سعودی عرب کی خلیجی ممالک پر ایرانی حملوں کی مذمت، ’ پاکستان اور قطر کی سرپرستی میں تعمیری مذاکرات دوبارہ شروع کریں‘
سعودی عرب کی خلیجی ممالک پر ایرانی حملوں کی مذمت، ’ پاکستان اور قطر کی سرپرستی میں تعمیری مذاکرات دوبارہ شروع کریں‘
جمعرات 11 جون 2026 13:57
امریکہ کے جواب میں ایران نے بحرین، کویت اور اردن کو نشانہ بناتے ہوئے حملے کیے (فوٹو: روئٹرز)
سعودی عرب نے اردن، بحرین اور کویت پر ایران کی جانب سے بار بار ہونے والے حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ یہ مذمت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ان تینوں ممالک پر جوابی حملوں کا سلسلہ دوسرے روز بھی جاری رہا۔
جمعرات کو سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق برادر ممالک کی خودمختاری پر حملوں کا تسلسل خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا رہا ہے۔
سعودی وزارت خارجہ نے کشیدگی میں کمی اور تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیتے ہوئے تمام فریقوں سے اپیل کی کہ وہ دانشمندی کا مظاہرہ کریں، سفارتی کوششوں کی طرف واپس آئیں اور اسلامی جمہوریہ پاکستان اور ریاست قطر کی سرپرستی میں جاری تعمیری مذاکرات کو دوبارہ شروع کریں۔
عرب نیوز کے مطابق متحدہ عرب امارات نے بھی ’جارحانہ ایرانی حملوں‘ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ تینوں برادر ممالک کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی اور ان کی سلامتی و استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔
قطر اور مصر نے بھی ایرانی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے تہران کے اقدامات کو تینوں ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔
قطر کی وزارت خارجہ نے کہا کہ ایرانی حملوں کا دوبارہ آغاز ’ان ممالک کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کی واضح پامالی‘ ہے۔
وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ دوحہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ خطے کو ان بلاجواز حملوں کے نتائج سے محفوظ رکھا جائے اور علاقائی و بین الاقوامی سطح پر امن و استحکام کی بحالی کے لیے کشیدگی میں کمی کی کوششیں کی جائیں۔
کویتی وزارت خارجہ نے بھی اپنے ملک کے خلاف ’مسلسل، سنگین اور بار بار کی جانے والی ایرانی جارحیت‘ کی سخت مذمت کی۔
خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے سیکریٹری جنرل جاسم محمد البدیوی نے بھی ایک بیان میں بار بار ہونے والے ایرانی حملوں کی شدید مذمت کی اور بحرین، کویت اور اردن کی جانب سے اپنی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے تمام اقدامات کی حمایت کا اعادہ کیا۔
بحرین کی وزارت داخلہ نے بتایا کہ منامہ میں ایک 11 سالہ بچی زخمی ہوئی جبکہ متعدد گھروں کو نقصان پہنچا۔ (فوٹو: بحرینی وزارت اطلاعات)
بیان میں کہا گیا کہ ’یہ کھلی جارحیت ایک منظم جارحانہ طرزِ عمل کی عکاس ہے، جسے ریاستِ کویت نہ قبول کرے گی اور نہ ہی برداشت کرے گی۔ مزید یہ کہ یہ ریاست کویت کی خودمختاری کی صریح خلاف ورزی، بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے منشور کی واضح پامالی اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تہران کو مذاکرات میں تعطل کی صورت میں ’قیمت چکانے‘ کی تنبیہ کے بعد امریکہ نے جمعرات کی صبح ایران پر فضائی حملوں کا دوسرا دور شروع کیا۔
اس کے جواب میں ایران نے بحرین، کویت اور اردن کو نشانہ بناتے ہوئے حملے کیے۔
جمعرات کی صبح ہونے والے حملے کے بعد کویت نے کئی گھنٹوں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دی تھیں۔
کویت کے محکمہ شہری ہوابازی نے ایک بیان میں کہا کہ ’کویتی فضائی حدود میں فضائی ٹریفک معمول کے مطابق بحال ہو گئی ہے۔‘
سرکاری میڈیا کے مطابق اردن کے فضائی دفاعی نظام نے ایران کی جانب سے بلیو زون کی طرف داغے گئے 20 میزائلوں کو فضا میں تباہ کر دیا۔
بحرین کی وزارت داخلہ نے بتایا کہ ایرانی ڈرونز کو تباہ کیے جانے کے بعد گرنے والے ملبے کے باعث حمد سٹی اور دارالحکومت منامہ میں ایک 11 سالہ بچی زخمی ہوئی جبکہ متعدد گھروں کو نقصان پہنچا۔
کئی ہفتوں کی شدید بمباری کے باوجود ایران نے مزاحمت برقرار رکھی ہے (فوٹو: روئٹرز)
اس ہفتے فریقین کے درمیان جوابی حملوں کا یہ تیسرا سلسلہ ہے، جس نے دو ماہ سے قائم ایک غیر مستحکم جنگ بندی کو سخت آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ اس سلسلے کا آغاز اتوار اور پیر کی درمیانی شب ایران اور اسرائیل کے درمیان حملوں سے ہوا، جس کے بعد امریکا اور تہران کے درمیان دو مرحلوں میں جوابی کارروائیاں ہوئیں۔
صدر ٹرمپ نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کرے۔ انہوں نے اس ہفتے کے آغاز میں یہ عندیہ بھی دیا تھا کہ چند دنوں میں کسی معاہدے تک پہنچا جا سکتا ہے۔
تاہم کئی ہفتوں کی شدید بمباری کے باوجود ایران نے مزاحمت برقرار رکھی ہے۔ ایران کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کو مؤثر طور پر بند کرنے کی صلاحیت، جو تیل اور قدرتی گیس کی ترسیل کے لیے ایک نہایت اہم گزرگاہ ہے، اسے مذاکرات میں ایک مضبوط مؤقف فراہم کرتی ہے۔
اس کے باوجود ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دونوں ممالک تنازع کے خاتمے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں، بشرطیکہ وہ اپنے اپنے عوام کے سامنے اسے کامیابی کے طور پر پیش کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔