Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکہ کے ایران کی بندرگاہوں پر مسلسل حملے، ایرانی افواج کا بحرین اور کویت پر جوابی حملہ

حالیہ امریکی حملوں میں 50 ایرانی شہری جاں بحق اور 500 زخمی ہوئے ہیں (فوٹو:گیٹی)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد کہ امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی ایران کو بھاری قیمت چکانا پڑے گی، امریکی افواج نے ایران کے جنوبی اور مغربی علاقوں پر بمباری کی ہے، جس کے جواب میں میں ایران نے منگل کو بحرین، کویت اور اُردن میں امریکی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جبکہ آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق حملوں کے حالیہ بڑھتے ہوئے سلسلے کے باعث تیل کی قیمتوں میں تقریباً 2 فیصد اضافہ ہوا ہے، جنہوں نے گزشتہ ماہ ہونے والے عبوری امن معاہدے کو تقریباً غیر مؤثر بنا دیا ہے۔ تاہم، ایران اور امریکہ کی جانب سے سفارت کاری بحال کرنے کی خواہش کے اشاروں نے قیمتوں میں اضافے کو محدود رکھا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ ’تازہ حملوں میں ایران کے فوجی کمانڈ سینٹرز، بحری صلاحیتوں، میزائل اور ڈرون لانچنگ سائٹس اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا گیا۔‘
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق جنوبی شہر شیراز کے اطراف میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق جنوبی ساحلی علاقوں کونارک اور چاہ بہار، مغربی شہر خرم آباد اور ابدانان کے قریب ایک شہری مقام کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ بعدازاں ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے خرم آباد کے ایک عہدیدار کے حوالے سے کہا کہ وہاں کسی دشمن کے حملے کی تصدیق نہیں ہوئی۔
ایران کی وزارتِ صحت کے ایک عہدیدار کے مطابق حالیہ امریکی حملوں میں 50 ایرانی شہری جاں بحق اور 500 زخمی ہوئے ہیں۔
امریکی محکمۂ خارجہ نے خطے میں کشیدگی بڑھنے کے ساتھ ہی مشرق وسطیٰ میں ’بڑھتی ہوئی کشیدگی‘ کے پیش نظر اپنے شہریوں کے لیے نئی ’عالمی سطح کی احتیاطی ہدایات‘ جاری کر دی ہیں۔

شیئر: