Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی ایران سے مذاکرات کے لیے پاکستان روانگی تاخیر کا شکار

جے ڈی وینس کی پاکستان روانگی حالیہ رپورٹس کے مطابق منگل کی صبح کے لیے مقرر تھی۔ (فوٹو: اے ایف پی)
وائٹ ہاؤس سے کہا ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، جنہوں نے پاکستان میں ایران کے ساتھ متوقع مذاکرات کے دوسرے دور میں امریکی وفد کی قیادت کرنی ہے، منگل کی دوپہر تک واشنگٹن میں ہی موجود تھے تاکہ اجلاسوں میں شرکت کر سکیں۔
وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے شام 1700  جی ایم ٹی کے فوراً بعد فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بھیجے گئے مختصر بیان میں کہا کہ ’وائٹ ہاؤس میں مزید پالیسی اجلاس جاری ہیں جن میں نائب صدر شرکت کریں گے۔‘
اہلکار نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں، تاہم جے ڈی وینس کی پاکستان روانگی حالیہ رپورٹس کے مطابق منگل کی صبح کے لیے مقرر تھی۔
دوسری جانب ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق ’امریکہ کے ساتھ جنگ بندی آدھی رات  ختم ہو جائے گی۔‘
ایرانی سرکاری ٹی وی نے کہا ہے کہ 8 اپریل سے نافذ امریکہ کے ساتھ جنگ بندی بدھ کی صبح (تہران کے وقت کے مطابق 3:30 بجے (ختم ہو جائے گی۔
یہ وقت اس بات سے مطابقت رکھتا ہے جب 14 روزہ جنگ بندی کا آغاز ہوا تھا، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں کہا تھا کہ یہ ایک دن بعد، یعنی بدھ کی شام واشنگٹن کے وقت کے مطابق ختم ہوگی۔
وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم  ایکس پر لکھا کہ ’جنگ بندی 22 اپریل کو صبح 4:50 بجے (پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق) ختم ہوگی۔‘
صدر ٹرمپ نے بلومبرگ سے گفتگو میں بدھ کی شام کی آخری تاریخ دی تھی اور کہا تھا کہ ’بہت کم امکان‘ ہے کہ وہ جنگ بندی میں توسیع پر رضامند ہوں گے۔
عطا تارڑ نے کہا کہ پاکستان نے متحارب فریقین کو اسلام آباد میں مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے مدعو کیا ہے، تاہم ایران نے ابھی تک باضابطہ طور پر جواب نہیں دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ جنگ بندی کے ختم ہونے سے پہلے تہران کا فیصلہ ’انتہائی اہم‘ ہے۔
اس کے فوراً بعد ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ شرکت کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ’اس کی وجہ فیصلہ نہ کر پانا نہیں ہے بلکہ یہ ہے کہ ہمیں امریکی جانب سے متضاد پیغامات، متضاد رویے اور ناقابل قبول اقدامات کا سامنا ہے۔‘

شیئر: