ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار اور پارلیمانی سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ تہران کو امریکہ کے ساتھ ایسے مذاکرات قبول نہیں جس کے پیچھے دھمکیاں ہوں۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق محمد باقر قالیباف نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مذاکرات کی میز کو ’ہتھیار ڈالنے کی میز‘ میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔
اسلام آباد میں تعینات ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے بھی منگل کو ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ ایران کسی دھمکی یا طاقت کے زیرِ اثر مذاکرات نہیں کرے گا۔
مزید پڑھیں
-
میرے نمائندے مذاکرات کے لیے اسلام آباد جا رہے ہیں: صدر ٹرمپNode ID: 903216
-
ایران کے ساتھ نیا معاہدہ پرانے سے بہتر ہوگا: صدر ٹرمپNode ID: 903276
’یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کوئی بھی بڑا تہذیب رکھنے والا ملک کسی دھمکی اور طاقت کے زیرِ اثر مذاکرات نہیں کرے گا۔‘
انہوں نے مزید لکھا کہ یہ ایک اہم، اسلامی اور مذہبی اصول ہے۔ کاش امریکہ اس بات کو سمجھتا۔‘
دوسری جانب اسلام آباد میں امریکہ ایران مذاکرات کے دوسرے دور کے حوالے سے ابھی فضا پوری طرح صاف نہیں ہوئی اور ایران کا موقف ہے کہ ’ابھی اس بارے میں فیصلہ نہیں ہوا۔‘
It's a truth universally acknowledged that a single country in possession of a large Civilisation, will Not negotiate under Threat and Force.
This is a substantial, Islamic and theological principle.
I wish the US would have perceived ...
— Reza Amiri Moghadam (@IranAmbPak) April 21, 2026
تاہم دوسری جانب امریکی ویب سائٹ ایکسیوس نے تین امریکی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس کے آج (منگل) صبح پاکستان کے لیے روانہ ہونے کی توقع ہے جہاں پر ایک ایسا معاہدہ ہونے کا امکان ہے جس سے جنگ کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔
رپورٹ میں جے ڈی وینس کے پاکستان کے دورے کو بہت اہمیت کا حامل قرار دیا گیا ہے کیونکہ ایران کے ساتھ امریکہ کی جنگ بندی کا معاہدہ ختم ہونے کے قریب ہے جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی دھمکی دے چکے ہیں کہ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں ایران کے پلوں اور پلانٹس پر بمباری کی نئی لہر شروع کی جائے گی۔
اس سے قبل بھی امریکی میڈیا پر جے ڈی وینس کے دوسرے سے متعلق متضاد خبریں سامنے آتی رہی ہیں۔
Make no mistake, President Trump won't drag the United States into another disastrous deal with Iran.
"If a Deal happens under “TRUMP,” it will guarantee Peace, Security, and Safety, not only for Israel and the Middle East, but for Europe, America, and everywhere else." -… pic.twitter.com/GtQ7zQXyLy
— The White House (@WhiteHouse) April 21, 2026
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے اگرچہ اس قلیل وقت میں ایک مکمل معاہدے کی تشکیل مشکل ہو گی لیکن اگر پیش رفت کے آثار دکھائی دیے تو صدر ٹرمپ ڈیڈلائن میں توسیع پر بھی راضی ہو سکتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے ڈیڈلائن میں پہلے ہی ایک روز کا اضافہ کیا جا چکا ہے، دو ہفتے کی جنگ بندی کے حساب سے آخری روز منگل کا بنتا ہے تاہم صدر ٹرمپ نے کچھ روز قبل ایک بیان میں ڈیڈلائن کے طور پر بدھ کی شام کا ذکر کیا تھا۔
منگل کی صبح وائٹ ہاؤس کی جانب سے ایکس پر کی گئی ایک پوسٹ میں لکھا گیا ہے اگر ایران کے ساتھ کوئی ڈیل ہوتی ہے تو وہ نہ صرف اسرائیل و مشرق وسطیٰ بلکہ یورپ، امریکہ اور ہر جگہ کے لیے امن، سلامتی اور تحفظ کی ضمانت دے گی۔













