Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

راولپنڈی: زیادتی کا شکار 15 سال کی لڑکی کے ہاں بچی کی پیدائش، ملزم گرفتار

راولپنڈی کے علاقے چاہ سلطان کی رہائشی 15 سال کی میٹرک کی طالبہ (شناخت چُھپانے کے لیے نام ظاہر نہیں کیا جا رہا) کی دو ماہ قبل طبیعت خراب ہوئی، جس پر اُس کی والدہ اُسے ایک نجی ہسپتال لے گئیں۔
ابتدائی طور پر والدہ نے بیٹی کی طبیعت کی خرابی کو معمولی سمجھا، مگر ہسپتال میں معائنے کے بعد معلوم ہوا کہ لڑکی سات ماہ سے حاملہ ہے۔
ہسپتال سے واپسی پر بیٹی نے والدہ کو بتایا کہ ہمارے جاننے والے ایک شخص، جس کا گھر میں آنا جانا ہے نے  اُسے کئی بار جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔
پیر کو متاثرہ بچی کی طبیعت زیادہ خراب ہوئی تو اس کی والدہ اسے بے نظیر بھٹو ہسپتال راولپنڈی لے گئیں، جہاں اُس کے ہاں بچی کی پیدائش ہوئی۔
اپنی بیٹی کے ہاں بچی کی پیدائش کے بعد والدہ نے راولپنڈی کے تھانہ وارث خان سے رجوع کیا اور اپنی مدعیت میں مقدمہ درج کروایا، جس کے بعد پولیس نے ایک شخص بلال سجاد کو گرفتار کر کے تفتیش شروع کردی۔
ایف آئی آر میں مدعیہ نے پولیس کو بتایا کہ اٹھال بھارہ کہو، اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے بلال سجاد کا ہمارے گھر آنا جانا تھا۔ اس نے میری بیٹی کے ساتھ زیادتی کی اور اسے دھمکی دی کہ اگر اس نے کسی کو بتایا تو وہ اس کی تصاویر خاندان تک پہنچا دے گا۔
دھمکیوں کے باعث متاثرہ لڑکی اور اس کے خاندان نے کچھ نہیں کہا، لیکن آخرکار پیر کو بچی کی پیدائش کے بعد راولپنڈی کے تھانہ وارث خان میں ایف آئی آر درج کروائی گئی۔
پولیس تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 15 سال کی لڑکی میٹرک کی طالبہ ہے جس کے ساتھ ملزم نے متعدد بار زیادتی کی اور اُسے مسلسل ڈراتا دھمکاتا رہا۔
مزید یہ کہ متاثرہ لڑکی کے والد خلیجی ملک میں ملازمت کرتے ہیں اور گھر پر اُس کا ایک بھائی ان کے ساتھ رہتا ہے جس کی عمر 18 سال بتائی جاتی ہے۔
پولیس کے مطابق پیدا ہونے والی بچی کی حالت تشویشناک ہے اور اسے انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں رکھا گیا ہے۔
راولپنڈی پولیس کے ایس پی راول سعد ارشد کا کہنا ہے کہ خواتین اور بچوں کے ساتھ زیادتی ناقابلِ قبول ہے اور ملزم کو قانون کے مطابق سخت سزا دلوائی جائے گی۔
راولپنڈی کے تھانہ وارث خان کے ایس ایچ او راجا تصدق نے اردو نیوز کو بتایا کہ زیرِ حراست ملزم پہلے متاثرہ خاندان کا پڑوسی تھا، اس لیے اُس کا گھر آنا جانا لگا رہا۔ اس کا متاثرہ خاندان سے کوئی قریبی رشتہ تو نہیں تھا، البتہ وہ انہیں جانتا تھا۔
 

شیئر: