پنجاب میں 5 برسوں کے دوران 1 لاکھ 5 ہزار 577 خواتین اغوا ہوئیں: رپورٹ میں انکشاف
رپورٹ کے مطابق صوبہ پنجاب میں 20 اپریل 2026 تک 3 ہزار 256 خواتین لاپتا ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کے صوبہ پنجاب میں پانچ برسوں کے دوران ایک لاکھ 5 ہزار 577 خواتین اغوا ہوئیں جبکہ 20 اپریل 2026 تک 3 ہزار 256 خواتین لاپتا ہیں۔
پنجاب میں پانچ سال کے دوران اغوا ہونے والی خواتین سے متعلق رپورٹ بدھ کو لاہور ہائی کورٹ میں پیش کی گئی۔
یہ رپورٹ آئی جی پنجاب پولیس راؤ عبد الکریم نے عدالت میں پیش کی جس میں یکم جنوری 2021 سے 31 دسمبر 2025 تک پانچ سال کا ڈیٹا شامل ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پانچ سال کے دوران صوبے میں خواتین کے اغوا کے ایک لاکھ 5 ہزار 244 کیسز درج ہوئے، جبکہ 80 ہزار 767 کیسز خواتین کے متعلقہ عدالتوں میں پیش ہونے پر خارج کر دیے گئے۔
اسی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو کیسز خارج ہوئے ان میں خواتین نے متعلقہ عدالتوں میں پسند کی شادی کرنے کا بیان دیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق مغوی خواتین کے 20 ہزار 613 کیسوں کے چالان عدالتوں میں پیش کیے گئے، مغوی خواتین کے 3 ہزار 864 زیرِتفتیش کیسز میں سے 612 کیسوں کے چالان تیاری کے مراحل میں ہیں۔
اسی طرح 1 ہزار 432 کیسز میں مدعیوں نے ملزمان نامزد کیے ہیں، جبکہ تاحال 1 ہزار 820 کیسز میں ملزمان نامعلوم افراد ہیں جن کے بارے میں تحقیقات ہو رہی ہیں۔
عدالت میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اغوا کے کیسوں میں ایڈیشنل آئی جی کی سربراہی میں ایک سپیشل یونٹ قائم کیا جا رہا ہے۔
ضلعی سطح پر اغوا کے کیسز کی تفتیش کے لیے ایس ایس پی کی سربراہی میں یونٹ بنائے جائیں گے اور آر پی او آفس میں فوکل پرسنز تعینات کیے جائیں گے۔
اس رپورٹ کے مطابق مقدس بی بی اغوا کیس میں پولیس افسران کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔ غلط تفتیش پر ڈی ایس پی غلام دستگیر کے خلاف انکوائری ہو رہی ہے۔
انسپکٹر اعجاز رسول، دو اے ایس آئیز احمد ندیم، محمد اشفاق اور افتخار علی ناقص تفتیش کے ذمہ دار ہیں اور انہیں میجر پینلٹی سزا سنائی گئی ہے۔
