امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ امریکہ ایران پر ’آج رات بہت شدید حملہ‘ کرے گا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں یہ دھمکی بھی دی کہ ’مستقبل میں ایران کی تیل و گیس کی صنعتوں اور ایران کے اہم خارگ جزیرے کا ’مکمل کنٹرول سنبھال لیا جائے گا اور ایسا ہونا ’زیادہ دور نہیں۔‘
عرب نیوز کے مطابق صدر ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ امریکہ ایران کے تیل کے ٹرمینلز پر کیسے قبضہ کرے گا، تاہم ایسی کسی بھی کارروائی کے لیے تقریباً یقینی طور پر امریکی زمینی افواج کی شمولیت درکار ہوگی۔
انہوں نے اس سے قبل بھی ایران میں امریکہ اسرائیل جنگ کے دوران خارگ جزیرے پر قبضے کی بات کی تھی، جو 28 فروری کو شروع ہوئی تھی۔
مزید پڑھیں
-
ٹرمپ کی ’سخت کارروائی‘ کی دھمکی کے بعد ایران پر فضائی حملےNode ID: 905230
-
ایران کے دوسرے روز بھی بحرین، کویت اور اردن پر حملےNode ID: 905236
خارگ جزیرہ ایران کی تیل کی برآمداتی صنعت کا مرکز ہے اور ملک کی کمزور معیشت کی ایک اہم بنیاد تصور کیا جاتا ہے۔ یہ ایران کے خلیجی ساحل سے کچھ فاصلے پر سٹریٹیجک اہمیت کے حامل آبنائے ہرمز کے شمال مغرب میں واقع ہے۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران مسلسل دوسرے دن بھی ایک دوسرے پر حملے کرتے رہے، جس سے مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر مکمل جنگ کے قریب پہنچ چکا ہے۔
ایران پر امریکی حملہ جمعرات کی صبح تک جاری رہا اور یہ پہلے دن کے مقابلے میں زیادہ شدید اور بڑے پیمانے پر دکھائی دیا۔
ایران کی وزارتِ خارجہ نے امریکہ کے تازہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’ان حملوں نے تقریباً دو ماہ سے جاری جنگ بندی کو ’عملاً بے معنی‘ بنا دیا ہے۔‘

وزارت نے اپنے بیان میں کہا کہ ’حالیہ چند گھنٹوں میں امریکہ کے غیر قانونی اور مجرمانہ حملے نہ صرف جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی ہیں بلکہ انہوں نے جنگ بندی کو عملی طور پر بے معنی بنا دیا ہیں۔‘
وزارت کے مطابق، امریکی قیادت پر اس مجرمانہ اقدام کے انتہائی سنگین نتائج کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ امن معاہدے کی کوششیں ناکام ہوئیں تو ایران کو ’بڑے پیمانے پر‘ نشانہ بنایا جائے گا جس کے بعد امریکی فوج نے ایران کے فوجی اہداف کے خلاف ایک اور مرحلے میں حملے کیے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق اس کی افواج نے کمانڈر ان چیف کی ہدایت پر مزید دفاعی نوعیت کے حملے کیے ہیں۔
سینٹکام نے اپنے سرکاری سوشل میڈیا بیان میں کہا کہ امریکی افواج نے جمعرات کی صبح ایران بھر میں فوجی نگرانی کی صلاحیتوں، مواصلاتی نظام اور فضائی دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
کمانڈ کے مطابق امریکی میرین کور، فضائیہ اور بحریہ نے درست نشانہ لگانے والے ہتھیار استعمال کیے تاکہ ان اہداف کو تباہ کیا جا سکے جو امریکی افواج اور بین الاقوامی تجارتی جہاز رانی کے لیے خطرہ تھے۔
سینٹکام نے کہا کہ ’یہ حملے ایران کی بلاجواز اور مسلسل جارحیت کے جواب میں کیے گئے ہیں۔‘ سینٹکام نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ امریکی افواج ’چوکنا، اور ہمہ وقت تیار‘ ہیں۔
سینٹکام نے اس سے قبل بتایا تھا کہ امریکی افواج نے مقامی وقت کے مطابق رات 12 بج کر 15 منٹ پر ایران کے مختلف اہداف پر ’مزید دفاعی حملے‘ شروع کیے۔
صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ سفارت کاری کے ساتھ ساتھ فوجی کارروائیاں بھی جاری رکھے گا۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم ان پر حملہ کریں گے، بہت سخت حملہ کریں گے‘، اور انہوں نے اس کی وجہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کو ہدف بنانا قرار دیا۔
صدر نے کہا کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم ایک ایسا معاہدہ چاہتے ہیں جو بامعنی اور قابلِ عمل ہو۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ایران اصولی طور پر ایٹمی ہتھیار حاصل نہ کرنے پر آمادہ ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے پر ابھی دستخط نہیں ہوئے۔

صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکہ خفیہ طور پر ایران سے ’لاکھوں بیرل تیل‘ نکال رہا ہے، اور اس کارروائی نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو تیزی سے بڑھنے سے روکا ہے۔
امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ ’حالیہ فوجی کارروائی کے بعد ایران کے لیے امریکہ کو مزید چیلنج کرنا ’دانش مندی نہیں ہوگی۔‘
انہوں نے کیوبا میں گوانتانامو بے کے امریکی بحری اڈے کے دورے کے دوران کہا کہ ’اس وقت یہ دفاعی حملے ہیں تاکہ ہم اپنے لوگوں کا تحفظ یقینی بنا سکیں۔‘
انہوں نے خبردار کیا کہ ’ایران کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ ہمارے صبر کا مزید امتحان نہ لے۔‘
پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ صدر ٹرمپ ایک ایسے معاہدے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں جو مستقل طور پر ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکے۔
انہوں نے کہا کہ ’صدر ٹرمپ ایک معاہدہ چاہتے ہیں، لیکن صرف کوئی بھی نہیں بلکہ ایک بہترین معاہدہ، تاکہ ایران کبھی ایٹمی ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔‘












