہ ڈونلڈ ٹرمپ کی لبنانی صدر اور اسرائیلی وزیراعظم کے ساتھ ’بہترین گفتگو‘ کے بعد طے پایا (فائل فوٹو: اے ایف پی)

تاہم ٹیلی گرام پر جاری کردہ ایک بیان کے مطابق ایران کے پارلیمانی سپیکر محمد باقر قالیباف نے جمعرات کو اپنے لبنانی ہم منصب کو بتایا کہ لبنان میں جنگ بندی ’اتنی ہی اہم‘ ہے جتنی کہ ایران میں۔
ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ ختم کرنے کے لیے ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے باقر قالیباف نے نبیہ بری کے ساتھ فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تہران ’معاہدے کے مطابق اپنے دشمنوں کو تمام تنازعات والے علاقوں میں مستقل جنگ بندی قائم کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ہمارے لیے لبنان میں جنگ بندی اتنی ہی اہم ہے جتنی ایران میں جنگ بندی۔‘
واشنگٹن کا کہنا ہے کہ اس کی توجہ لبنانی اور اسرائیلی حکومتوں کے درمیان اعتماد سازی پر ہے ’تاکہ ہم امن معاہدے کے لیے گنجائش پیدا کر سکیں اور تاکہ مستقبل کی کسی بھی تفہیم کو پائیدار بنایا جا سکے۔‘

شیئر: