مراکش کا محمد ششم ٹاور: وہ بلند عمارت جس نے افتتاح سے قبل ہی کرنسی نوٹ پر جگہ بنا لی
مراکش کا محمد ششم ٹاور: وہ بلند عمارت جس نے افتتاح سے قبل ہی کرنسی نوٹ پر جگہ بنا لی
ہفتہ 25 اپریل 2026 6:25
مراکش کے دارالحکومت کے تاریخی مناظر کے پس منظر میں 700 ملین ڈالر کی لاگت سے تعمیر کردہ 55 منزلہ فلک بوس عمارت کا افتتاح کر دیا گیا ہے۔
یہ منصوبہ ملک کے بڑھتے ہوئے عالمی عزائم کی عکاسی کرتا ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کی ایک رپورٹ کے مطابق شاہ محمد ششم کے نام سے منسوب اور راکٹ لانچ پیڈ سے متاثر 820 فٹ بلند ’محمد ششم ٹاور‘ میں والڈورف آسٹوریا کا پرتعیش ہوٹل، دفاتر، دکانیں، ریستوران اور مہنگے اپارٹمنٹس شامل ہیں۔
افریقہ کی بلند ترین عمارتوں میں شامل اس ٹاور کے بارے میں ترقیاتی کمپنی ’او ٹاور‘ کی ڈائریکٹر لیلیٰ ہداوی کا کہنا ہے کہ اس سے 450 براہ راست اور 3500 بالواسطہ ملازمتیں پیدا ہوں گی۔
یہ ٹاور دارالحکومت رباط کے جڑواں شہر ’سلے‘ میں واقع ہے جس کی تعمیر میں آٹھ برس کا عرصہ لگا اور ایک درجن سے زائد ممالک کے اڑھائی ہزار سے زائد کارکنوں نے حصہ لیا۔
اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ پہلے ہی مراکش کے 200 درہم کے نوٹ پر چھپ چکا ہے۔
لیلیٰ ہداوی کے مطابق اس منصوبے کے ذریعے مراکش رباط اور سلے کو بین الاقوامی نقشے پر لانا چاہتا ہے جنہیں سیاح اکثر نظر انداز کر دیتے تھے۔
افریقہ کا سب سے زیادہ سیاحوں والا ملک ہونے کے ناتے، مراکش معاشی طور پر سیاحت پر انحصار کرتا ہے اور اب ایسے وقت میں زیادہ سیاحوں کو راغب کرنا چاہتا ہے جب خطے کے تنازعات کے باعث مسافر محفوظ مقامات کا رخ کر رہے ہیں۔
یہ پیش رفت سنہ 2030 کے فٹ بال ورلڈ کپ کی میزبانی کی تیاریوں کا بھی حصہ ہے۔
یہ ٹاور پہلے ہی مراکش کے 200 درہم کے نوٹ پر چھپ چکا ہے (فائل فوٹو: آئی بی ایس ایس)
تاہم اس چمک دمک کے باوجود ناقدین کا کہنا ہے کہ ترقی کا زیادہ تر انحصار صرف مراکش کے بحر اوقیانوس کے کوریڈور تک محدود ہے جبکہ دیگر علاقے پسماندہ ہیں۔
گزشتہ برس نوجوانوں کی جانب سے بے روزگاری اور ناقص عوامی خدمات کے خلاف ہونے والے احتجاج ان شکایات کا منہ بولتا ثبوت تھے۔
اس ٹاور کا تصور 93 سالہ ارب پتی عثمان بن جلون نے پیش کیا تھا جو افریقہ کے ایک بااثر بینک ’بینک آف افریقہ‘ کے مالک ہیں۔
انتظامیہ کے مطابق سنہ 1969 میں ناسا کی جانب سے چاند مشن کی سیمولیشن میں شرکت کے بعد انہیں اس فلک بوس عمارت کا خیال آیا تھا۔
اس منصوبے کے حامیوں کے نزدیک یہ ٹاور افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں مراکش کی بڑھتی ہوئی ’سافٹ پاور‘ اور اس کے علاقائی کھلاڑی کے طور پر ابھرنے کے عزم کی علامت ہے۔