Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں تین جہازوں پر فائرنگ، دو کو قبضے میں لے لیا

امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی نے اس راستے سے ہونے والی تقریباً تمام برآمدات کو متاثر کیا ہے (فوٹو: روئٹرز)
ایران نے بدھ کے روز آبنائے ہرمز میں تین جہازوں پر فائرنگ کی اور دو کو قبضے میں لے لیا، جس سے اس اہم عالمی گزرگاہ میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔
یہ پیش رفت اس وقت ہوئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی میں توسیع تو کی، مگر ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی برقرار رکھی۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں تعطل نے اس راستے سے ہونے والی تقریباً تمام برآمدات کو متاثر  کیا ہے، جہاں سے عام حالات میں دنیا کے 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب ایم ایس سی فرانسسکا اور ایپامینونڈاس نامی جہازوں کو ایران لے جا رہے ہیں، جبکہ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ یہ اقدام جنگ بندی کی خلاف ورزی نہیں کیونکہ یہ امریکی یا اسرائیلی جہاز نہیں تھے۔ اس سے قبل امریکہ بھی دو ایرانی جہاز قبضے میں لے چکا ہے۔
اس بحران کے باعث تیل کی عالمی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ یورپی یونین کے توانائی کمشنر ڈین یورگنسن نے خبردار کیا کہ یورپ کو روزانہ 50 کروڑ یورو کا نقصان ہو رہا ہے۔
ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے واضح کیا کہ مکمل جنگ بندی اسی صورت ممکن ہے جب امریکی ناکہ بندی ختم ہو۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی امریکہ پر غیر سنجیدگی کا الزام عائد کیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی میں توسیع تو کی ہے مگر ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی برقرار رکھی ہے (فوٹو: روئٹرز)

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ناکہ بندی کے آغاز سے اب تک 31 جہازوں کو واپس موڑا جا چکا ہے۔ ایران کے دارالحکومت تہران میں عوام اس غیر یقینی صورتحال سے پریشان ہیں۔
دوسری جانب لبنان میں اسرائیلی حملوں میں کم از کم 6 افراد ہلاک ہوئے، جن میں روزنامہ الاخبار سے وابستہ صحافی امل خلیل بھی شامل ہیں۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں کے مطابق ایک فرانسیسی امن اہلکار بھی ہلاک ہوا۔ جنگ کے آغاز سے اب تک ایران میں 3,375 اور  لبنان میں 2,290 سے زائد افراد جان گنوا چکے ہیں، جبکہ اسرائیل اور خلیجی ممالک میں بھی ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں۔

شیئر: