’پیٹرول کی قیمت ایک ڈالر فی لیٹر سے بھی کم،‘ افغانستان تیل کے بحران سے کیسے بچا رہا؟
’پیٹرول کی قیمت ایک ڈالر فی لیٹر سے بھی کم،‘ افغانستان تیل کے بحران سے کیسے بچا رہا؟
جمعہ 10 اپریل 2026 19:02
دنیا کے کم ترقی یافتہ ممالک میں شامل افغانستان میں توانائی کا استعمال بھی نہایت کم ہے (فوٹو:اے ایف پی)
آبنائے ہرمز کی ایک ماہ طویل بندش نے جہاں بیشتر ایشیائی ممالک کو توانائی کے بحران میں مبتلا کر دیا، وہیں افغانستان میں ایندھن اور گیس کی قیمتیں خطے میں سب سے کم رہیں۔ یہ ایک خاموش کامیابی تھی جو افغانستان کو برسوں کے تجربات سے حاصل ہوئی۔
عرب نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق افغان دارالحکومت میں پٹرول کی قیمت ایک ڈالر فی لیٹر سے کم رہی، جبکہ ڈیزل اس سے صرف چند سینٹ زیادہ قیمت پر فروخت ہوتا رہا۔
دنیا کے کئی ممالک میں جہاں بڑھتی ہوئی ٹرانسپورٹ لاگت کے باعث پٹرول پمپوں پر ایندھن کی خریداری محدود کر دی گئی اور گھر سے کام کرنے کی پالیسیاں نافذ ہوئیں، وہیں افغانستان میں نہ مارکیٹ کے رجحان میں کوئی تبدیلی آئی اور نہ ہی سپلائی متاثر ہوئی۔
کابل میں رؤوفی پٹرول پمپ کے منیجر احمد یوسف رؤوفی کے مطابق، ’دنیا کے مقابلے میں یہاں صورتِ حال بہتر ہے۔ ہمارے صارفین میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، ٹیکسیوں اور بسوں کے کرایے بھی جوں کے توں ہیں۔‘
اس کے برعکس پڑوسی ملک پاکستان میں ایندھن کی قیمتوں میں 40 فیصد سے زائد اضافہ ہوا، جہاں پٹرول 1.6 ڈالر اور ڈیزل تقریباً 1.9 ڈالر فی لیٹر تک جا پہنچا۔
رؤوفی نے کہا کہ ’ہم پاکستان سے بہتر ہیں۔ یہاں مارکیٹ متنوع ہے اور ٹیکس کم ہیں۔ ہم آبنائے ہرمز کے ذریعے درآمدات پر انحصار نہیں کرتے۔‘
دنیا کے کم ترقی یافتہ ممالک میں شامل افغانستان میں توانائی کا استعمال بھی نہایت کم ہے۔ 4 کروڑ 50 لاکھ آبادی والے اس ملک میں توانائی زیادہ استعمال کرنے والی صنعتیں نہ ہونے کے برابر ہیں، جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں یہی شعبے توانائی کی سب سے بڑی کھپت رکھتے ہیں۔
پاکستان میں ایندھن کی قیمتوں میں 40 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا اور پٹرول کی قیمت 1.6 ڈالر فی لیٹر ہو گئی (فوٹو: اے ایف پی)
تاہم سپلائی کے حوالے سے ہمسایہ ممالک سے تعلقات بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
خشکی میں گھرا افغانستان کئی دہائیوں سے گوشت، آٹا، چاول، خوردنی تیل اور ادویات جیسی ضروری اشیا کے لیے پاکستان پر انحصار کرتا رہا ہے۔ کشیدگی کے دوران افغان حکام اکثر پاکستان پر سرحدی راستے بند کر کے سیاسی دباؤ ڈالنے کا الزام لگاتے رہے، جس سے قیمتیں یکدم بڑھ جاتی تھیں۔
افغان وزارتِ خارجہ کے اقتصادی امور کے ڈائریکٹر شفیع اعظم کے مطابق، ’جب بھی سرحد بند ہوتی، آٹے کی قیمت چند سو افغانی بڑھ جاتی تھی۔ پاکستان ان راستوں کو ہمارے خلاف سیاسی دباؤ کے طور پر استعمال کرتا تھا۔‘
اگرچہ پاکستان اب بھی افغانستان کا اہم تجارتی شراکت دار ہے، خاص طور پر برآمدات کے لیے، مگر افغان حکام نے درآمدات پر انحصار کم کرنے کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
اس کی ابتدا سابق مغرب نواز حکومت نے کی، اور 2021 میں امریکی افواج کے افغانستان سے انخلا اور طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد بھی یہی حکمتِ عملی برقرار رہی۔
سابق حکومت نے آٹے اور خوردنی تیل کی درآمد کے لیے وسطی ایشیائی ممالک کا انتخاب کیا، جن میں روس، ازبکستان اور قازقستان شامل ہیں۔ طالبان نے ادویات کے معاملے میں بھی ایسا ہی کیا جو پہلے 80 فیصد پاکستان سے درآمد ہوتی تھیں اور گزشتہ برس اکتوبر میں دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی تو افغانستان نے بنگلہ دیش، انڈیا، ترکی اور ازبکستان کی منڈیوں کا رُخ کیا۔
توانائی کے ذرائع میں تنوع بھی اسی پالیسی کا حصہ ہے۔ وزارت صنعت و تجارت کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں افغانستان نے پٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی درآمدات پر تقریباً 2.5 ارب ڈالر خرچ کیے۔
اگرچہ ایران روایتی طور پر افغانستان کو توانائی فراہم کرنے والا اہم ملک رہا ہے، لیکن اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق حالیہ مہینوں میں وسطی ایشیائی ممالک سے مستحکم درآمدات نے ایندھن کی قیمتوں کو اکتوبر 2024 کے بعد کم ترین سطح پر رکھا۔
امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ کے باعث گزشتہ ماہ کے آغاز پر جب مشرق وسطیٰ سے ایندھن کی برآمدات متاثر ہوئیں تو اسی تنوع نے افغانستان کو جنوبی ایشیا اور مشرق بعید کے دیگر ممالک کے برعکس بحران سے بچائے رکھا۔
شفیع اعظم کے مطابق، ’آپ اگر افغانستان کا موازنہ پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، نیپال، چین یا دیگر ممالک سے کریں تو یہاں قیمتیں سب سے کم ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’خوش قسمتی سے افغانستان صرف ایران پر انحصار نہیں کرتا۔ ہم ترکمانستان، آذربائیجان اور روس سے بھی درآمدات کرتے ہیں۔ ہم نے متبادل منڈیوں پر کام کیا ہے۔ ہم اگر صرف ایک مارکیٹ پر انحصار کریں تو یہ ہم پر دبائو ڈالنے کا ایک حربہ بن سکتا ہے۔‘