دہلی میں ہیٹ ویو الرٹ، بچوں کو پانی پینے کی یاددہانی کے لیے گھنٹی بجانے کا حکم
دہلی میں ہیٹ ویو الرٹ، بچوں کو پانی پینے کی یاددہانی کے لیے گھنٹی بجانے کا حکم
بدھ 22 اپریل 2026 13:44
نئی دہلی میں سکولوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ باقاعدگی سے گھنٹیاں بجائیں تاکہ بچوں کو پانی پینے کی یاد دہانی کرائی جا سکے (فوٹو: گیٹی)
انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں گرمی کی شدت میں اضافے کے امکان کے باعث سکولوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ باقاعدگی سے گھنٹیاں بجائیں تاکہ بچوں کو پانی پینے کی یاد دہانی کرائی جا سکے۔
دہلی شدید گرمی کی لہر کا سامنا کرنے جا رہا ہے اور اس حوالے سے یہ ہدایت ایک نئے شہری حکم نامے میں کی گئی ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والے ملک میں گرمیوں کی شدت غیرمعمولی ہو سکتی ہے، جس سے لاکھوں افراد کی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2012 سے 2021 کے درمیان تقریباً 11 ہزار افراد لو لگنے کے باعث ہلاک ہوئے۔
مئی 2024 میں نئی دہلی میں گرمی کی لہر کے دوران درجۂ حرارت دارالحکومت کے سابقہ ریکارڈ کے برابر پہنچ گیا، جو سال 2022 میں 49.2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا تھا۔
یہ سال 1901 میں موسم کا باقاعدہ ریکارڈ رکھنے کے آغاز کے بعد انڈیا کا گرم ترین سال تھا، جب جھلسا دینے والی گرمی نے عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی کے باعث پیدا ہونے والے شدید موسمی رجحانات کی عکاسی کی۔
بدھ کی صبح نئی دہلی اور اس کے میٹروپولیٹن علاقے (جس کی آبادی تقریباً 3 کروڑ ہے) میں درجہ حرارت نسبتاً معتدل 29.4 ڈگری سینٹی گریڈ تھا۔
تاہم ماہرینِ موسمیات کے مطابق بدھ کے بعد درجہ حرارت 41 سے 43 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے اور ہفتے کے آخر تک 42 سے 44 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھنے کا امکان ہے۔
محکمۂ موسمیات نے دہلی کے لیے ’ییلو الرٹ‘ جاری کیا ہے، جو اس ہفتے کے آخر میں گرمی کی لہر کے امکان کی نشاندہی کرتا ہے۔
منگل کو دہلی کے محکمۂ تعلیم کی جانب سے جاری کردہ ہدایات میں سکولوں کو طلبہ کے تحفظ کے لیے متعدد اقدامات کرنے کا کہا گیا ہے۔
ان میں کھلے میدان میں جسمانی سرگرمیوں سے گریز اور طلبہ کو پانی پینے کی اہمیت کے بارے میں آگاہی سیشن منعقد کرنا شامل ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2012 سے 2021 کے درمیان تقریباً 11 ہزار افراد لو لگنے کے باعث ہلاک ہوئے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
ہدایت نامے میں کہا گیا کہ کھلی فضا میں ہونے والی اسمبلیوں کو محدود کیا جائے یا سایہ دار یا اندرونی مقامات پر مختصر دورانیے کے ساتھ منعقد کیا جائے، جبکہ کھلی فضا میں کلاسیں منعقد نہ کی جائیں۔
ان غیرروایتی ہدایات میں یہ بھی شامل ہے کہ سکول ’پانی کی گھنٹی‘ کا نظام شروع کریں تاکہ بچوں کو پانی پینے کی یاد دہانی کرائی جا سکے اور جسم میں پانی کی کمی سے بچا جا سکے، جبکہ طلبہ جوڑوں کی صورت میں رہیں تاکہ وہ ایک دوسرے کا خیال رکھ سکیں۔
سرکلر میں کہا گیا ہے کہ سکول ’پانی کی گھنٹی‘ کا نظام نافذ کریں، جس کے تحت ہر 45 سے 60 منٹ کے وقفے سے بچوں کو پانی پلانے کی یادہانی کے لیے گھنٹی بجائی جائے۔
علاوہ ازیں ہر طالب علم کو سکول کے اوقات میں کسی دوسرے طالب علم کے ساتھ جوڑا جائے تاکہ وہ ایک دوسرے کا دھیان رکھ سکیں۔