بلوچستان: خضدار میں فائرنگ سے دو پولیس اہلکار ہلاک، مستونگ میں فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپ
اتوار 19 اپریل 2026 17:48
زین الدین احمد، -اردو نیوز، کوئٹہ
زخمی اہلکاروں اور لاشوں کو سول ہسپتال خضدار منتقل کر دیا گیا ہے جہاں زخمیوں کو طبی امداد دی جا رہی ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
بلوچستان کے ضلع خضدار میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے دو پولیس اہلکار ہلاک جبکہ دو زخمی ہو گئے ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق واقعہ اتوار کو خضدار کے علاقے باغبانہ میں باجوئی کھنڈوزئی کے مقام پر پیش آیا۔
پولیس تھانہ باغبانہ کے اہلکار سرکاری گاڑی میں چوری کی واردات میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مارنے جارہے تھے۔
خضدار پولیس کنٹرول کے مطابق راستے میں موٹرسائیکل پر سوار نامعلوم نقاب پوش مسلح افراد نے ان پر فائرنگ کر دی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے نتیجے میں ہیڈ کانسٹیبل سمیع اللہ اور لیڈی کانسٹیبل ملک ناز موقع پر ہی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ ایڈیشنل ایس ایچ او محمد ابراہیم اور کانسٹیبل نجیب اللہ زخمی ہوئے۔
زخمی اہلکاروں اور لاشوں کو سول ہسپتال خضدار منتقل کر دیا گیا ہے جہاں زخمیوں کو طبی امداد دی جا رہی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کی شناخت اور گرفتاری کے لیے کوششیں شروع کردی گئی ہیں تاہم واقعے کی ذمہ داری اب تک کسی گروہ نے قبول نہیں کی۔
ادھر ضلع مستونگ کے علاقے دشت کمبیلا میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے ایک آپریشن کیا گیا جہاں فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں پولیس کی اینٹی ٹیررازم فورس (اے ٹی ایف) کے دو اہلکار زخمی ہوئے ہیں جبکہ علاقے میں سرچ آپریشن تاحال جاری ہے۔
مستونگ ہی کے علاقے کنڈ مسوری میں موٹرسائیکلوں پر سوار درجن سےزائد عسکریت پسندوں کی جانب سے مبینہ طور پر ناکہ بندی کی گئی۔ اس دوران نہ رکنے پر ایک پک اپ گاڑی پر فائرنگ کی گئی۔
پولیس کے مطابق فائرنگ سے گاڑی سوار دو افراد عبد الرحیم اور فیض محمد زخمی ہوگئے جنہیں بعد ازاں نواب غوث بخش ہسپتال منتقل کیا گیا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی سکیورٹی فورسز موقع پر پہنچ گئیں جس پر ان کا مسلح افراد کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوگیا۔
