امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں ایران کے خلاف جاری جنگ کے حوالے سے متعدد متضاد بیانات دیے ہیں۔
ایک طرف صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں جنگ ختم کرنے کی کوئی جلدی نہیں، جبکہ دوسری جانب انہوں نے امید ظاہر کی کہ جلد ہی ایران کے ساتھ مزید مذاکرات پاکستان میں ہوں گے۔
امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق 14 روزہ جنگ بندی کا اختتام بدھ کو ہو رہا ہے، اور اس دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹیلی فون انٹرویوز اور سوشل میڈیا پر کبھی معاہدے کے حوالے سے امید ظاہر کی تو کبھی خبردار کیا کہ اگر ڈیڈلائن تک اتفاق نہ ہوا تو ’بے شمار بم گرنا شروع ہو جائیں گے۔‘
مزید پڑھیں
-
ایران کے ساتھ نیا معاہدہ پرانے سے بہتر ہوگا: صدر ٹرمپNode ID: 903276
-
ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع نہیں چاہتا: صدر ٹرمپNode ID: 903305
ان کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی اپنے مذاکراتی وفد کو نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں دوبارہ اسلام آباد بھیجنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ مذاکرات کا دوسرا دور ہو سکے۔
تاہم ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ اس وقت تک بات چیت میں شامل نہیں ہوگا جب تک امریکہ اپنے مطالبات میں نرمی نہیں لاتا۔
ایرانی چیف مذاکرات کار اور پارلیمنٹ سپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکہ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا چاہتا ہے اور کہا کہ ’ایران اس کے برعکس جنگ کے میدان میں نئے پتے بکھیرنے کی تیاری کر رہا ہے۔‘
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ’ایران کے مطالبات ماننے تک مجھے جنگ ختم کرنے کے لیے کسی دباؤ کا سامنا نہیں۔‘
انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا کہ ’مجھے کوئی پریشر نہیں ہے حتیٰ کہ یہ سب نسبتاً بہت جلدی ہوا۔‘
پاکستانی حکام نے امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے نئے دور کی تیاریاں شروع کر دی ہیں، جبکہ جنگ بندی کے باوجود آبنائے ہُرمز کے قریب جھڑپوں کے باعث صورت حال کشیدہ ہو گئی ہے۔
صدر ٹرمپ نے بلومبرگ نیوز کو انٹرویو میں کہا کہ ’جنگ بندی میں توسیع کا امکان مشکل ہی ہے۔‘

دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں ایک ایرانی جہاز کو روک کر قبضے میں لے لیا، جس کے بارے میں کہا گیا کہ وہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی سے بچنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس کے جواب میں ایران نے جہازوں پر فائرنگ کی اور آبنائے ہُرمز میں ٹریفک روک دی۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ’امریکی اقدامات سفارت کاری کے دعوے سے مطابقت نہیں رکھتے۔‘
ایران نے عندیہ دیا ہے کہ اسے امریکہ کی جانب سے نئی تجاویز موصول ہوئی ہیں، تاہم دونوں ممالک کے درمیان اب بھی واضح اختلافات موجود ہیں، جن میں ایران کا جوہری پروگرام، خطے میں اس کے اتحادی گروپس اور آبنائے ہرمز کا معاملہ شامل ہیں۔
خلیج فارس کو کھلے سمندر سے ملانے والی یہ آبنائے عالمی تیل کی تجارت کے لیے انتہائی اہم ہے اور دنیا کا قریباً پانچواں حصہ تیل اسی راستے سے گزرتا ہے۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ نے اپنے ناقدین کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، جو جنگ جلد ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ ’یہ کتنی بُری بات ہے کہ جب آپ مذاکرات کے بیچ میں ہوں اور آپ نے ایرانیوں کو ایک بہترین پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہو، یہاں تک کہ وہ عسکری طور پر بھی شکست کھا چکے ہوں، اور اس کے باوجود ڈیموکریٹس اور کچھ ریپبلکنز آپ سے کہہ رہے ہوں کہ ابھی معاملہ ختم کر دو؟‘
امریکی صدر نے سرمایہ کاروں کو بھی مطمئن کرنے کی کوشش کی، کیونکہ خلیج فارس کی کشیدہ صورت حال کے باعث سٹاک مارکیٹ میں کمی دیکھی گئی۔
انہوں نے اپنے توانائی کے وزیر کرس رائٹ سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر جنگ ختم ہو جائے تو پیٹرول کی قیمتیں تیزی سے کم ہو سکتی ہیں۔‘
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’میں ان سے مکمل طور پر اختلاف کرتا ہوں۔ مجھے لگتا ہے کہ اگر یہ ختم ہو جائے تو چیزیں بہت تیزی سے نیچے آجائیں گی۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’اگر ہم اسے ختم کر دیں، اگر ایران وہ کرے جو اسے کرنا چاہیے، تو یہ بہت تیزی سے نیچے آجائے گا۔‘












