Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی رائل ریزو میں ماحولیاتی کامیابی، 6 لاکھ 14 ہزار ہیکٹر اراضی کی بحالی

2030 تک 25 لاکھ ہیکٹر اراضی کی بحالی کا ہدف مقرر ہے۔(فوٹو: ایس پی اے)
کنگ عبدالعزیز رائل ریزرو ڈیوپلمنٹ اتھارٹی نے ایک ماحولیاتی کامیابی کا اعلان کیا ہے۔ ریزرو میں 6 لاکھ 14 ہزار ہیکٹر اراضی کی بحالی مکمل کی گئی ہے۔
سعودی خبررساں ایجنسی کے مطابق ایس پی اے کے مطابق یہ مملکت میں مجموعی ماحولیاتی کامیابوں کے قومی ہدف کا 60 فیصد ہے۔ سال 2030 تک 25 لاکھ ہیکٹر اراضی کی بحالی کا ہدف مقرر ہے۔
اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئرماہر القثمی کا کہنا ہے’ یہ کامیابی ادارے کی منظم حکمت عملی کا نتیجہ ہے،جو دانشمندانہ قیادت کی رہنمائی میں ماحولیاتی پائیداری کے اہداف کے حصول کے لیے جاری ہے۔‘
انہوں نے بتایا ’ بحال کی گئی اراضی کا کل رقبہ 614312.92 ہیکٹر ہے، جو قومی سطح پر حاصل ہونے والی کامیابی کا بڑا حصہ ہے۔ اس سے عملی منصوبوں کی موثریت اور زمینی اثرات واضح ہوتے ہیں۔ یہ پیش رفت سعودی گرین انیشیٹیو اور وژن 2030 کے اہداف سے ہم آہنگ ہے۔‘
انہوں نے بتایا’ اتھارٹی ایک جامع حکمت عملی کے تحت کام کررہی ہے،جس میں صرف اراضی کی بحالی ہی نہیں بلکہ مٹی کے معیار کو بہتر بنانا، ماحولیاتی نظام کو مستحکم کرنا اور جنگلی حیات کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا شامل ہے۔‘

’اس کے ساتھ ساتھ سرکاری، نجی اورغیرمنافع بخش اداروں کے ساتھ شراکت داری کو فروغ دے کر شجرکاری اوراراضی کی بحالی کے منصوبوں کو جدید زرعی وماحولیاتی ٹیکنالوجی کے ذریعے نافذ کیا جارہا ہے۔‘
ان اقدامات کے تحت ریزرو میں نباتات کی سطح میں نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے، جہاں 50 سے زائد مقامی پودوں کی اقسام کی افزائش میں اضافہ ہوا ہے۔
یہ پودے صحرائی ماحول سے ہم آہنگ ہونے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ مٹی کو مضبوط بنانے، کٹاو کو کم کرنے اور حیاتیاتی تنوع کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

خیال رہے گرین سعودی عرب انیشیٹیو کے تحت جاری سرگرمیوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
اتھارٹی کی کوششوں کے نتیجے میں اب تک ایک ملین ہیکٹر سے زائد اراضی کی بحالی کے علاوہ 159 ملین سے زیادہ درخت اگائے جا چکے ہیں۔
یہ اقدامات صحرا کے پھیلاو اور موسمیاتی تبدیلی جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قومی حکمت عملی کا حصہ ہیں، جو معیار زندگی کو بہتر بنانے اور وژن 2030 کے اہداف کے حصو میں معاون ثابت ہوں گے۔

 

شیئر: