اسلام آباد میں متوقع امریکہ ایران مذاکرات: دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات قبول نہیں، باقر قالیباف
صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ میں پہلے ہی ایک روز کا اضافہ کر چکے ہیں (فوٹو: روئٹرز)
ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار اور پارلیمانی سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ تہران امریکہ کے ساتھ ایسی بات چیت کو قبول نہیں کرتا جس کے پیچھے دھمکیاں ہوں جبکہ وائٹ ہاؤس نے خبردار کیا کہ ’کوئی غلطی نہ کریں۔‘
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق محمد باقر قالیباف نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مذاکرات کی میز کو ’ہتھیار ڈالنے کی میز‘ میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔
دوسری جانب اسلام میں آباد امریکہ ایران مذاکرات کے دوسرے دور کے حوالے سے ابھی فضا پوری طرح صاف نہیں ہوئی اور ایران کا موقف ہے کہ ’ابھی اس بارے میں فیصلہ نہیں ہوا۔‘
تاہم دوسری جانب امریکی ویب سائٹ ایکسیوس نے تین امریکی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس کے آج (منگل) صبح پاکستان کے لیے روانہ ہونے کی توقع ہے جہاں پر ایک ایسا معاہدہ ہونے کا امکان ہے جس سے جنگ کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔
رپورٹ میں جے ڈی وینس کے پاکستان کے دورے کو بہت اہمیت کا حامل قرار دیا گیا ہے کیونکہ ایران کے ساتھ امریکہ کی جنگ بندی کا معاہدہ ختم ہونے کے قریب ہے جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی دھمکی دے چکے ہیں کہ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں ایران کے پلوں اور پلانٹس پر بمباری کی نئی لہر شروع کی جائے گی۔
اس سے قبل بھی امریکی میڈیا پر جے ڈی وینس کے دوسرے سے متعلق متضاد خبریں سامنے آتی رہی ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے اگرچہ اس قلیل وقت میں ایک مکمل معاہدے کی تشکیل مشکل ہو گی لیکن اگر پیش رفت کے آثار دکھائی دیے تو صدر ٹرمپ ڈیڈلائن میں توسیع پر بھی راضی ہو سکتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے ڈیڈلائن میں پہلے ہی ایک روز کا اضافہ کیا جا چکا ہے، دو ہفتے کی جنگ بندی کے حساب سے آخری روز منگل کا بنتا ہے تاہم صدر ٹرمپ نے کچھ روز قبل ایک بیان میں ڈیڈلائن کے طور پر بدھ کی شام کا ذکر کیا تھا۔
منگل کی صبح وائٹ ہاؤس کی جانب سے ایکس پر کی گئی ایک پوسٹ میں لکھا گیا ہے کہ ’کوئی غلطی نہ کریں، صدر ٹرمپ امریکہ کو ایران کے ساتھ ایک اور تباہ کن معاہدے میں نہیں گھسیٹیں گے۔‘
جبکہ اسی پوسٹ میں نیچے صدر ٹرمپ کا بیان بھی شامل ہے جس میں لفظ ٹرمپ کو بڑے انگریزی حروف میں لکھا گیا ہے، جس کے ایک معنی فتح کے بھی ہیں۔
پوسٹ کے مطابق ’اگر ’ٹرمپ‘ کے تحت کوئی ڈیل ہوتی ہے تو وہ نہ صرف اسرائیل و مشرق وسطیٰ بلکہ یورپ، امریکہ اور ہر جگہ کے لیے امن، سلامتی اور تحفظ کی ضمانت دے گی۔‘
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز کہا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ امریکہ جوہری معاہدہ جو ایران کے ساتھ طے کر رہا ہے، وہ 2015 میں طے پانے والے بین الاقوامی معاہدے سے بہتر ہوگا جس کا مقصد تہران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنا تھا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے سیاسی مخالفین ڈیموکریٹس پر تنقید کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ’جو معاہدہ ہم ایران کے ساتھ کر رہے ہیں وہ جے سی پی او اے سے کہیں بہتر ہوگا، جسے عام طور پر ’ایران جوہری معاہدہ‘ کہا جاتا ہے۔‘