غزہ میں عام طور پر ملوخیہ یعنی پٹ سن کے پتوں سے سوپ تیار کیا جاتا ہے لیکن ابو یحییٰ ہیلس ان خشک اور مسلے گئے پتوں کو مائع نکوٹین میں بھگو کر انہیں سگریٹ کی شکل میں لپیٹتے ہیں تاکہ تمباکو کا متبادل بنایا جا سکے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جنگ سے تباہ حال غزہ میں اشیائے ضروریہ کی شدید قلت اب بھی برقرار ہے، جہاں کچھ لوگ اب ابو یحییٰ ہیلس کے بنائے ہوئے گھریلو سگریٹ استعمال کر رہے ہیں کیونکہ اسرائیلی ناکہ بندی کے باعث سگریٹ کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔
وہ جانتے ہیں کہ ان کے بنائے ہوئے سگریٹ اصل تمباکو کا متبادل نہیں ہیں، مگر جب ایک سگریٹ کی قیمت ایک اسرائیلی شیکل سے بڑھ کر 30 سے 40 شیکل (تقریباً 33 سینٹ سے 10 تا 13 ڈالر) تک پہنچ گئی ہے تو ان کے پاس خریداروں کی کمی نہیں۔
مزید پڑھیں
-
چوہے اور پسوؤں نے غزہ کے بے گھر افراد کی زندگی اجیرنNode ID: 903304
انہوں نے سگریٹ تیار کرنے کے دوران اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ کسی بھی طرح سگریٹ کا متبادل نہیں، کیونکہ آخرکار یہ نکوٹین ملے ہوئے ملوخیہ کے پتے ہی تو ہیں۔‘
غزہ شہر کی ایک مصروف سڑک پر قائم اپنے عارضی سٹال میں وہ سرنج کے ذریعے خشک پٹ سن کے پتوں کے تھیلے میں مائع نکوٹین داخل کرتے ہیں۔ اس کے لیے وہ ایک کلو کی بڑی بوتل استعمال کرتے ہیں، جیسی بوتلیں اکثر اسرائیلی فوج غزہ میں داخل ہونے والے ٹرکوں سے ضبط کر لیتی ہے۔
وہ پلاسٹک کے چھوٹے تھیلے کو ہلا کر پتوں میں نکوٹین جذب کرتے ہیں، پھر سگریٹ پیپرز میں اس ’تمباکو‘ کو لپیٹ دیتے ہیں۔

سڑک کے دونوں طرف اگرچہ جنگ کے دوران تباہ ہونے والی عمارتوں کے ملبے کے بڑے بڑے ڈھیر لگے ہوئے ہیں، لیکن پھر بھی وہاں خاصی چہل پہل ہے۔
مقامی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اکتوبر 2025 کی جنگ بندی کے باوجود ملبہ ہٹانے کے لیے درکار مشینری اور تعمیر نو کے لیے ضروری سامان اب تک نہیں لا سکے۔
53 سالہ نیوین سمیر کہتی ہیں کہ وہ 20 سال تک روزانہ ایک پیکٹ سگریٹ پیتی رہیں، لیکن اب ملوخیہ والے سگریٹ استعمال کر رہی ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’ان کا ذائقہ اور بو بہت خراب ہے۔ میں روز کئی سگریٹ پی لیتی ہوں، شاید اپنا غصہ نکالنے کے لیے، یا اس خیال سے کہ میں انہیں کافی کے ساتھ لطف اندوز ہو کر پی رہی ہوں۔‘
نیوین سمیر جنوبی شہر خان یونس میں ایک خیمے میں رہ رہی ہیں، کیونکہ ان کا گھر فضائی حملے میں تباہ ہو چکا ہے۔
زہریلے مادے؟
غزہ کے ایک اور سگریٹ فروش محمد ہیلس کا کہنا ہے کہ لوگ شوق سے نہیں بلکہ مجبوری میں ملوخیہ پی رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم نے درآمد شدہ سگریٹ کے متبادل کے طور پر نکوٹین ملے خشک ملوخیہ کے پتے پینا شروع کیے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ دوبارہ سگریٹ درآمد ہوں تاکہ ہم عام تمباکو پی سکیں۔‘
لیکن ملوخیہ کی فراہمی بھی یقینی نہیں چاہے وہ غزہ میں اُگائی جائے یا باہر سے لائی جائےکیونکہ اسرائیل تمام داخلی راستوں کے ساتھ ساتھ تقریباً نصف علاقے پر بھی کنٹرول رکھتا ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت کے مطابق، غزہ کی زرعی زمین کا صرف 4 فیصد حصہ ہی ایسا ہے جو فلسطینیوں کے لیے قابلِ رسائی اور جنگ سے محفوظ ہے۔

47 سالہ ابو محمد صقر نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’وہ جنگ کے بعد کی زندگی میں سکون پانے کے لیے سگریٹ پیتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’میں 13 سال کی عمر سے سگریٹ پی رہا ہوں۔ اب ملوخیہ کے سگریٹ اور پتے پیتا ہوں۔ مجھے اگر زہر بھی دے دیا جائے تو میں وہ بھی پی لوں گا۔ میرے پاس نہ زندگی ہے نہ مستقبل، جس کے لیے میں اپنی صحت بچاؤں۔‘
تاہم غزہ کے رہائشی ولید النائزی ان گھریلو مصنوعات کے بارے میں محتاط ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ سگریٹ ملوخیہ، ارنڈی کے پتوں اور دیگر جڑی بوٹیوں سے بنائے جاتے ہیں، اور ہمیں معلوم نہیں کہ یہ زہریلے ہیں یا نہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ان میں نامعلوم مائع مادے شامل کیے جاتے ہیں اور ہم کسی طور پر یہ نہیں جان سکتے کہ یہ واقعی نکوٹین ہے، زہر ہے یا پھر یہ کاکروچ مار دوا بھی ہو سکتی ہے۔‘












