Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران پر ’طے شدہ‘ حملے منسوخ کرنے کا اعلان

امریکی صدر نے کہا کہ ’حتمی معاہدہ ہونے تک ایران کی بحری ناکہ بندی مکمل طور پر جاری رہے گی‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ’طے شدہ‘ حملے منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ صدر ٹرمپ کا یہ بیان اُن کی اِن دھمکیوں کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا جن میں انہوں نے ایران پر مزید شدت کے ساتھ بمباری اور اس کے تیل برآمد کرنے کے اہم مرکز جزیرہ خارگ پر قبضہ کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر مجوزہ حملے منسوخ کرنے کا اعلان جمعرات کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر کیا۔
انہوں نے لکھا کہ ’اس حقیقت کی بنیاد پر کہ ایران کے ساتھ ہونے والی بات چیت اس کی اعلٰی ترین قیادت تک پہنچ چکی ہے اور اسے منظوری بھی حاصل ہو گئی ہے، میں بطور صدر ریاست ہائے متحدہ امریکہ آج رات ایران کے خلاف طے شدہ حملے اور بمباری منسوخ کرنے کا اعلان کرتا ہوں۔‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ، اسرائیل، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، ترکیہ، پاکستان، بحرین، کویت، اردن، مصر اور دیگر ممالک نے ’مذاکرات اور حتمی نکات‘ کی منظوری دے دی ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ایران کی بحری ناکہ بندی مکمل طور پر جاری رہے گی اور اس وقت تک نافذ العمل رہے گی جب تک معاہدہ حتمی شکل اختیار نہیں کر لیتا۔ دستخط کی تقریب کے وقت اور مقام کا اعلان جلد کیا جائے گا۔‘
ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ’فارس‘ نے اطلاع دی ہے کہ ممکنہ طور پر ایران اس معاہدے کی منظوری دے سکتا ہے حالانکہ اُس نے تاحال صدر ٹرمپ کے بیان پر کوئی باضابطہ جواب نہیں دیا۔ 
تین ایرانی ذرائع نے بتایا کہ ’بات چیت سیاسی مفاہمت تک پہنچ گئی ہے، تاہم بعض معاملات پر تفصیلی گفت و شنید باقی ہے، جن میں غیر ملکی بینکوں میں منجمد ایران کے اربوں ڈالر کے اثاثے اور انہیں منتقل کرنے کا طریقہ کار جیسے امور حل طلب ہیں۔‘

 ’ایران آبنائے ہُرمز پر اپنی گرفت کم کر دے گا اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی ختم ہو جائے گی‘ (فائل فوٹو: روئٹرز)

ذرائع نے مزید بتایا کہ ’اس معاہدے سے ایران آبنائے ہُرمز پر اپنی گرفت عارضی طور پر کم کر دے گا اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی ختم کر دی جائے گی۔‘
ایران کے جوہری پروگرام اور اس کے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے سے متعلق حل طلب سوالات کو مستقبل کے مذاکرات کے لیے چھوڑ دیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ بارہا یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ ایران کے ساتھ جلد ایک معاہدہ طے پانے والا ہے، تاہم ایرانی حکومت اِن دعوؤں کی تردید کرتی آئی ہے۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ امریکہ ایران پر ’جمعرات کی رات بہت شدید حملہ‘ کرے گا۔
انہوں نے دھمکی دی کہ ’ایران کی تیل و گیس کی صنعتوں اور اُس کے اہم خارگ جزیرے کا ’مکمل کنٹرول سنبھال لیا جائے گا اور ایسا ہونا ’زیادہ دُور نہیں۔‘
صدر ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا تھا کہ امریکہ ایران کے تیل کے ٹرمینلز پر کیسے قبضہ کرے گا، تاہم ایسی کسی بھی کارروائی کے لیے یقینی طور پر امریکی زمینی افواج کی شمولیت درکار ہوگی۔

صدر ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ ’ایران کے اہم خارگ جزیرے کا ’مکمل کنٹرول سنبھال لیا جائے گا‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

انہوں نے اس سے قبل بھی ایران میں امریکہ اسرائیل جنگ کے دوران خارگ جزیرے پر قبضے کی بات کی تھی، جو 28 فروری کو شروع ہوئی تھی۔
صدر ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر امن معاہدے کی کوششیں ناکام ہوئیں تو ایران کو ’بڑے پیمانے پر‘ نشانہ بنایا جائے گا جس کے بعد امریکی فوج نے ایران کے فوجی اہداف کے خلاف ایک اور مرحلے میں حملے کیے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق اس کی افواج نے کمانڈر ِان چیف کی ہدایت پر مزید دفاعی نوعیت کے حملے کیے ہیں۔
سینٹ کام نے بیان میں مزید کہا کہ امریکی افواج نے جمعرات کی صبح ایران بھر میں فوجی نگرانی کی صلاحیتوں، مواصلاتی نظام اور فضائی دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔‘
’امریکی میرین کور، فضائیہ اور بحریہ نے درست نشانہ لگانے والے ہتھیار استعمال کیے تاکہ ان اہداف کو تباہ کیا جا سکے جو امریکی افواج اور بین الاقوامی تجارتی جہاز رانی کے لیے خطرہ تھے۔‘
سینٹ کام کا کہنا تھا کہ یہ حملے ایران کی بلاجواز اور مسلسل جارحیت کے جواب میں کیے گئے ہیں اور امریکی افواج ’چوکنا، اور ہمہ وقت تیار‘ ہیں۔

شیئر: