لاہور: دو سوشل میڈیا انفلوئنسرز خواتین کے ساتھ مبینہ زیادتی، مقدمہ درج
منگل 7 اپریل 2026 16:16
ادیب یوسفزئی - اردو نیوز، لاہور
مدعی خاتون کے مطابق وہ انسٹاگرام پر مختلف برانڈز کے لیے پروموشنل ویڈیوز بناتی ہیں۔ (فائل فوٹو: روئٹرز)
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے پوش علاقے ڈیفنس فیز سی میں دو سوشل میڈیا انفلوئنسرز خواتین کے ساتھ مبینہ زیادتی کا واقعہ پیش آیا ہے۔
تھانہ ڈیفنس سی میں پولیس نے متاثرہ خاتون کی مدعیت مقدمہ درج کر لیا ہے جس میں تین افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 375 اے شامل کی گئی ہے جبکہ تفتیش جینڈر سیل کے سپرد کر دی گئی ہے۔
مدعی خاتون نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ انسٹاگرام پر مختلف برانڈز کے لیے پروموشنل ویڈیوز بناتی ہیں اور اسی نوعیت کے ایک کام کے سلسلے میں زوہیب نامی ایک شخص نے ان سے رابطہ کیا۔ اور خود کو ایک برانڈ سے منسلک ظاہر کرتے ہوئے ویڈیو شوٹ کے لیے سٹوڈیو آنے کی دعوت دی۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق ’پانچ اپریل کی شام چار بجے مدعی خاتون اپنی ایک دوست کے ہمراہ ڈیفنس میں ملزم کی جانب سے بتائے گئے مقام پر پہنچیں۔ وہاں ملزم نے فون پر کچھ دیر انتظار کرنے کا کہا اور بعد ازاں انہیں ایک گاڑی میں بٹھا کر ایک فلیٹ میں لے جایا گیا جو بظاہر سٹوڈیو نہیں تھا۔
’میں اپنی دوست کے ہمراہ بتائے ہوئے مقام پر پہنچی تو زوہیب نے کال کی اور پھر ایک گاڑی میں ہم دونوں کو فلیٹ پر لے گئے جہاں اس کا ایک دوسرا دوست بھی موجود تھا۔‘
مدعی خاتون کے مطابق جب ’انہیں صورت حال پر شبہ ہوا اور وہ وہاں سے نکلنے کی کوشش کرنے لگیں تو ملزم نے اسلحہ نکال کر انہیں روک لیا۔ کمرے میں موجود ملزم کے دوسرے دوست نے دروازہ بند کر دیا اور دونوں خواتین کو تشدد کا نشانہ بنایا۔‘
’اس کے بعد ملزمان نے مبینہ طور پر اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی اور دونوں کو تشدد کر کے زخمی بھی کیا۔‘
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں اور شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ حکام کے مطابق کیس کو جینڈر سیل کے حوالے کر دیا گیا ہے تاکہ متاثرہ خواتین کو قانونی اور نفسیاتی معاونت فراہم کی جا سکے۔
