Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کوئٹہ: پولیس حراست میں نوجوان کی موت، والد کا پولیس پر بیٹے کو قتل کرنے کا الزام

ملزم کے والد کا الزام ہے کہ ان کے بیٹے کو چھ دن تک تشدد کا نشانہ بنایا گیا (فوٹو: ویڈیو گریب)
کوئٹہ میں پولیس حراست کے دوران ایک نوجوان کی پراسرار موت واقع ہوئی ہے۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ نوجوان نے خودکشی کی جبکہ اہل خانہ اس واقعے کو ماورائے عدالت قتل قرار دے رہے ہیں اور اس کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
پولیس کے مطابق کوئٹہ کے علاقے کیچی بیگ کے رہائشی 24/25 سالہ محمد اسرار قلندرانی کو گزشتہ روز نیو سریاب پولیس نے گرفتار کیا تھا۔
ڈی ایس پی شالکوٹ خضر حیات نے بتایا کہ چند ہفتے قبل نیو سریاب تھانے پر ہونے والے حملے کے باعث تھانے کو نقصان پہنچا تھا جس کے نتیجے میں ملزم کو تھانے کی بجائے درخشان پولیس چوکی کی حوالات میں رکھا گیا تھا۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ بدھ کی صبح ملزم نے اپنی ازار بند سے پھندا بنا کر خودکشی کر لی جس کے بعد لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بولان میڈیکل ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
پوسٹ مارٹم کرنے والے پولیس سرجن علی مردان کا کہنا ہے کہ ’بظاہر گلے میں پھندے کے علاوہ جسم پر کسی قسم کے تشدد کے نشانات موجود نہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ فارنزک نمونے لاہور لیبارٹری بھیج دیے گئے ہیں اور حتمی رپورٹ آنے کے بعد ہی یہ تعین ہو سکے گا کہ واقعہ قتل تھا یا خودکشی۔ 
پولیس سرجن نے مزید بتایا کہ جلد کے نمونے اور تصاویر بھی لی گئی ہیں جن سے یہ معلوم ہوگا کہ پھندا ازار بند سے بنایا گیا یا کسی اور چیز کا استعمال ہوا ہے۔
تاہم متوفی کے والد محمد انور نے پولیس کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے بیٹے کو چھ روز قبل گھر سے گرفتار کیا گیا اور نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے کوئٹہ کے مختلف تھانوں میں بیٹے کی تلاش کی لیکن پولیس نے گرفتاری کی تصدیق نہیں کی اور ہر جگہ یہی کہا گیا کہ محمد اسرار کسی تھانے کی حراست میں نہیں۔

 پولیس کے مطابق محمد اسرار کے خلاف پہلے بھی چوری، ڈکیتی اور رہزنی کے دوران قتل کے سنگین مقدمات درج تھے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

والد کے مطابق انکار کے بعد بدھ کو انہیں ایک پولیس افسر نے فون کرکے بتایا کہ ان کے بیٹے نے حوالات میں خودکشی کر لی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں خودکشی کیسے ممکن ہے؟ 
والد کا الزام ہے کہ ان کے بیٹے کو چھ دن تک تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور پھر پھانسی دی گئی اور یہ ماورائے عدالت قتل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر بیٹا کسی جرم میں ملوث تھا تو اسے عدالت میں پیش کیا جانا چاہیے تھا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی تحقیقات کرکے ملوث افسران اور اہلکاروں کو سزا دی جائے۔
دوسری جانب پولیس حکام نے واقعے سے متعلق ابتدائی رپورٹ مرتب کی ہے جس کے مطابق محمد اسرار پر نیو سریاب تھانے میں ایف آئی آر نمبر 39/26 درج تھی جس میں ڈکیتی اور اسلحے کے استعمال کی دفعات شامل تھیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ گرفتاری کے وقت ملزم سے ایک چھینی گئی موٹر سائیکل اور نائن ایم ایم پسٹل برآمد ہوئے تھے۔
پولیس کے مطابق محمد اسرار کے خلاف پہلے بھی چوری، ڈکیتی اور رہزنی کے دوران قتل کے سنگین مقدمات درج تھے۔
پولیس رپورٹ میں بھی موت کی وجہ خودکشی قرار دی گئی ہے۔
آئی جی پولیس بلوچستان نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے لاک اپ انچارج اور ڈیوٹی پر موجود تین اہلکاروں کو معطل کر دیا ہے اور محکمانہ انکوائری کا آغاز کر دیا ہے۔

شیئر: