Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ٹائم میگزن کے 100 بااثر افراد کی فہرست میں انڈیا سے رنبیر کپور کی انٹری، پاکستان سے کوئی شامل نہیں

عام طور پر ٹائم کی فہرست میں بالی وڈ سے معروف خانوں میں سے کوئی نہ کوئی خان ہوتا تھا لیکن رنبیر کپور کی شمولیت گیم چینجر لگتی ہے۔ (فوٹو: سوشل میڈیا)
گذشتہ دنوں معروف عالمی میگزن ٹائم نے دنیا کے 100 بااثر ترین افراد کی اپنی تازہ فہرست جاری کی تو اس میں انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کا نام نہیں تھا جبکہ انڈیا کی جانب سے اداکار رنبیر کپور اس میں نظر آ رہے تھے جس پر سوشل میڈیا پر مختلف قسم کے تبصرے نظر آئے۔
ٹائم کی تازہ فہرست محض مشہور شخصیات کی ایک اور فہرست نہیں نظر آتی بلکہ یہ اس بدلتی ہوئی دنیا کا عکس تھی جہاں اثر و رسوخ کی نئی تعریفیں مرتب ہو رہی ہیں۔
اس فہرست میں جگہ بنانے والے افراد میں جہاں امریکی صدر ٹرمپ، چینی صدر شی جن پنگ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو موجود ہیں وہیں نیویارک کے نئے میئر ظہران ممدانی نے بھی اپنی جگہ بنائی ہے۔ جہاں تک جنوبی ایشیائی افراد کا سوال ہے تو اس میں پاکستان سے کسی فرد کی شمولیت نہیں جبکہ نیپال اور بنگلہ دیش کے نئے وزرائے اعظم بالیندر شاہ اور طارق رحمان نے جگہ بنائی ہے۔
انڈیا سے تین افراد کا نام نظر آ رہا ہے جس میں گوگل کے سی ای او سندر پچائی، معروف شیف وکاس کھنہ اور بالی وڈ اداکار رنبیر کپور شامل ہیں۔
عام طور پر ٹائم کی فہرست میں بالی وڈ سے معروف خانوں میں سے کوئی نہ کوئی خان ہوتا تھا لیکن رنبیر کپور کی شمولیت گیم چینجر لگتی ہے۔
رنبیر کپور کی شمولیت ایک ایسے اداکار کی آمد ہے جس کا سفر خاندانی وراثت سے نکل کر اپنی انفرادی شناخت قائم کرنے تک نہایت دلچسپ اور غیر متوقع رہا ہے۔
رنبیر کپور نے اپنے کریئر کے دوران ایک نازک توازن قائم رکھا ہے۔ وہ نہ تو حد سے زیادہ منظرِ عام پر آنے کے خواہش مند رہے اور نہ ہی محض روایتی شہرت کے سہارے آگے بڑھے۔ ان کی 'راک سٹار'، 'برفی' اور حالیہ برسوں میں آنے والی فلم 'اینیمل' اس بات کی گواہ ہیں کہ وہ کردار کی گہرائی میں اترنے اور انسانی جذبات کی پیچیدگی کو پردۂ سیمیں پر منتقل کرنے کا غیر معمولی ہنر رکھتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ان کا نام اس عالمی فہرست میں شامل ہونا ایک اچانک واقعہ نہیں بلکہ ان کی اداکاری کو خراج تحسین ہے۔

Caption

رنبیـر کی اصل طاقت صرف اداکاری تک محدود نہیں بلکہ وہ ایک بدلتے ہوئے ثقافتی منظرنامے کے نمائندہ بھی ہیں۔ انہوں نے بارہا ایسے کرداروں کا انتخاب کیا جو روایتی ہیرو کے سانچے سے ہٹ کر تھے، ایسے کردار جو کمزور بھی ہیں، سوال بھی کرتے ہیں اور اپنے اندر کی کشمکش سے بھی گزرتے ہیں۔ اس طرح انہوں نے نہ صرف ناظرین کے ذوق کو متاثر کیا بلکہ ہندوستانی سینما کے بیانیے کو بھی ایک نئی جہت عطا کی۔
لیکن ٹائم 100 صرف ایک فرد کی کامیابی کا جشن نہیں، بلکہ یہ مختلف میدانوں میں اثر انداز ہونے والی شخصیات کا مجموعہ ہے۔
سندر پچائی کے بارے میں ٹائم میگزن کے پروفائل میں کہا گیا کہ ’بہت کم رہنماؤں نے مصنوعی ذہانت کو اتنے وسیع پیمانے پر لوگوں تک پہنچایا ہے جتنا کہ انہوں (پچائی) نے پہنچایا۔
اس میں مزید کہا گیا کہ ’2015 میں گوگل کے سی ای او بننے کے بعد، انہوں نے گوگل کی تحقیقی کامیابیوں کو ان مصنوعات میں ڈھالنے اور نافذ کرنے کی نگرانی کی جو اربوں افراد استعمال کر رہے ہیں۔'
اس میں یہ بھی کہا کیا گیا کہ اگرچہ گوگل کو قائم ہوئے 27 برس ہو چکے ہیں، مگر پچائی کی قیادت نے 'اسٹارٹ اَپ جیسی تیزی اور لچک' کو برقرار رکھا ہے، اور گوگل اے آئی سٹوڈیو، نوٹ بک ایل ایم، جمنائی سی ایل آئی، اور اینٹی گریویٹی جیسے جدید مصنوعی ذہانت کے منصوبے متعارف کرائے ہیں۔
امریکی انڈین شیف اور مصنف وکاس کھنا کے بارے میں ٹائم کے پروفائل میں انہیں ’غیر معمولی دل رکھنے والا انسان‘ قرار دیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا کہ ’ان کی سخاوت صرف باورچی خانے تک محدود نہیں بلکہ دنیا بھر کی برادریوں تک ہمدردی، وقار اور گہرے احساسِ ذمہ داری کے ساتھ پہنچتی ہے۔ وکاس کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ زندگی کے ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے جڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور کھانے کو ایک عالمی زبان کے طور پر استعمال کرتے ہوئے برادریوں اور اقوام کے فاصلے کم کرتے اور باہمی سمجھ بوجھ کو فروغ دیتے ہیں۔

بنگلہ دیش کے نئے وزیر اعظم طارق رحمان ٹائم میگزین کی بااثر شخصیات کی فہرست میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)

پروفائل میں مزید کہا گیا کہ وکاس کھنہ اپنی ثقافت کو ’بے حد فخر‘ کے ساتھ اپنے ساتھ لیے پھرتے ہیں، اور انڈین روایات کی رنگا رنگی کو اس انداز میں پیش کرتے ہیں کہ وہ عالمی ناظرین کے لیے بھی قابلِ فہم اور بامعنی بن جاتی ہیں۔
ان کے پروفائل میں یہ بھی کہا گیا کہ 'بنگلو‘ کے ذریعے انہوں نے محض ایک ریستوران نہیں بنایا بلکہ اسے ایک جیتی جاگتی کہانی کی صورت دے دی ہے۔
اگرچہ ابھی پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف دنیا کی توجہ کا مرکز ہیں لیکن وہ اس فہرست میں جگہ بنانے میں ناکام رہے ہیں۔
ان کے برعکس ٹائم میگزن نے بنگلہ دیش کے نئے وزیر اعظم طارق رحمان کے بارے میں اپنے پروفائل میں لکھا: 'چند ہی ماہ پیچھے جائیں تو (طارق) جنوب مغربی لندن کے پُرسکون اور سرسبز علاقے میں جلاوطنی کی ایک بے فکری بھری زندگی گزار رہے تھے۔ مگر سنہ 2024 میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے نے 57 سالہ اس سیاسی خانوادے کے چشم و چراغ کو ایک احتجاجی رہنما سے مستقبل کے قومی قائد میں بدل دیا،  یہ ایک ایسی تقدیر ہے جسے انہوں نے فروری میں شاندار انتخابی فتح کے ذریعے پورا کیا، جب وہ 17 برس کی جلاوطنی کے بعد اپنے وطن سے دوری ختم کرنے میں کامیاب ہوئے۔'
ٹائم میگزن  کے مطابق 35 سالہ نیپالی سابق ہپ ہاپ گلوکار بالیندر شاہ مارچ میں ہمالیائی ملک کے کم عمر ترین وزیرِ اعظم منتخب ہوئے۔
بھاری اکثریت سے حاصل ہونے والی ان کی فتح دراصل موسمِ خزاں میں ہونے والے پُرتشدد عوامی مظاہروں کا نتیجہ تھی، جن کی قیادت نئی نسل یعنی جنریشن زی نے کی، جو ایک ایسی پرانی سیاسی قیادت کو ہٹانے کے لیے پُرعزم تھی جسے بدعنوان اور عوام سے کٹا ہوا سمجھا جا رہا تھا۔
اسی پس منظر میں شاہ، جو عام طور پر ’بالین‘ کے نام سے جانے جاتے ہیں، سامنے آئے، بطورسول انجینئرنگ فارغ التحصیل، جن کی سٹیج پر سنجیدہ اور پراثر موجودگی اور کرپٹ حکام پر تند و تیز تنقید نے انہیں چار برس قبل کھٹمنڈو کا میئر بنایا اور اب وہ تین کروڑ آبادی والے نیپال کے رہنما بن چکے ہیں۔

شیئر: