سعودی عرب اور جاپان کا علاقائی استحکام کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق
جمعرات 23 اپریل 2026 15:15
انی وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ جنگ بندی کو برقرار رکھنا اور کشیدگی میں کمی لانا ضروری ہے (فائل فوٹو: سعودی وزات خارجہ)
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور جاپان کی وزیراعظم ثنائی تاکائچی نے امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے دوران خطے میں سکیورٹی قائم کرنے میں مدد کرنے پر اتفاق کیا ہے، جس میں آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا بھی شامل ہے۔
سعودی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے جمعرات کو 30 منٹ تک ٹیلیفونک گفتگو کی۔
ثنائی تاکائچی نے مشرق وسطیٰ کے تنازع پر جاپان کا موقف واضح کیا اور اس بات پر زور دیا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مستقل معاہدے کی ضرورت ہے۔
جاپانی وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ جنگ بندی کو برقرار رکھنا اور کشیدگی میں کمی لانا ضروری ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ آبنائے ہرمز سے جہاز رانی جلد از جلد محفوظ تر ہو جائے گی۔
انہوں نے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کے لیے جاپان کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا، ثالثی کرنے والے ممالک کی سفارتی کوششوں کی تائید کی اور سفارتی حل کے لیے سعودی عرب اور عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنے کے جاپان کے عزم کو دہرایا۔
جاپانی وزیراعظم نے ایران کے حملوں کے نتیجے میں سعودی عرب کو پہنچنے والے جانی و مالی نقصان پر دلی تعزیت کا اظہار کیا۔
انہوں نے جاپان کو خام تیل کی اہم فراہمی پر سعودی عرب کا شکریہ ادا کیا اور توانائی کی سکیورٹی کو مستحکم کرنے کے لیے تعاون جاری رکھنے پر زور دیا۔
ثنائی تاکائچی نے جاپانی شہریوں کو ریاض کے راستے پڑوسی ممالک سے بحفاظت نکالنے میں مدد کرنے پر سعودی عرب کا شکریہ ادا کیا۔
سعودی ولی عہد نے جاپان اور عالمی منڈیوں کو توانائی کی مستحکم فراہمی کے سعودی عرب کے عزم کا اعادہ کیا جبکہ ان اقدامات کی حمایت کی جو علاقائی استحکام اور آبنائے ہرمز میں محفوظ گزرگاہ کے تصور کو تقویت دیتے ہیں۔
دونوں رہنماؤں نے سٹریٹجک پارٹنرشپ کونسل کے ذریعے تعلقات کو مزید گہرا کرنے کا عزم کیا جس میں ای-سپورٹس، گیمنگ، خلائی ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور سرمایہ کاری سمیت ریاض ایکسپو 2030 کے لیے تعاون کو ترجیح دی جائے گی۔
