Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’مقامی لوک داستانوں کا حصہ‘: قصیم ریجن میں ’جبل طمیہ‘ ایک قدرتی سیاحتی مقام

پہاڑ کے اطراف کا علاقہ دلکش صحرائی مناظر پر مشتمل ہے (فوٹو: ایس پی اے)
قصیم ریجن میں واقع ’جبل طمیہ‘ کا شما علاقے کے نمایاں جغرافیائی لینڈ مارک میں ہوتا ہے جو قدرتی خوبصورتی اور مقامی ورثے کی مضبوط موجودگی کے ساتھ سیاحوں کےلیے  پرکشش مقام ہے۔
سعودی خبررساں ایجنسی ’ایس پی اے‘ کے مطابق جبل طمیہ ایک کھلے صحرائی ماحول میں واقع ہے، جو مملکت کے مملکت کے متنوع زمینی و قدرتی وسائل کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ پہاڑ قصیم ریجن کے شمال مغرب میں عقلہ الصقور کمشنری کی حدود میں واقع ہے، یہ علاقہ قصیم، مدینہ منورہ شاہراہ پر واقع ہونے کی باعث مسافروں کے لیے نمایاں مقام کی حیثیت کا حامل ہے۔
طمیہ پہاڑ مخروطی شکل کا ہے، اس کی چوٹی تقریبا مستطیل نما ہے، جو سطح سمندر سے تقریبا 1300 میٹر بلند ہے۔ پہاڑ کی چوٹی کا ہموار رقبہ تقریبا 7 ہزار مربع میٹر ہے۔ کہا جاتا ہے اس کی سطح پر صحرائی کھمبی (ٹرفلز) بھی اگتی ہے۔
یہ پہاڑ مقامی لوک داستانوں میں خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ اس سے متعلق متعدد کہانیاں اور قصے نسل درنسل منتقل ہوتے آئے ہیں۔ کئی کہاوتیں بھی اس حوالے سے مشہور ہیں۔

عام طور پر مشہور کہانی کے برعکس یہ پہاڑ اصل میں آتش فشاں نہیں، بلکہ ایک قدرتی ارضیاتی تشکیل ہے۔
’جبل طمیہ‘ قصیم ریجن میں ایک نمایاں قدرتی سیاحتی مقام بن گیا ہے، جو صحرائی سیر، کیمپنگ، ہائیکنگ اور نیچر کی فوٹو گرافی میں دلچسپی رکھنے والوں کو اپنی جانب راغب کرتا ہے۔
اس علاقے میں خصوصا موسم بہار میں ملکی اور بین الاقوامی سیاحوں کی آمد بڑھ جاتی ہے۔

پہاڑ کے اطراف کا علاقہ دلکش صحرائی مناظر پر مشتمل ہے، جو بارشوں کے بعد خصوصا موسم بہار میں سرسبز ہو جاتا ہے۔
اس قدرتی ورثے کا تحفظ سیاحتی ترقی کے لیے اہم ہے، تاکہ داخلی سیاحت کو فروغ دیا جاسکے۔

 

شیئر: