سعودی بیوٹی برانڈز مملکت کی کاسمیٹکس انڈسٹری کو نئی شکل دے رہی ہے
سعودی بیوٹی برانڈز مملکت کی کاسمیٹکس انڈسٹری کو نئی شکل دے رہی ہے
ہفتہ 18 اپریل 2026 10:48
رنا بانافع کے مطابق تمام چیزیں ریسرچ، پرفارمنس اور مہارت سے بنائی جاتی ہیں (فوٹو: انسٹاگرام)
سعودی عرب کی بیوٹی انڈسٹری اس وقت ایک بڑی تبدیلی سے گزر رہی ہے جہاں مقامی برانڈز ثقافتی ورثے کو جدید سائنسی جدت کے ساتھ ملا کر نمایاں مقام حاصل کر رہے ہیں۔ اب مارکیٹ میں مقامی طور پر تیار کردہ کاسمیٹکس کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جو جلد کے رنگ سے لے کر ذاتی اقدار تک مختلف ضروریات کو پورا کر رہے ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق اُن برینڈز میں سے ایک برینڈ مرایا ہے جسے رنا بانافع نے بنایا ہے۔ وہ روایت کو ایک متحرک اور بدلتی ہوئی چیز کے طور پر دیکھتی ہیں۔
رنا اس بارے میں کہتی ہیں کہ ’سعودی روایت کسی جامد چیز کو محفوظ رکھنے کا نام نہیں بلکہ یہ ترقی اور ارتقا کے بارے میں ہے۔ ہم ہمیشہ بہتری لاتے رہے ہیں اور ہمیشہ حالات کے مطابق خود کو ڈھالتے رہے ہیں۔ یہی سوچ مرایا کے قیام کا محرک بنی۔ ہم ایسا برینڈ بنانا چاہتے تھے جس سے اس بات کی عکاسی ہو کہ ہم کہاں سے آئے ہیں۔‘
وہ مزید کہتی ہیں کہ ’ہماری پروڈکٹ سائنس کے ذریعے بنی ہیں۔ یہی چیز مرایا کی بنیاد ہیں۔ اس برینڈ کا بیک گراؤنڈ فارماسیوٹیکل سائنس ہے لہذا تمام چیزیں ریسرچ، پرفارمنس اور مہارت سے بنائی جاتی ہیں نہ کہ یہ روایتی ٹوٹکے ہیں۔‘
باقی دیگر برینڈز کو فالو کرنے کے بجائے مرایا کوشش کرتا ہے کہ اپنے نئے فیشن میں سعودی عنصر بھی شامل کیا جائے۔
رنا بانافع نے کہا کہ ’ہمارا مستند ہونا ہی ہماری بنیاد ہے اور ہم نے برینڈ ایسے بنایا ہے کہ جسے ماڈرن کسٹمر کو اصل ضرورت ہو۔ ہم عالمی ٹرینڈز کو دیکھتے ہیں لیکن ہم انہیں اپنے لائف سٹائل کے ذریعے فلٹر کرتے ہیں۔ ہم اپنی ترجیحات شامل کرتے ہیں۔‘
علاء علي کہتی ہیں کہ ’میں کچھ منفرد بنانا چاہتی تھی جس کا معیار اعلیٰ ہو (فوٹو: عرب نیوز)
گاہکوں کی جانب سے اس برینڈ کا فیڈ بیک نہایت متاثر کن رہا ہے۔ رنا بانافع کے مطابق ’لوگ مقامی برینڈز کو سپورٹ کرنا پسند کرتے ہیں۔ خاص طور انہیں محسوس ہوتا ہے کہ اُن کی نمائندگی ہو رہی ہے۔‘
اسی طرح کا ایک اور برینڈ بوٹینیکل بلس ہے جس کی بانی علاء علي ہیں۔ یہ برینڈ ہربل ازم اور کمیونٹی کے اقدار کے گرد گھومتا ہے۔
علاء علي کہتی ہیں کہ ’میں کچھ منفرد بنانا چاہتی تھی جس کا معیار اعلیٰ ہو اور وہ چیز ہماری کمیونٹی کے لیے ہو۔
سعودی عرب کی بیوٹی انڈسٹری ایک بڑی تبدیلی سے گزر رہی ہے (فوٹو: شٹر سٹاک)
انہوں نے مزید کہا کہ ’جب آپ سفر کرتے ہیں اور آپ کو وہ مقامی دواخانے نظر آتے ہیں جو کئی سو برسوں سے موجود ہیں۔ میں چاہتی تھی کہ ہم کچھ ایسا جدید ورژن بنائیں۔ میں چاہتی ہوں کہ کمیونٹی کو قابل بھروسہ اور صاف ستھرے کاسمیٹک ملیں جو جڑی بوٹیوں پر مبنی ہو۔‘
ریم عواد العمری ’میمز ٹنٹ‘ کی بانی ہیں، یہ ایک سعودی بیوٹی برانڈ جو ہونٹوں اور گالوں کے لیے قدرتی اجزا جیسے عرقِ گلاب، گلیسرین اور پھلوں سے حاصل کردہ رنگوں پر مشتمل ٹنٹس بنانے میں مہارت رکھتا ہے۔
وہ کہتی ہیں ’میں نے محسوس کیا کہ میرے اردگرد بہت سی خواتین، چاہے وہ کام کی جگہ پر ہوں یا یونیورسٹی میں، خود کو سلیقے سے پیش کرنا چاہتی ہیں لیکن روایتی میک اپ کے استعمال سے ہچکچاتی ہیں کیونکہ اس کے ان کی جلد پر اثرات پڑتے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’میں کچھ ایسا بنانا چاہتی تھی جو قدرتی اور آسان محسوس ہو، بغیر اس کے کہ خواتین کو خوبصورتی اور سکن کیئر کے درمیان کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے۔‘